جون 2019: ایک صحافی اور بلاگر کا قتل

جون 2019: ایک صحافی اور بلاگر کا قتل

ایف این کی دھمکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ – جون 2019

جون 2019 میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں ایک صحافی اور بلاگر کے قتل کے علاوہ 17 ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں صحافیوں کو دھمکیاں، ان کو ہراساں کیا جانا، تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں حراست میں لیا گیا۔

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے مطابق جون 2019 میں خلاف ورزیوں کے 17 کیس مانیٹر ہوئے۔ ان 17 کیسوں میں سے سات اسلام آباد، چھ پنجاب، تین سندھ اور ایک خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے۔ مئی 2019 میں کل واقعات کی تعداد نو تھی۔ اسلام آباد میں پانچ واقعات جبکہ سندھ اور پنجاب میں دو دو واقعات رپورٹ ہوئے۔

قتل: 14 جون کو سندھ کے شہر حیدر آباد میں روزنامہ کاوش کے چیف رپورٹر الیاس وارثی قتل پائے گئے۔ ابتدائی پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ الیاس کے بستر پر ایک نوٹ پڑا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’یہ میرے والد کے قتل کا بدلہ ہے۔‘ اس کے علاوہ بدلے کے مزید شواہد موجود نہیں تھے۔ 28 جون کو پولیس نے دو ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ صحافی اس فلیٹ میں اکیلا رہ رہا تھا جبکہ اس کا بیٹا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہتا تھا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ مارنے سے قبل صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

16 جون 2019 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 9 میں ایک جوان بلاگر محمد بلال کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلال اپنے رشتہ داروں سے بارہ کھو میں مل رہا تھا۔ قاتل نے بلال کو اپنے کزن کے ساتھ جی 9 بلایا – یہ ماننا ہے بلال کے گھر والوں کا۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نامعلوم افراد نے اس اور اس کے کزن پر ان گنت دفعہ حملہ کیا جس کی وجہ سے دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے‘۔ بلال سوشل میڈیا پر کافی فعال تھا اور مذہبی خیالات کا حامی تھا۔ اس کے والد کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔

حراست: 17 جون 2019 کو دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کی تصاویر بنانے کے نتیجے میں پولیس نے 92 نیوز کے رپورٹر آصف سندھو کو فیصل آباد میں گرفتار کر لیا۔ اپنی پہچان بتانے کے باوجود آصف جیسے ہی اپنے موبائل سے تصاویر کھینچنے والے تھے تو پولیس نے ان سے ان کا موبائل چھین لیا۔ انہیں تین گھنٹوں تک بلوچنی پولیس سٹیشن میں حراست میں لیا گیا۔ اس کے ساتھیوں نے اس کی حراست پس احتجاج کیا تاکہ اسے رہا کیا جائے۔

تشدد: 21 جون کو ایک ٹی وی چینل پروگرام کے کمرشل بریک کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اور سندھ اسمبلی کے رکن مسرور سیال نے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران پر تشدد کیا۔ لیک ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پالیسی پرگفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے لیڈر صحافی پر یک دم حملہ کرتے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں پارٹی قیادت نے مسرور کو نوٹس جاری کیا اور فورا صحافی سے معافی مانگنے کا بولا۔

29 جون کو چند مافیہ گروہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں بلوچستان کے ضلع خوشاب میں 24 نیوز کے صحافی بشیر ملک پر حملہ کیا گیا۔ جیسے ہی وہ کچھ فاصلے چلے تو ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ ایک نے ان پر گولی بھی چلائی جبکہ باقیوں نے ڈنڈوں کے ذریعے صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ صحافی کو ’سبق سکھانے کے بعد‘ مسلح افراد نے صحافی پر تشدد کرنے کی ویڈیو بنائی۔ اس وقت صحافی ہسپتال میں زیر علاج ہے تاہم پولیس نے ابھی تک کوئی حراست عمل میں نہیں لائی۔

1 جون کو سما نیوز کے رانا ظہیر، آپ نیوز کے ستار مرزا اور ہم نیوز کے وقاس کو اس وقت خو شاب ڈاک خانے کی حکام نے تشدد کا نشانہ بنایا جب صحافی ان ڈاک خانوں کی تصاویر بنا رہے تھے جہاں عوام کو صحیح سہولت میسر  نہیں۔ حکام کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں نے بھی مل کر صحافیوں پر تشدد کیا جنہیں بعد میں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ صحافیوں سے ان کے کیمرے بھی چھین لیے گئے۔

9 جون کو رات 9 بجے جب اے آر وائے نیوز کے رپورٹر عرفان رفیق اپنی لودھران کی رہائش پہنچے تو ان پر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا۔ رپورٹر کے مطابق ان افراد کے پاس راڈ اور دیگر ہتھیار موجود تھے۔ صحافی نے اپنی جان بچانے لیے چیخیں لگائیں جس کی وجہ سے اس کے گھر والے باہر آگئے اور ملزمان فرار ہوگئے۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے رفیق کا کہنا تھا ایک گروہ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا چاہتا تھا۔

زبانی دھمکیاں: سوشل میڈیا پر پشاور میں تین لوگوں کی سواری دکھانے پر 17 جون کو روزنامہ جہاں پاکستان کے صحافی علی حمزہ کو پشاور کی کے پی پولیس کے پی آر او کی طرف سے دھمکی آمیز کالز موصول ہوئیں۔ ’پولیس پی آر او الیاس صدوزئی نے مجھے کال کی اور مجھ سے پوچھا کہ میں کیوں یہ چیزیں نمایاں کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے دھمکی دی کہ ان حرکات کا میرے لیے انجام برا ہوگا‘، یہ کہنا تھا علی کا فریڈم نیٹ ورک سے۔ اس واقعے کی سخت مذمت ریکارڈ کرنے کے لیے خیبر یونین آف جرنلسٹ کی ایک میٹنگ بھی بھی منعقد ہوئی۔

17 جون کو اے آر وائے کے سیئنر صحافی عامر اسحاق سہروردی کو پولیس کے تحقیقاتی افسر کی طرف سے کال موصول ہوئی کہ ان کا موبائل ایک گرفتار چور کے پاس سے موصول ہوا ہے۔ عامر نے جواب دیا کہ ایک صحافی کا فون نمبر کسی بھی شخص کے پاس سے ہو سکتا ہے – تو یہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ اس کال سے قبل ہی پولیس عامر کے گھر پر چھاپا مار چکی تھی۔ صحافی کا ماننا ہے کہ ’یہ تمام حرکتیں اس کو بلاگ لکھنے سے روکنے کے لیے ہیں۔‘

19 جون کو روزنامہ دی نیشن کے رپورٹر اسرار احمد نے راولپنڈی کے پوٹوہار پولیس سٹیشن میں درخواست جمع کروائی کہ ایک سال سے وہ ایک نامعلوم نمبر سے کالز موصول کر رہا ہے۔ اس درخواست میں اس نے تفصیلی طور پر بیان کیا کہ نامعلوم کالر اسے فون پر دھمکیاں دیتا ہے۔ صحافی نے درخواست کی کہ اس کی اس درخواست پر جلد از جلد پیش رفت کی جائے اور جو لوگ اس کھیل میں ملوث ہیں انہیں سامنے لایا جائے۔

 14 جون کی شب خیر ملکی ترجمان کی ایف 7 میں رہائش کے باہر گاڑی کھڑی کرنے کے بعد ساتھ گھر والے گارڈ نے ڈان نیوز کے سیئنر صحافی متین حیدر سمیت چار صحافی جن میں روزنامہ میٹرو واچ کے ایڈیٹر زائد فاروق ملک، روزنامہ نئی بات کے صحافی طاہر محمود اعوان، پی ٹی وی کے رپورٹر سید عون شیرازی اور روز ٹی وی کے سعد عمر ان پر پستول تان لیا۔

متین حیدر کے مطابق زمین مافیا میں ملوث ایک پارٹی کے سربراہ کا بیٹا حمزہ باری وہاں پہنچ گیا اور انہیں دھمکیاں دینے لگا۔ صحافیوں کو یہ لگا کہ حمزہ اس وجہ سے یہاں آیا ہے کے کہیں صحافی اس کی کوریج کے لیے تو نہیں آئے۔

متین نے 15 کو کال ملائی اور پولیس وہاں پہنچ گئی۔ ملزم وہاں سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے اس کے بعد ایک ایف آئی آر بھی درج کی۔ چند دنوں کے بعد پولیس نے حمزہ کے تین ساتھیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں تاکہ آپ مئی 2019 میں دھمکیوں کا خلاصہ دیکھ سکیں۔

http://www.fnpk.org/journalist-killed-in-sindh-province/

پیمرا ایکشن میں:

جون 2019 میں پیمرا نے 14 شو کاز نوٹس جاری کیے جن میں جیو نیوز، ڈان نیوز، اے آر وائے نیوز، ایکسپریس نیوز، آج نیوز، اب تک نیوز، دنیا نیوز، 24 نیوز، جی این این، 91 نیوز، سما نیوز، نیو نیوز، سچ نیوز اور کوہ نور ٹی وی چینل شامل ہیں۔ ان شو کاز نوٹس کی وجوہات یہ تھی کہ ان تمام نیوز چینلز نے 30 مئی کو نیب کے چیئرمین کے خلاف ریکارڈ ہونے والی ویڈیو براہ راست نشر کر دی تھی۔

مختلف قسم کی میڈیا پر ہونے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور انہیں ہراساں جانا

جون 2019 میں قتل، حملہ ہونے اور گرفتار ہونے والے واقعات میں سے نو ٹی وی جبکہ سات پرنٹ اور ایک کیس آن لائن میڈیا کا تھا۔

میڈیا اور صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور ان پر حملے کرنے والے اداکار

 چھ خلاف ورزیوں میں حکومت یا پھر حکومتی ادارے ملوث تھے جبکہ چھ کیسوں میں مجرموں کی شناخت نہیں ہو سکی اور دو کیسوں میں ایک گینگ کا مجرم اور تحریک انصاف کا ایک لیڈر ملوث تھا۔

تصویر: الیاس وارثی

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -