سنسرشپ اور صحافیوں کے سامنے کرنے والے آن لائن اور آف لائن ہراساں واقعات

سنسرشپ اور صحافیوں کے سامنے کرنے والے آن لائن اور آف لائن ہراساں واقعات

ایف این ڈیٹا کا جائزہ – جولائی 2019

 فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے چلائی جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے جولائی 2019 میں صحافیوں پر حملوں کے پانچ کیس، زخمی ہونے کے دو، ایک قانونی اور ہراساں ہونے کے بھی دو واقعات نوٹ کیے گئے۔

ملک کے بڑے اور اہم صحافیوں کے خلاف ٹیوٹر پر مہم شروع کی گئی جس میں انہیں ہراساں کیا گیا۔

ان پانچ کیسوں میں سے دو سندھ اور اسلام آباد جبکہ ایک کیس پنجاب میں درج ہوا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پچھلے ماہ ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا۔

زخمی: نیو نیوز کے صحافی جاوید اقبال کو 7 جولائی کو پنجاب کے ضلع راجن پور میں اپنی رپورٹ درج کروانے پر زخمی کیا گیا۔ اس رپورٹ کی وجہ سے اکرم حجانہ اور شریف لنڈ  ناخوش تھے۔ جاوید کو ان دونوں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد صحافی کے زخموں کا علاج کروایا گیا۔

یکم جولائی کو جنگ کے رپورٹر منصف خواجہ کو کراچی کے علاقے قیوم آباد میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد صحافی کو ہسپتال لے جایا گیا۔ ایف آئی آر درج کروانے کے بعد پولیس نے چند گرفتاریاں عمل میں لائیں تاہم دونوں ملوث پارٹیوں کے آپس میں سمجھوتہ ہونے پر ایف آئی آر خارج کر دی گئی۔

حملہ: 17 جولائی کو سادہ لباس میں ملبوس انٹیلیجنس کے عملے نے مبینہ طور پر گلگت پریس کلب کے صدر اور روزنامہ خبریں کے صحافی خورشید احمد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ سکیورٹی اہلکار صحافی کی رپورٹنگ سے ناخوش تھے۔ اس کے باوجود علاقائی پولیس نے کیس درج کرنے سے گریز کیا۔ تاہم صحافی خود ہی ان کے ساتھ سمجھوتے پر رضامند ہو گئے۔

قانونی کیس: کراچی یونیورسٹی کی ایک استانی کو ہراساں کیے جانے کے سلسلے میں سما نیوز کی رپورٹر سونیا شہزاد کے نام پر وارنٹ جاری کیے گئے۔ رپورٹر نے اپنی کہانی کو اینٹی ہرایسمینٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ تاہم استانی نے صحافی کے خلاف کورٹ میں کیس درج کر دیا۔ کورٹ کے جج جاوید حیدر نے صحافی کے نام پر ضمانت مل جانے والے وارنٹ جاری کر دیئے۔ استانی نے کیس کورٹ میں اس لیے درج کروایا کیونکہ اس میڈیا کوریج سے ان کے والد اپنی جان گنوا چکے تھے۔

آن لائن ہراساں: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ اور نیشنل پریس کلب کی مشترکہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ 15 جولائی کو فیڈرل بیورو آف ریونیو نے صحافی حامد میر پر دوبئی میں پراپرٹی ہونے کا الزام لگایا تھا وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ صحافی نے اس پراپرٹی کی ملکیت سے انکار کر دیا اور اگلے روز ایف بی آر کی طرف سے معافی بھی صحافی کو موصول ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد حامد میر پر سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے کی مہم کو بھی کافی ہوا ملی۔

4 جولائی کو سوشل میڈیا پر تصاویر کے ساتھ ملک کے نامور صحافیوں کے خلاف ان کی گرفتاری کے حوالے سے مہم نے ہوا پکڑ لی۔ یہ مہم ٹیم آئی کے کے جان نثار کی طرف سے شروع ہوئی اور

اس میں صحافیوں کو انڈیا کا حامی اور پاکستان مخالف کہا گیا اور انہیں گرفتار کرنے کو کہا گیا۔

Online Threat

Online Threat2

ڈیجٹل رائٹس مانیٹر کا ماننا ہے کہ یہ  ہیش ٹیگ ’صحافیوں کو حراست میں لیا جائے‘ 3 یا 4 جولائی کو ٹیوٹر پر سامنے آیا تھا  اور 5 جولائی تک یہ کافی حاوی رہا۔ اس کے حوالے سے سو سے زیادہ ٹویٹس سامنے آئیں جن میں ان صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز باتیں لکھی گئیں تھیں اور ان کی ان باتوں پر مبنی تھیں جو تحریک انصاف کے خلاف تھیں۔ 4 جولائی کو اسی اکاؤنٹ سے  ٹویٹ کیا گیا کہ ’ہر شخص کو اپنا بورڈ پکڑ لینا چاہیے تاکہ ان صحافیوں کو حراست میں لایا جا سکے۔‘

اس مہم میں ٹارگٹ بنائے گئے صحافیوں میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، طلعت حسین، کامران خان، متی اللہ جان، نصرت جاوید، مبشر زیدی، عمر چیمہ اور دیگر شامل تھے۔

   قومی اور بین الاقو امی میڈیا حقوق کے اداروں نے اس واقعے پر غم و فکر کا اظہار کیا جبکہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس واقعے کو خیر اخلاقی قرار دیا۔

سینسرشپ: جولائی 2019 میں چار چینل جن میں جیو نیوز، اب تک، 24 نیوز اور کیپیٹل نیوز شامل ہیں کو مختلف اوقات پر کیبل سے ہٹا دیا گیا۔ 20 جولائی کو خیبر پختونخوا میں ہونے والے قبائلی الیکشن کے بعد 21 جولائی کو جیو نیوز کو کیبل سے ہٹا دیا گیا۔ 8 جولائی کو اب تک، 24 نیوز اور کیپیٹل نیوز کو ملک کے کیبل نیٹ ورک سے ہٹا دیا گیا – تاہم چند گھنٹوں بعد ہی ان کی نشریات بحال کر دی گئیں۔ ان چینلز کی بندش پر کوئی ٹھوس وجہ نہیں دی گئی لیکن مانا یہی جاتا ہے کہ  اپوزیشن لیڈر مریم نواز شریف کی رپورٹنگ – جس میں 6 جولائی کو ایک جج کی لیک کی گئی ویڈیو منظر عام پر آنے کے نتیجے میں نشریات بند کی گئیں تھیں۔

یکم جولائی کو سابق صدر آصف علی زرداری کا جیو نیوز کو دیئے جانے والے انٹرویو کو ٹی وی کی نشریات سے ہٹا دیا گیا۔ پروگرام کے میزبان حامد میر کا ماننا ہے کہ اس کے پیچھے حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کا ہاتھ ہے۔

11 جولائی کو اپوزیشن لیڈر مریم نواز شریف کا ہم نیوز کو دیئے جانے والے انٹرویو کو نشریات سے ہٹا دیا گیا۔ پروگرام کے میزبان ندیم ملک نے اس پر ٹویٹ کیا کہ ’مجھے ابھی علم ہوا ہے کہ مریم نواز کے ساتھ میرے انٹرویو کو براہ راست نشر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔‘

کلک کر کے جون 2019 کی ڈیٹا رپورٹ کا جائزہ لے لیں:

http://www.fnpk.org/a-journalist-blogger-murdered-in-june-2019/

پیمرا ایکشن میں

6 جولائی کو پیمرا نے چینلز کو نوٹس جاری کیے کیونکہ انہوں نے ایڈٹ کیے بغیر ہی مریم نواز کا انٹرویو نشر کر دیا جو عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف تھا اور پیمرا کے قوانین کے خلاف ہے۔

مختلف میڈیا کو دی جانے والی دھمکیاں، ان پر حملے اور انہیں ہراساں جانا

جولائی 2019 میں دو پرنٹ اور تین صحافیوں کو مختلف قسم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

 میڈیا اور صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیاں اور ہراساں کیے جانے والے واقعات

پانچوں کیسوں میں ریاستی ادا کار، مجرم گروہ اور دیگر لوگ شریک تھے۔

تصویر : بشکریہ گوگل

 

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -