معلومات تک رسائی قبائلی علاقوں میں صحافت میں مشکلات بنا رہی ہیں

معلومات تک رسائی قبائلی علاقوں میں صحافت میں مشکلات بنا رہی ہیں

ابراہیم شنواری

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے تاہم ابھی تک صحافیوں کو معلومات تک رسائی میں اتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جتنا پہلے تھا۔ یہ اس بات کے باوجود کے اب قبائلی اضلاع میں بھی وہی قانون پر عمل کیا جاتا ہے جو خیبر پختونخوا میں کیا جاتا ہے۔

اپنے میڈیا کے اداروں کے لیے رپورٹنگ کرنے کے لیے افغانستان اور  پاکستان کے باڈر پر فوٹیج بنانے کے لیے ابھی بھی صحافیوں کو مقامی پولیس یا پھر مقامی سول انتظامیہ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

ان صحافیوں کو اپنے مقامی ضلعوں میں بھی کھل کر پھرنے پر پابندی ہے۔ ان کا پیچھا کیا جاتا ہے اور انٹیلی جنس کے بندوں کو ان کا پیچھا کرنے پر لگایا جاتا ہے، خاص طور پر ان مواقعوں پر جب وہ کسی خصوصی رپورٹ پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ابھی تک کیمرے کے استعمال کو ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے پاس نا تو ٹیلی فون تک کی رسائی ہے اور نا ہی انٹرنیٹ سروس کی۔ ان تمام رکاوٹوں کی وجہ سے ان قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے رپورٹنگ کے معیار کو کس بنیاد پر جانچا جائے؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو روزنامہ انگریزی کے رپورٹر فوزی خان کا کہنا ہے کہ ’ایک ایسی الجھن پیدا ہوئی ہے کہ نئے بنائے گئے ضلعوں میں صحافیوں کو یہ نہیں پتہ کہ انہوں نے کس کو رپورٹ کرنا ہے کیونکہ اس علاقے میں سکیورٹی والوں کے پاس حد سے زیادہ اختیارات موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مختلف محکموں کے سربراہ خود کسی کو معلومات بتانے سے قاصر اور اپنے سر سے یہ بوجھ اتار کر کسی اور کے اوپر ڈالنا چاہتے ہیں۔

’میں نے زراعت اور جنگلات کے محکموں کے سربراہان سے پچھلے ایک ماہ سے ملنے کی کوشش کی ہے تاہم ابھی تک انہوں نے مجھے وقت دینے سے انکار کیا ہے۔ میری رپورٹ کے لیے میں ان کے محکمے کے پچھلے دو سالوں سے پڑا ہوں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

ذاتی دھمکیوں کے علاوہ دہشت گردوں کی طرف سے حملہ ہو جانا قبائلی علاقوں میں کام نہ کرنے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ یہ ماننا ہے ایک بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے جنوبی اور شمالی وزیرستان کے صحافی عدنان بیٹنی کا۔

قبائلی علاقوں میں حال ہی میں چلنے والے پراجیکٹ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے سول انتظامیہ کافی ہچکچا رہی ہے کسی بھی سول انتظامیہ کے بندے کو پکڑنا اور اس سے کچھ بھی معلومات نکلوانا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ دور دراز علاقوں تک سفر کرنے میں سکیورٹی خدشات لاحق ہوتے ہیں۔

بیٹنی کا کہنا ہے کہ ان سے ابھی حال ہی میں جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروگہ تحصیل میں انٹیلی جنس والوں نے تفتیش کا نشانہ اس وقت بنایا جب وہ مقامی اسمبلی الیکشن کے لیے عوام سے ان کی رائے لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

جنوبی اور شمالی وزیرستان کے لوگوں میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ جو کوئی بھی بات کریں گے، انٹیلی جنس والوں تک ان کی بات کسی نا کسی طریقے سے پہنچ جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’موبائل فون سروس کو معطل کرنے سے ان کے کام میں کافی رکاوٹ آئی ہے اور الکٹرانک میڈیا کافی متاثر ہوا ہے۔ اس کے لیے ان کو پاس والے شہر تک سفر کرنا پڑتا تھا اور وہاں سے اپنی رپورٹ بھیجنی پڑتی تھی۔‘

جون 2016 سے عمل میں آنے والی اس نشریاتی پابندی کو نئے آنے والے وزیر اعظم عمران خان بھی دور نہیں کر سکے ہیں۔ جب سے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ جوڑ دیا ہے، حالات پہلے سے بھی بدتر ہوگئے ہیں – یہ ماننا ہے لنڈی کوتل پریس کلب کے سیکرٹیری عمران شنواری کا۔ اس کی وجہ سے وہاں سے چند آنے والی رپورٹوں نے بھی آنا بند ہوگئی ہیں۔ ہمارے پاس اب حکومت کی جانب سے لیے جانے والے کسی بھی اقدام کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے حالات سے حکومت کو واقف کرنے کے لیے ہمیں صوبائی وزیر برائے اطلاعات شوکت یوسف زئی سے ملنے کے لیے خیبر کے ایم پی اے اور وزیر برائے حج اور مذہبی معاملات کے پاس پہلے جانا پرا۔ یہ اس لیے کیونکہ شوکت نے ہمارے ان گنت درخواستوں کو ٹھکرا دیا۔

عمران کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے جو بھی وعدے کیے گئے تھے کہ دونوں علاقوں کو ایک کر دینے کے بعد حالات میں بہتری آئے گی وہ تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور اب صحافیوں کی آواز سننے کے لیے وہاں پر کوئی بھی موجود نہیں ہے۔

عمران نے تاہم یہ تجویز دی کہ سول انتظامیہ کو چاہیے کہ ایک ایسے شخص کو منتخب کریں جو ان صحافیوں کی آواز حکومت تک پہنچا سکے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -