“بس حکومت انصاف فراہم کرے”

“بس حکومت انصاف فراہم کرے”

ایف این خصوصی انٹرویو

۔گوہر علی خان

ملک دیگر شہروں کی طرح ضلع ڈیرہ اسماعیل خان بھی مقامی صحافیوں کے لئے کچھ زیادہ محفوظ نہیں سابقہ قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیر ستان کے درمیان ہونے کی وجہ سے یہاں کے صحافیوں کو ہروقت ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے علاوہ علاقے کے لینڈ لاڈز کی وجہ نہ صرت مقامی صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کی راہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بسا اوقات مقامی صحافیوں کی جان تک چلی جاتی ہے ۔نوجوان صحافی اور تحصیل پریس کلب پروا کے چیئرمین ملک امان اللہ گروکا شہید کو بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرناپڑا جو علاقے کے غریب عوام کے حق کے لئے لڑتے لڑتے فر ض کی راہ میں اپنی جان گنوا بیھٹے ۔ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی اخبار روزنامہ میزان عدل سے وابستہ نوجوان صحافی ملک امان اللہ 30اپریل کوا س وقت نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بنے جب وہ اپنے گائوں میں سفرپر تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے راستے میں اس پر فائرنگ کرکے شہید کردیا ۔ فریڈم نٹ ورک نے شہید صحافی کی زندگی اور کام کے حوالے سے ان کے 55سالہ والد ملک محمد بخش جوکہ پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں سے خصوصی بات چیت کی جو کہ ذیل میں پیش کی جارہی ہے ۔

ایف این ۔اپنے شہید بیٹے ملک امان للہ خان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ان کی صحافت کے حوالے سے بتائیں کہ انہوں نے کب اور کیسے صحافت شروع کی ؟

 ملک محمد بخش ۔ملک امان اللہ میرا سب سے بڑا بیٹا تھا اور میرا سہارا تھا وہ ایک پڑھا لکھا شخص تھا وہ نہ صرف ایک بہادر صحافی تھا بلکہ علاقے کے مظلوم لوگوں کی مدد کرنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل تھا۔ انھوں نے 2012ء میں ایک مقامی اخبار روزنامہ میزان عدل میں کام شروع کرکے صحافت کا آغاز کیا اور شہید ملک امان اللہ نے چند ہی سالوں میں بہترین اور معیاری صحافت کے ذریعے اپنا نام پیدا کیا۔

ایف این۔ان کی شہادت سے قبل آپ سے ان کی آخری مرتبہ کب بات ہوئی اور کیا با ت چیت ہوئی تھی جو آپ کو یاد ہو بتائیں ؟

 ملک محمد بخش ۔ وہ روزانہ صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا۔ جس دن ان کی شہادت ہوئی اس دن بھی وہ صبح سویرے گھرسے نکلا اور معمول کے مطابق ہم روزمرہ کی بات چیت کی تاہم کوئی خاص بات نہیں کی ۔

ایف این ۔کیا آپ ان کی صحافت کے پیشے سے خوش تھے ۔ اور کیا آپ کے علاقے کی صورت حال کی وجہ سے آپ نے کبھی انہیں صحافت کا پیشہ چھوڑنے کے لئے کہا تھا ؟

 ملک محمد بخش۔نہیں میں نے کبھی انہیں صحافت چھوڑنے کے لئے کہا نہ ہی مجبورکیا کیونکہ ان کی صحافت کی وجہ سے ہمارے علاقے کے کئی مسائل حل ہوئے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کے منہ سے ہمیشہ ان کی تعریف سن کر خوشی ہوتی تھی ۔

ایف این۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے علاقے اور علاقے کے لوگوں کے لئے صحافت کرنا ٹھیک ہے ؟

 ملک محمد بخش ۔صحافت علاقہ کی بھلائی کے لئے تو ٹھیک ہے کیونکہ صحافت ہی کی وجہ سے ہمارے علاقے کے کئی مسائل حل ہوئے ہیں لیکن اب حالات مختلف ہیں اور کافی خراب ہوچکے ہیںاور شائد میرا نوجوان بیھٹا بھی انہی خراب کی بھینت چڑھ گیا ہے۔

ایف این۔کیا شہید امان اللہ نے کبھی آپ سے کہا تھا کہ صحافت کی وجہ سے ان کی جان کو کوئی خطرہ ہے یا  انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں یا وہ کسی دبائو میں ہے ؟

 ملک محمد بخش ۔ نہیں مجھے یاد نہیں ہے کہ ملک امان اللہ نے کبھی مجھے اس قسم کی بات نہیں کی ہو کہ ان کی جان کو کوئی خطرہ ہو یا انھیں کسی قسم کی دھمکیاں مل رہی ہیں تاہم وہ شہادت سے قبل کچھ عرصہ سے وہ کبھی کبھی پریشان رہنے لگے تھے ہوسکتا ہے کہ انہیں اس قسم کاکوئی خطرہ درپیش تھا مگر وہ ہماری پریشانی کی وجہ سے شائد ہم سے چھپارہا تھا مگر ہمیں اس نے ایسی بات نہیں بتائی ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور میرے بیھٹے کو کس نے مارا اور اسے کس جرم کی سزاد ی گئی ہے مگر ہم سب کو سوگوارچھوڑدیاہے وہ میرا بڑا بیٹا تھا اور پورے گھر کا خیال رکھتا تھا ۔

ایف این۔کیا آپ سمجھتے ہیں آپ کے صحافی بیٹے کے قاتل گرفتار ہوجائیں گے اورانہیں سزا ہوسکے گی ؟

ملک محمد بخش ۔شہید ملک امان اللہ کی شہادت نہ صرف نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقہ کے لئے ایک دکھ کی گھڑی ہے ان کے قاتلوں کو ہر صورت گرفتار ہونا چاہیے اور انھیں قرار واقعی سزاملنی چاہیے ہمارے آپ(ایف این ) سے بھی درخواست ہے میر ے بے گناہ نوجوان بیھٹے ملک امان اللہ کے قاتلوں کو گرفتار کرانے اور ہمیں انصاف دلانے میں ہماری مدد کرے۔

ایف این ۔آپ کے بیٹے ملک امان للہ کی شہادت کے بعد صوبائی حکومت یا ضلعی انتطامیہ کا کوئی نمائندے آپ کے پاس آپ کے گھر آیا ہے یا آپ سے ملاقات کی ہے ؟

ملک محمد بخش ۔ جی ہاں علاقے کے مقامی لوگوں اور معززین کے علاوہ صرف ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان فاتحہ کے لئے تشریف لائے تھے تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کسی نے پوچھا ہے نہ ہی حکومت کا کوئی نمائندہ ہمارے گھر تعزیت یا انصاف دلانے کی یقین دہانی کے لئے آیا ہے۔

ایف این۔آپ حکومت یا کسی اور کو کیا پیغام دینا چائیں گے ؟

 ملک محمد بخش ۔ میرے پاس کوئی خاص پیغام تو نہیں ہے کہ دے سکوں بس ہماری فریاد حکومت وقت تک پہچائی جائے کہ ان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ شہید ملک امان اللہ کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے انہیں سزا دی  جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -