‘ریاستی اداروں کو ہماری حمایت میں نہیں، ہمارے تحفظ میں ہماری پشت پر آنا چاہیئے’

‘ریاستی اداروں کو ہماری حمایت میں نہیں، ہمارے تحفظ میں ہماری پشت پر آنا چاہیئے’

امتیاز خان فاران کراچی پریس کلب کے صدر ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک نے ان سے صحافیوں کو درپیش سکیورٹی کے مسائل پر بات کی۔

فریڈم نیٹ ورک: کراچی جو کہ ملک کا میڈیا کیپیٹل ہے۔ آپ کی نظر میں آپ کے شہر میں صحافیوں کو کس قسم کے خطرات لاحق ہیں؟

امتیازخان فرہان: 2013 سے تھوڑے مسائل کم ہوگئے تھے اور 2016 کے بعد سے معاملات کافی بہتر ہوگئے ہیں ورنہ اس سے پہلے ایک مشکل معاشرے سے زیادہ کراچی کی صورتحال خراب تھی۔ کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ جو ہمارے ساتھ چل رہا ہے یا نہیں، ہمارا دوست ہے یا دشمن لیکن اب 2016 کے بعد صورتحال بہتر ہوئی تھی لیکن اب پھر پانچ چھ ماہ کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ عامر سہروردی کے ساتھ ایک واقعہ ہوا، بہادر آباد میں۔ ہمارا جو کرائم رپورٹر ہے مطلوب جو سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ کا تھا اسے چار پانچ مہینے پہلے گھر سے اٹھایا گیا۔ بعد میں پتہ چلا پولیس کے سامنے پیش کیا گیا کہ بات کچھ اور تھی۔ اس کے علاوہ اگر آپ دیکھیں تو پریس کلب میں ایک واقعہ ہوا دسمبر میں کوشش کی گئی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب جو صورتحال ہے گذشتہ چھ سات ماہ سے اچھی نہیں ہے۔ اچھی نہ ہونے کی وجہ سے ایک حد تک صحافی برادری خوف کا شکار ہے لیکن میں یہ کہتا ہو کہ غم اور غصے کا زیادہ شکار ہے۔ یہ غصہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: ان خطرات کے پیچھے کون ہے؟ یہ خطرات کم کیوں نہیں ہوتے  اور کراچی پریس کلب ان خطرات سے صحافیوں کو بچانے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟

امتیازخان فرہان: ان خطرات کے پیچھے کون ہے شاید ہم اس کی تشریح نہ کر پائیں۔ کم کیوں نہیں ہو رہے؟ اس وجہ سے نہیں ہو رہے کہ ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ ہمارے پیچھے ریاست کو آنا چاہیئے، ریاستی اداروں کو آنا چاہیئے۔ ہماری حمایت میں نہیں آنا چاہیئے ہمارے تحفظ میں آنا چاہیئے۔ دیکھیےکوئی مائینس زیرو زیرو فیصد بھی کوئی صحافی ملک میں ریاست مخالف کام نہیں کر رہا ہے۔ اور اگر کہیں ہمیں اطلاع ملتی ہے تو ہم اس کی خود نشاندہی کرتے ہیں۔ اپنے موقف کے اظہار کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ریاست مخالف ہے۔ اس پر آپ ایک ڈیبیٹ بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح تو کسی کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے کہ آپ اینٹی اسٹیٹ ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے پیچھے جو سٹیٹ کو ہونا چاہیئے۔ ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ ہمارے ہاتھ میں تو قلم ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: میرا سوال یہ تھا کہ کراچی پریس کلب ان خطرات سے صحافیوں کو بچانے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟

امتیازخان فرہان: دیکھے۔۔ ہم کر رہے ہیں۔ سیمینار اور ورک شاپس ہوتی ہیں، ہم دنیا بھر میں رہتے ہیں لیکن اس پر بھی ہم اپنے پاکستان کی حرمت پر حرف نہیں آنے دیتے ہیں۔ ہمیں کہیں سے بھی کوئی شائبہ ہو جائے ہم اسے ختم کر دیتے ہیں۔ ہم جو بھی سمجھتے ہیں متاثر ہوسکتے ہیں ہم ان سے رابطے میں رہتے ہیں اور جو سکیورٹی کے ادارے ہیں ان سے بھی کو شش کرتے ہیں کہ اگر کسی کو شکایت ہو تو ہم اس سے بات کر کے اس کو حل کر دیں۔ لیکن سکیورٹی اداروں سے ہمیں شکایت ہے کہ انہیں کسی کے بارے میں یا اگر میرے بارے میں بھی شکایت ہے تو جو میرا ادارہ ہے، میرا کلب ہے اس سے بات کرنی چاہیئے۔ پہلے بھی کی ہے اور اب بھی ہم ان سے تعاون کریں گے۔ کلب ایک ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: کچھ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں پہلے صحافیوں کو غائب کیا گیا اور پھر ان پر پولیس کے ذریعے کیس درج کئے گئے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس طرح غائب کر دینے کا جو عمل ہے اس نے صحافی کمیونٹی کو کتنا خوفزدہ کیا ہے؟

امتیازخان فرہان: میں سمجھتا ہو خوف سے زیادہ غصہ آیا ہے۔ خوف چند لوگوں میں آیا ہے جسے میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ غائب کرنا کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ غائب کرتے ہیں تو میں یہ کہتا ہوں کہ پوری دنیا میں شور مچتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ابھی بین القوامی طور پر ایک تصویر ڈاؤن لوڈ کی گئی ہے جو کہ آئی ایف جے نے پوسٹ کی ہے کہ ’جرنلزم ناٹ اے کرائم‘۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسا غائب کرنے والا عمل کسی کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیئے اور خاص طور پر صحافی کے ساتھ تو ہر گز نہیں۔ ہماری کمیونٹی اس معاملے میں  اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی کیونکہ ہم کسی ریاست مخالف، مذہب مخاف، کے خلاف کبھی بھی نہ کھڑی ہوئی ہے نہ ہوگی۔

فریڈم نیٹ ورک:  آپ کیا سمجھتے ہیں ایسے کون سے فوری اقدام کرنے چاہئیں   جن سے صحافیوں کو اور پریس کی آذادی کو تحفظ دیا جاسکتا ہے؟

امتیازخان فرہان: وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں پریس کلب ہوں اور تمام ادارے کے لوگ اس میں شامل ہوں۔ مثال کے طور پر انسداد دہشت گردی نیکٹا موجود ہے۔ نیکٹا کو چاہیئے کہ ایک نیٹ ہمارے ساتھ بنائے۔ ہم اداروں کے لیے بہت زیادہ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ جناب بہت گروپس ہیں۔ تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ گورنمنٹ میں گروپس نہیں ہیں کیا؟ گورنمنٹ اتحادیوں کی نہیں ہے کیا اپوزیشن اتحادیوں کی نہیں ہے؟

فریڈم نیٹ ورک: ہم نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کے اظہار پر کئی صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے آئین میں جو آذادی اظہار  کا حق دیا گیا ہے وہ اب خطرے میں ہے؟

امتیازخان فرہان: بلکل خطرے میں ہے۔ اس میں میں دیکھ رہا ہو کہ 90 فیصد کمپوننٹ کو سامنے لایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو کہ میں بلکل ڈیفنیٹ ہوں  کیوں کہ میں ریاست مخالف کوئی بلاگز نہیں لکھ رہا ہوں اور میں کوئی ملک دشمن مواد شیئر نہیں کر رہا ہوں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا تو سٹیٹ میرے مخالف ہوتی۔ جو زیادہ تر کمپوننٹ ہیں ان کی اگر آپ انکوائری کریں گے تو وہ خود ایک وجہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اگر کوئی مسئلہ ہے  تو اس کا جائزہ لینا چاہیئے ورنہ تو بہت سارے معاملات اٹھ سکتے ہیں۔  پارلیمنٹ میں کس قسم کی گفتگو ہوتی ہے تو ایک قانون بنا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کی گفتگو کو آپ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے۔ مختلف حساس اداروں سے مختلف خبریں آرہی ہوتی ہیں۔ تو آپ کہیں گے کہ ان پر بات نہیں کرسکتے ہیں۔ جملوں کے انتخاب پر ضرور بات ہوسکتی ہے۔ جملوں کو نرم ہونا چاہیئے۔ لیکن اس بنیاد پر اگر آپ سائبر کرائم میں لے کر جائے گے تو میں یہ سمجھتا ہوکہ پھر وہی خوف سے زیادہ غم اورغصے کی کیفیت آئے گی جو میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ماحول ہونا چاہیئے۔ کیوں کہ پوری دنیا میں پاکستان جس طرح مانیٹر ہو رہا ہے ایسے کوئی اور ملک نہیں ہو رہا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں صحافیوں اور پریس کی آذادی کے لیے اپنا مطلوبہ کردار ادا کر رہے ہیں؟

امتیاز خان فرہان: کردار تو بہت دور کی بات ہے کسی قسم کا کردار ادا نہیں کر رہی بس وہ سادھا سا بیان دے دیتی ہے یا کہتی ہے کہ کچھ تو کیا ہوگا۔ آپ تو ایک دوسرے پر الزام بھی لگا رہے ہیں اور وضاحتیں بھی دے رہے ہیں۔ اگر عمران خان کی بات کریں جو وزیر اعظم ہیں تو وہ بائیس سال میں ایک ایک کو جانتے ہوں گے۔ برے وقت میں ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اگر نواز شریف کی بات کریں تو ان کے اچھے وقت میں بھی ہم ساتھ کھڑے ہوئے اور برے وقت میں بھی۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ  ابھی ان کا رابطہ اتنا نہیں ہے۔ اب اداروں کی طرف آپ آ جایں جو اس وقت حاضر سروس ہیں اور جو ریٹائر ہوچکے ہیں ان سب سے ہمارے یا ہمارے سینئیر کے تعلقات ہیں۔ میں سمجھتا ہو کہ حکومت  کے ساتھ ساتھ جو ادارے ہیں وفاقی اور صوبائی ادارے وہ بھی ویسا کام نہیں کر رہے جو ان کو کم از کم صحافت کے لیے کرنا چاہیئے۔ دیکھے میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میرا اور آپ کا تعلق میڈیا سے ہے۔ اگر آپ کچھ ایجاد کرتے ہیں نا تب بھی آپ کو میڈیا  کی ضرورت ہے۔ کوئی کارنامہ کرتے ہیں جب بھی آپ کو میڈیا کی ضرورت ہے۔ ملک میں گڑبڑ چل رہی ہے اس کو سامنے لانےکے لیے بھی میڈیا کی ضرورت ہے  لیکن آزاد میڈیا کی ضرورت ہے۔ اگر کنٹرولڈ میڈیا ہوگا تو وہ ایک ہی ورژن سامنے لائے گا اور دوسرا ورژن بھی وہ ہوگا جو سلیکٹڈ ورژن ہوگا۔ جو ملک کے لیے بھی اچھا نہیں ہوتا اور اداروں کے لیے بھی اچھا نہیں ہوتا چاہے وہ پارلیمنٹ ہو یا کوئی نجی کمپنی ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو اپنا ایک کردار ادا کرنا چاہئے نہ صرف حکومت کو بلکہ ہو ایک ادارے کو جس کا میں سمجھتا ہوکہ بہت اچھا رزلٹ آئے گا۔ اس کے لیےمیں آصف غفوز صاحب کو کوٹ کروں گا۔ انہوں نے ایک بڑی بات کہی ہمیں اسے آگے پروموٹ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 71 میں اگر آج کا آزاد میڈیا ہوتا تو شاید ۔۔۔بلکہ شاید نہیں یقینا  پاکستان دو لخت نہیں ہوتا۔۔۔بنگلہ دیش کبھی نہیں بنتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس بات کو تسلیم کیا ہے اس کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تو اس کے لیے آپ کو آزاد میڈیا کی آزادی کو  یقینی بنانا بہت ضرور ی ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -