پنجاب میں صحافیوں کو مشکلات

پنجاب میں صحافیوں کو مشکلات

شہزادہ عرفان

پچھلے سال میں پنجاب میں صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ریاستی اداروں کا پرانے چلتے ہوئے آنے والے کیسوں پر عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ یہ واقعات اس دور میں جنم لے رہے ہیں جب آزادی رائے رکھنے والوں کو خود سیکورٹی کے خدشات لاحق ہیں۔ ظلم و زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت رد عمل نہیں لیا جا رہا ہے۔ مجرمانہ انصاف کے نظام کو عملی جامعہ نہ پہنانے کی وجہ سے نشانہ بنائے گئے صحافیوں کو اکثر اوقات انصاف نہیں ملتا۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ کوئی بھی شخص آ کر صحافیوں کے ساتھ بد سلوکی کر سکتا ہے کیونکہ اسے پکڑے جانے کی پرواہ نہیں ہے۔

پنجاب میں موجود صحافیوں کو اس سال نا صرف ریاستی اداروں بلکہ پرائیویٹ مافیا گروہوں کی طرف سے  بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ صحافیوں کو کرپشن، جرائم اور نظام میں موجود خامیوں پر گفتگو یا تبصرے کرنے کی وجہ سے دھمکیاں ملنے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کی تنظیمیں صحافیوں کو تنخواہیں نہیں فراہم کر رہی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں موجود صحافیوں کا اس سے بھی برا حال ہے۔ وہ بغیر کسی تنخواہ کے کام کرتے ہیں اور مشکل آتے ہی ان کی تنظیمیں انہیں اکیلا چھوڑ دیتی ہیں۔ جب ریاستی طاقتوں اور مجرمانہ گروہ کی طرف سے گھیرا تنگ ہونا شروع ہو جاتا ہے تو ان کے مخاطب میڈیا تنظیمیں انہیں اکیلا چھوڑ دیتی ہیں۔ میڈیا والوں پر آنے والے دباؤ کی وجہ سے اکثر اوقات چینلز خبریں نشر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

مندرجہ ذیل چند کیس ہیں جن سے پنجاب میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

رضوان رضی ایک مشہور صحافی ہے۔ فروری 2019 میں ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھنے کے جرم میں ایف آئی اے نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس بات کے باوجود کے اس کو بیل مل گئی ایف آئی اے نے اس کی تکھڑیوں میں تصویر کو سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ اس کو اس کی رہائش سے گرفتار کیا گیا اور چند مسلح افراد نے اسے ایک گاڑی میں پھینک دیا۔ اس سے آس پاس کے علاقے میں خوف پھیل گیا۔

ملتان پریس کلب کے پاس ابدالی روڈ پر چند راہ گیروں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ دنا نیوز کا رپورٹر وہاں پہنچ کر ویڈیو بنانے لگا۔ ڈالفن فورس کے چار اہلکاروں نے رپورٹر سے اس کا موبائل چھینا اور اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک نے رپورٹر کو گھسیٹ کر رکشا میں بٹھایا اور اس سے سا کا میڈیا کارڈ بھی چھین لیا۔

حالات اتنے برے ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی کہ جو سلوک وہ صحافیوں کے ساتھ کر رہی ہے وہ عام عوام کے سامنے لایا جائے۔ سمبریال میں موجود ہسپتال میں چند مریضوں کی شکایت پر کہ ان کو سہولیات نہیں فراہم کی جا رہی سٹی 48 کے رپورٹر سلیم ساگر اور چند صحافی رپورٹنگ کے لیے ہسپتال پہنچ گئے۔ رپورٹروں نے مریضوں کی ویڈیو اور تصاویر بنانی شروع کر دیں۔ اس پر ہسپتال کے میڈیکل افسر انم اشرف نے صحافیوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اس کے بعد اس نے سیکورٹی والوں کو حکم دیا کہ ہسپتال کے دروازے بند کر دئیے جائیں تاکہ صحافی بھاگ نہ سکیں۔ اس کے بعد انم نے پولیس کو بلا لیا جنہوں نے تمام صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ وہ پولیس جو کسی جائے وقوعہ پر وقت پر نہیں پہنچتی، یہاں چند منٹوں میں پہنچ گئی۔

صحافیوں کو مشکل حالات میں رپورٹنگ کرنے کے حوالے سے ٹریننگ نہیں دی جاتی ہے۔ چینل 24 کے بشیر ملک کا کیس ہمارے سامنے ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ٹریننگ کتنی ضروری ہے۔ اپنے ذرائع سے وہ نواب شاہ ملنے گیا تاکہ ایک مافیا گروہ کے بارے میں اسے معلومات مل سکیں۔ ذرائع نے اسے بلانے کے لیے موٹر سائیکل پر ایک بندہ بھیجا۔ جب وہ راستے میں ہی تھا تو آٹھ بندوں نے اس پر ڈنڈوں اور گولیوں سے حملہ کر دیا۔ صحافی موقع پر ہی بے ہوش ہو گیا۔

اسی طرح بول نیوز کے مدصر کازمی کافی عرصے سے مافیا گروہ پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ پولیس نے لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔ ایک دن راجوہ سے چنوٹ جاتے ہوئے تین لوگوں جن میں آغا عباس، فخر عباس اور ایک نامعلوم شخص شامل تھے نے مدصر پر حملہ کر دیا اور اس کے کاندھے کی ہڈی توڑ دی۔

روزنامہ خبرین کے اللہ دین کلیار کا کیس کافی سنگین نوعیت کا ہے۔ یازمان بہاولپور کے نائب کمشنر کے علاوہ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور دیگر حکومتی افسر ان کے ساتھ 200 اور لوگ جو گھر گر آنے کی مہم میں شرکت کر رہے تھے کے موقع پر کے اللہ دین رپورٹنگ کر رہا تھا۔ اس کے لیے گاؤں کو خالی کروایا جا رہا تھا کیونکہ وہ حکومتی زمین پر بنا ہوا تھا۔ کلیار نے گاؤں والوں پر ہونے والا تشدد دیکھا جس کے نتیجے میں وہ خود زخمی ہو گیا۔ حملہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی لیکن کچھ فرق نہیں پڑا۔ البتہ کلیار کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی جس کی وجہ سے وہ جیل میں قید رہا۔

اکثر اوقات صحافی خبر کی تلاش میں خود خبر بن جاتے ہیں۔ نوائے وقت کے محمد جاوید صدیقی پولیس کے ساتھ اس مقام پر جا رہے تھے جہاں تین لوگوں کو حال ہی میں قتل کیا گیا تھا۔ جب جاوید مارے گئے والوں کے خاندان سے انٹرویو لے رہے تھے تو حملہ آور واپس آگئے اور فائرنگ شروع کر دی۔ اچانک وہاں سے پولیس فرار ہوگئی اور صحافی کو ایک گھر میں چھپنا پڑا۔ حملہ آوروں نے گھر پر بھی حملہ کیا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں صحافی کو گولیاں لگیں جس کے بعد اسے ڈی جی خان کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -