سابق فاٹا کے علاقے میں میڈیا کو مدد کی ضرورت 

سابق فاٹا کے علاقے میں میڈیا کو مدد کی ضرورت 

ابراہیم شنواری

مئی 2018 میں 25 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کے سات نئے قبائلی اضلاع میں موجود میڈیا شدید مشکلات کا شکار ہے۔ 2000 میں فاٹا سیکرٹیریٹ نے ان سات اضلاع میں پریس کلب تعمیر کیے تھے لیکن ان میں خبروں کو میڈیا تک پہنچانے کے لیے جو ضروری ساز وسامان ہیں جس میں بجلی، انٹرنیٹ اور پینے کا پانی شامل ہیں – ان کی سہولت یہاں میسر نہیں۔

اورکزئی، خیبر پختونخوا اور جنوبی وزیرستان میں موجود صحافی کو اپنا کام سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سات میں سے چار پریس کلب کرائے کے گھروں میں موجود ہیں جن میں کوہاٹ فرنٹیر ریجن کا ڈیرہ آدم خیل، خیبر کا لنڈی کوتل، خیبر پختونخوا کے صدہ اور ہنگو کے اضلاع شامل ہیں۔ وانا اور جنوبی وزیر ستان میں صحافیوں کو ایک کمرے کی رہائش میسر ہے۔

ڈیرہ آدم خیل اور صدہ میں مقیم صحافیوں کا کہتے ہیں کہ انہیں اپنے پریس کلبوں کو اپنے ماہانہ کرایا دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ضلع انتظامیہ نے ان کو مالی امداد دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اورکزئی یونین آف جرنلسٹ کے صدر صلاح الد ین اورکزئی کا ماننا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ انتظامیہ نے پچھلے سال غلجو میں ایک پریس کلب تعمیر کیا تھا تاہم وہاں پر ابھی تک بجلی، انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور صاف پینے جیسی سہولیات موجود نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اورکزئی کے علاقے میں رپورٹنگ کرنے کے لیے صحافیوں کو پہلے وہاں موجود سکیورٹی افسروں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جب بےگھر خاندان واپس لوٹ رہے ہیں تو ان کو پیش آنے والے مسائل کی نمائندگی میڈیا ہی کر سکتا ہے۔

وانا سے تعلق رکھنے والے صحافی ظفر وزیر کا کہنا ہے کہ نشر ہونے والی تمام خبروں پر ایجنسیوں کی نظر ہوتی ہے۔

انٹرنیٹ اور بجلی کی سہولت ان کو پہنچانے کے بدلے میں یہ ایجنسی والے ان کی نشر ہونے والی رپورٹوں کا جائزہ لیتے ہیں اور اس وجہ سے صحافی آزاد رپورٹنگ سے قاصر ہیں۔ وانا میں پریس کلب کی عمارت کو طالبان نے آج سے 15 سال قبل تباہ کر دیا تھا جس کو آج تک دوبارہ تعمیر نہیں کروایا جاسکا ہے۔ حکومت چاہتی ہیں کہ پوری دنیا کو جنوبی وزیرستان میں ہونے والے واقعات سے بظاہر بےخبر رکھا جائے۔

میر علی پریس کلب کو 1998 میں شمالی وزیرستان میں تعمیر کیا گیا اور اسے قبائلی علاقوں میں پہلا تعمیر کیا جانے والا پریس کلب سمجھا جاتا ہے۔ اس کو 2015 میں آپریشن ضرب عضب میں تباہ کیا گیا اور ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں کروایا گیا۔ مقامی صحافی خود سے ہی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

پاس ہی میں موجود میران شاہ میں پریس کلب کافی بہتر حالات میں ہے۔ تاہم باقی صحافیوں کی طرح یہ صحافی بھی کھل کر رپورٹنگ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی تمام رپورٹنگ پر ایجنسیوں والوں کی نظر ہوتی ہے۔

25 ترمیم کے بعد کافی صحافیوں اور سیاسی کارکنان کا ماننا ہے کہ میڈیا کے کر دار میں اضافہ ہوا ہے۔ خیبر سے تعلق رکھنے والے صحافی سدھیر احمد کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ عام عوام کو نئی انتظامیہ اور عدالتی نظام کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ ان کو ان کی قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں پتہ چلے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے دور میں کافی قبائلی لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کا بھروسہ میڈیا پر ہی ہے اور سوشل میڈیا کے مقابلے میں ان کی رپورٹنگ پر زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ قبائلی علاقوں کا میڈیا زیادہ فعال اس وقت ہوگا جب ان پر بیرونی دباؤ نہ ڈالا جائے اور صحافیوں پر معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔

صلاح الد ین اورکزئی کا ماننا ہے کہ ہم ترقیاتی کاموں، فنڈ اور سوشل مسائل پر نظر اس وقت تک نہیں رکھ سکیں گے جب تک ہمارے پاس ایسا پریس موجود نہ ہو جو مکمل طور پر آزاد ہو اور جس کے پاس بجلی اور انٹرنیٹ کی سروس موجود ہو۔

اورکزئی نے اس کے علاوہ یہ کہا کہ ’اس وقت ہم کافی مسائل کا شکار ہیں کیونکہ ہمارے پاس عمارت میں رہنے لے لیے کرایہ دینے کے پیسے تک نہیں ہیں اور حکومت تک ہماری رسائی نہیں ہے۔‘

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -