شاہ زیب جیلانی کیس اور سائبر کرائم قانون کا غلط  استعمال

شاہ زیب جیلانی کیس اور سائبر کرائم قانون کا غلط  استعمال

غلام  مصطفیٰ 

 وہ  ایک گرم  دوپہر تھی لیکن  ایئر کنڈیشنڈ   کی ٹھندی ہوا نے  کمرے کے ٹیمپریچر کو کافی  حد تک  مرطوب بنایا ہوا تھا ۔ کمرے   میں رکھی  مستطیل ٹیبل کے پیچھے لمبی کرسی  پر استراحت فرماتے ایف آئی اے افسر  کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔ افسر نے کال بیل پر انگلی رکھی اور ایک دم سے  ان کا پی اے  کمرے کا دروازہ کھول کر حاضر ہوا ۔  افسر   نے کسی سوچ میں ڈوبے لہجے میں  اپنے پی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل اور سب انسپیکٹر  اکبر خان محسود کو  بلائیں ۔  تھوڑی ہی دیر میں  اے ڈی لیگل اور ایف آئی اے انسپیکٹر  افسر کے  ٹھنڈے کمرے میں موجود تھے ۔  افسر نے  ایک ٹائپ شدہ  تحریر کے دو صفحے دونوں  افسران کی جانب بڑھائے اور انہیں پڑھنے کا کہا ۔ دونوں  افسروں نےان  اوراق کو باری باری پڑھا اور اور پھر سوالیہ نظروں سے  اپنے باس کی جانب دیکھنے لگے ۔ افسر نے دونوں   سے پوچھا کہ اس درخواست پہ ایک صحافی کے خلاف  کیس درج کرنا ہے ۔آپ دونوں  کی کیا رائے ہے ؟۔ دونوں  نے بیک زبان  ہو کر کہا کہ  سر ،قانون کے مطابق  اس درخواست پر کوئی کیس نہیں بنتا اور نہ ہی   اس میں کسی انکوائری کی گنجائش ہے ۔

افسر نے کسی گہری سوچ میں سر ہلایا اور اوکے کہہ  کر دونوں  کو جانے کا اشارہ کیا ۔  ایف آئی اے کے دونوں  اہلکار  اپنی کرسیوں  سے اٹھے  اور ٹھنڈے کمرے سے نکل گئے ۔ بات  آئی گئی  ہوگئی ۔۔۔

ایک دن بعد  افسر کسی فائل میں منہمک تھا کہ اچانک اس کے موبائل فون کی گھنٹی بج  اٹھی۔ اس نے غور سے  فون کو دیکھا  تو اسکرین پر بجائے کسی نمبر اور نام کے   “unKnown number” کے الفاظ   جھلملا رہے تھے ۔ افسر نے  بے دلی سے فورا کال رسیو کی ۔  کسی نے  حاکمانہ لہجے میں پوچھا  کہ وہ اپلیکیشن   جو آپ کے پاس بھجوائی تھی اس پہ اب تک کیس درج کیوں نہیں  ہوا ۔؟۔۔۔ افسر نے بڑی متانت سے جواب دیا کہ سر، ایف آئی اے کے اے ڈی لیگل اور  انوسٹیگیشن افسر دونوں کی رائے ہے کہ  اس درخواست پر کوئی کیس نہیں بنتا ۔۔۔ یہ کہہ کر افسر خاموش ہو گیا ۔۔۔

فون کرنے والے نے  انتہائی کرخت اور  تحکمانہ انداز میں کہا کہ آپ سے ایک ایف آئی ا ٓر درج نہیں ہوتی ۔ تو ٓآپ کے اس  ڈپٹی ڈائریکٹر کی سیٹ پہ بیٹھنے کا کیا فائدہ ۔ اگر آپ  سے یہ ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو بتادیں  ہم اس سیٹ پہ  کسی اور کو لاکر   بٹھا دیتے ہیں ۔ اور فون کھڑاک سے بند ہو گیا ۔۔  ایف آئی اے افسر  نے پریشانی کے عالم میں  اپنے سب انسپیکٹر کو فون کیا کہ آپ نے کل ایف آئیٓ ا ٓر درج کرنے سے منع کیا تھا کہ قانونی طور پر کیس نہیں بنتا ۔۔لیکن اب مجھ پہ اداروں  کی طرف سے پریشر ہے  کہ ایف آئی آر درج نہ کی تو   سیٹ چھوڑ دیں ۔

دوسری جانب سے سب انسپکٹر نے مودبانہ جواب دیا کہ سر اگر آپ کی سیٹ کا مسئلہ ہے تو  اگرچہ آج  تعطیل ہے  مگر  میں آفس آکر ایف آئی آر کاٹ دیتا ہوں ۔ اور پھر  چھٹی کے دن ایف آئی انسپکٹر آفس   آکر  ایف  آئی ا ٓر نمبر 6/2016 درج  کرتے ہیں اور اپنے دستخط کرکے ڈپٹی ڈائریکٹر  کی ٹیبل پہ باس کے دستخط کیلئے رکھ دیتے ہیں ۔

یہ تاریخی ایف آئی آر    ملک کے معروف   صحافی شاہ زیب جیلانی کے خلاف کاٹی گئی ۔ جو بی بی سی لندن ، ڈوئچے ویلے جرمنی میں اپنی زندگی کے کئی ماہ و سال   پیشہ ورانہ صحافت کے میدان کار زار  کی خاک چھان  چکے تھے ۔ اور اس وقت دنیا نیوز میں  پروگرام آج کامران خان کے ساتھ  ایڈیٹر  کی حیثیت  میں کام کر رہے تھے ۔ ایف آئی اے کی یہ ایف  آئ آر  پاکستان میں  قانون کی بالا دستی  اور انصاف  کے منہ پر ،  منہ زور اداروں کی جانب سے ایک  طمانچہ  تھی

ایف آئی آر کٹ گئی کیس درج ہو گیا ۔ اس دروان  شاہ زیب جیلانی تھر کول کے پاور پلانٹ   کی افتتاحی تقریب کور کرنے کیلئے تھرپارکر نکل گئے ۔ راستے میں صحافی کو سرسوں کے  سوج مکھی کے پھولوں والے کھیت نظر آئے تو  انہوں نے  سورج مکھی کے کھیتوں میں کھینچی گئی اپنی ایک پرانی تصویر اپنی  فیس  بک آئی ڈی پہ شیئر کردی ۔  ڈپٹی ڈائریکٹر  ابھی تک اپنی نوکری جانے کے خوف سے  ڈرا ہواتھا ۔ اس نے  شاہ زیب جیلانی  کے فیس بک پیج سے تازہ تصویر  ڈاون لوڈ کی اور اپنے انسپیکٹر کو ارسال کی کی یہ کہیں بدین میں گھوم رہا ہے  اسے گرفتار کرو ۔

صحافی شاہ زیب جیلانی واپس کراچی لوٹ آیا اور  کہنہ مشق صحافیوں  کو خبر لگتے کیا دیر لگتی ہے ۔۔ اسے معلوم ہو گیا کہ اس کے خلاف  کیس درج ہو گیا ہے ۔ شاہ زیب جیلانی نے فوری طور پر   ملک کے معروف قانون  دان  منیر اے ملک کی فرم سے رابطہ کیا اور  ڈسٹرکٹ اینڈ   سیشن جج ساوتھ کی کورٹ سے عبوری   ضمانت قبل از گرفتاری  حاصل کرلی ۔

سینیئر صحافی شاہ زیب جیلانی پر نہ صرف ایک جھوٹی اور غیر قانونی ایف آئی آر  کاٹی گئی  بلکہ فون  کے زریعے   بھی اور ان کے اہل خانہ کو بھی مسلسل کہا جاتا رہا کہ زرا برخوردار کو سنبھالیں  بہت بے لاگ تجزئے اور تبصرے کررہے ہیں ۔ انکے تجزئیےاور تبصرے   ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں ۔ بھلا   اپنی قوم کو اپنی خبروں کے زریعے حالات کی سچی  تصویر دکھانے سے بھی کبھی کسی قوک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے؟ ۔

 پاکستان کی  تاریخ  میں  الیکٹرانک کرائم   ایکٹ کے تحت   درج ہونے والا یہ مقدمہ  پاکستان کی تاریخ   میں اپنی نوعیت کا انو کھا کیس  ہے ۔ کہ یہ کیس درج کرنے کے لئے   دی گئی درخواست   مولوی اقبال حیدر نے  دی ۔ جس کے عدالتوں میں داخلےپر سپریم کورٹ   پابندی عائد کر چکی ہے ۔  اور اس سارے کیس  کی بنیاد  شاہ زیب جیلانی کے اس  ٹوئیٹ  کو بنایا گیا جو انہوں  نے  جنرل فیض حمید کو  میڈل دینے کے موقع پر کیا تھا ۔  وہی جنرل فیض حمید جو تحریک لبیک  کے اسلام آباد دھرنے میں مظاہرین میں لفافے بانٹتے ہوئے نظر آئے تھے۔ اور  وہ مناظر پوری قوم  نے اپنی ٹیلیویژن اسکرینوں  پر دیکھے تھے ۔ اور  جس کے لئے سپریم کورٹ  کے معزز جج جسٹس فائز عیسی  نے  اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ   میں لکھ چکے ہیں کہ ادارے کی سطح پہ انکا محاسبہ کیا جائے ۔

شاہ زیب جیلانی نے ٹوئیٹ  کیا تھا کہ ایسے شخص  کو مڈل پہنانے کے بجائے اس کا ٹرائل کیا جائے ۔۔۔  بس یہ سچائی  اور  یہ کڑوا سچ ان سے برداشت نہ ہوا اور قوم کو شعور دینے کی پاداش میں  ایک صحافی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا  کہ آو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ٹرائل کیا ہوتا ہے ۔ جب تم بے گناہی کے با وجود  مہینوں ایک عدالت سے دوسری عدالت  کی سیڑھیاں  چڑھوگے تو دماغ ٹھکانے آجائینگے ۔

کیس درج ہو گیا  اور ایک  صحافی عدالتوں   کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گیا ۔

اور یہ سب کرنے والوں نے صرف اسی  پہ بس نہیں  کیابلکہ شاہ زیب جیلانی کے ادارے   دنیا نیوز کی انتظامیہ  پر اتنا دباو  بڑھایا کہ انتظامیہ کو مجبور ہوکر اسے نوکری سے برخواست کرنا پڑا ۔ اور  کامران خان جیسا کہنہ مشق صحافی بھی اپنی ٹیم کے ایک فرد کی نوکری نہیں بچا پایا ۔ جسے وہ بڑے مان  اور چاہ سے بی بی سی کی نوکری چھڑاوا کر پاکستان لائے تھے ۔  اس سب سے یہ سبق دینا بھی مقصود تھا کہ جو  ہمارے خلاف  لکھے گا ۔ قوم کو سچ دکھانے کی کوشش کریگا ۔ قوم کی آنکھوں پر چڑھائی گئی پٹی کو اتارنے کی کوشش کرے گا اسے  پاکستان میں  روز گار سے  بھی ھاتھ دھونا  پڑے گا ۔ انہیں شاید معلوم نہیں  کہ رازق تو خدا کی ذات اقدس  ہے ، رزق  کے فیصلے اگر انسانوں پر چھوڑے جاتے تو  اسکی مخلوق   بھوکی مر جاتی ۔

اس کیس  کا اہم پہلو  اس ایف آئی آر کے اندر لگائی گئی   سائبر دہشت گردی کی  دفعات تھیں اور ایف  آئی آر  میں پاکستان الیکٹرونک کرائم ایکٹ  ( پیکا )  کی  دفعہ  10 /A, 11, 20  کے  ساتھ ساتھ پی پی سی کی دفعہ 34/ 109 , 500  بھی  لگائی گئی ۔ جبکہ یہ ساری دفعات   پاکستان کے  آئین کے آرٹیکل 19  کے  خلاف ہیں جو اظہار آذادیٗ رائے اور فریڈم آف اسپیچ کا حق دیتا ہے ۔ اور کوئی بھی قانون   آئین سے متصاد نہیں ہو سکتا ۔ اس  لحاظ سے  یہ  قانون  آئین سے بھی متصادم ہے  اور اس قانون  کے زریعے  آذادی صحافت کا گلا گھونٹنے اور اور صحافیوں   کی زباں بندی کیلئے اس کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

قصہ  مختصر۔۔  صحافی کبھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ وہ معاشرے کا سب سے با شعور طبقہ ہو تا ہے   جو قوم میں شعور بانٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔اسی وجہ سے  بغیر کسی نوٹس   کے صحافی شاہ زیب جیلانی  ایف آئی اے میں پیش ہوئے  اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا ۔ جس میں بتایا کہ تمام ادارے ہمارے لئے محترم ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں لیکن  بحیثیت صحافی آئین نے ہمیں  آذادی ٰ اظہار  رائے  کا حق دیا ہے ۔  دورسی جانب ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن جج کی عدالت  سےعبوری ضمانت   حاصل کرنے کے بعد  شاہ زیب جیلانی جوڈیشل میجسٹریٹ ساوتھ ون کی کورٹ   میں  بھی خود ہی پیش  ہوئے اوربغیر  کسی عدالتی نوٹس  کے اپنے آپ کو  ٹرائل کے لئے پیش کیا  ۔۔۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کیس  میں  ایف آئی  اے    نے کیس درج کرنے باوجود 14 دن تک کورٹ  کو  اطلاع دینا  اور  ایف آئی آر  کی کاپی تک جمع کرنا گوارا نہیں کیا ۔ اور ملزم صحافی نے اپنے آپ کو  بغیر کسی نوٹس کے   ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا  ۔ جسے  معزز عدالت نےسراہتے ہوئے  ایف آئی اے کو شو کاز  نوٹس جاری کئے ۔

عدالتی ڈائری  کا مطالعہ  کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سول  جج ساوتھ  کی عدالت  میں ضمانت  کی کنفرمشن  کیلئے صحافی شاہ زیب جیلانی پانچ بار پیش ہوئے ۔ اور مدعی اور   پراسیکیوٹر  عدالت سے غائب رہے ۔ بار بار تنبیہ کرنے کے بعد عدالت نے  2 مئی  کو  صحافی کی مستقل درخواست   منظور کرتے  ہوئے اپنے فیصلے  میں لکھا کہ  ابھی تک عدالت کے روبرو   کوئی ثبوت  نہیں  لایا گیا  کہ ملزم  نے کوئی  جرم کیا ہے ۔   جس واقعے  میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ  واقعہ کے 14مہینے بعد  کی گئی ہے ۔  لہذا عدالت  ملزم کی  مسقتل ضمانت   منظور کرتی ہے ۔

دوسری جانب ٹرائل کورٹ  میں مدعی ایک بار بھی پیش نہ ہوا اور  قانون  کے احترام کرنے والا   صحافی  ایک مہینے میں آٹھ بار پیش ہوا ۔ ایف آئی  اے  نے اس کیس کے عبوری چالان میں ایف آئی آر  کی تمام   دفعات جوں کی توں برقرار رکھیں  لیکن فائنل چالان میں  فلمی سین کی طرح تمام  دفعات حذف کردیں اور صرف پیکا لا کی  دفعہ 20   برقرار  رکھی ۔  جس پر  16 مئی  کو عدالت نے ایف  آئی اے پراسیکیوٹر اور کیس کے انویسٹیگیشن افیسر  سے یہی سوال کیا کہ  کہ کس طرح فائنل چالان میں آپ نے فلمی سین کی طرح تمام  دفعات   حذف کردیں؟ ۔ اور  جو ایک دفعہ لگائی گئی  ہے ا سکے تحت تو ایف آئی آربھی نہیں بنتی ۔

جوڈیشل مجسٹریٹ  ساوتھ ون  کے جج  عبدالاحد میمن نے  بالآخر  18 مئی کو   ملزم کے وکیل   غلام شبیر بلیدی   اور ملزم شاہ زیب جیلانی  کی موجود گی  میں کیس کا فیصلہ سنایا ۔ فیصلے کے وقت  بھی ایف  آئی  اے انویسٹیگیشن آفیسر ، پراسیکیوٹر اور مدعی   موجود  نہیں تھے ۔ عدالت نے اوپن کورٹ  میں ملزم شاہ زیب جیلانی کے خلاف درج ایف آئی آر کو کینسل کرتے ہوئے اسے سی کلاس کردیا ۔

عدالت نے اپنے پانچ صفحات پر مشتمل  تحریری فیصلے میں لکھا کہ اگرچہ  فائنل چالان  میں تمام دفعات حذف کردی گئی ہیں ۔اورصرف دفعہ 20 کو برقرار  رکھا گیا ہے ۔ جس کے تحت   ایف آئی ٓر درج نہیں ہو سکتی ۔ اور اس دفعہ کے تحت بھی نیچرل پرسن ( یعنی جنرل فیض حمید )نے نہ تو ایف آئی اے سے رجوع کیا اور نہ  کسی عدالت سے ۔ اور نہ ہی ان کے کسی ادارے نے کسی متعلقہ فورم سے رجوع کیا کہ اس ٹوئٹ کو ہٹایا جائے ۔ اور پیکا لا کے سیکشن 20 کے تحت  یہ ایکٹ بھی Non-Cognizableہے ۔ اور اایف آئی اے کے انویسٹیگیشن  افسر نے جو فائنل چالان جمع کرایا ہے  ا سکے مطابق بھی  پوری انویسٹیگیشن میں ایساکوئی جرم ثابت نہیں ہوا ۔ لہذا عدالت   اس  ایف آئی آر کو کینسل  کرتے ہوئے  ایف آئی آر کو سی کلاس کلاس کرنے کا حکم دیتی ہے ۔ اور ملزم صحافی شاہ زیب جیلانی  کو باعزت بری کرتی ہے ۔

اس پوری کہانی میں  ملک کے ایک معتبر صحافی کو صرف ذلیل کیا گیا ۔ وہ صحافی جو  ہمیشہ  عدالت ، قانون اور اداروں  کا احترام کرتے ہیں ۔ لیکن آئین میں حاصل آذادئ  اظہار رائے کے  حقوق کے تحت اپنی پیشہ ورانہ  ذمہ داریاں اداکرتے ہیں ۔اس کیس میں  ملک کے ایک قانون  کو  اپنے ذاتی عناد  اور اپنی انا کی خاظر استعمال کیا گیا ۔ ایف آئی اے جیسے   پروفیشل ادارے کی ورک فورس ، اسکی صلاحیتیں اور اسکے وسائل کو  غیر ضروری معاملات  میں جھونگ  کے اداروں کے وسائل  اور اختیارات   کا ناجائز استعمال کیا  گیا ۔ اور  ملک بھر کے صحافیوں کو زباں بندی کا پیغام دیا گیا ۔

ہماری تحقیقات کے مطابق  اس جھوٹے کیس  میں پریشر ڈالنے  کیلئے کوئی ادارہ ملوث نہیں ہوا  بلکہ کچھ اداروں سے وابستہ  لوگوں نے personnel capacity  میں  یہ سارا غیر قانونی  کام کیا ۔ جو یقینا    ملک کے سیکیورٹی اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔

یہ قانون  صرف ایک شاہ ذیب  کے خلاف  ہی استعمال نہیں کیا گیا  بلکہ کئی دیگر کو بھی اس کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق معروف صحافی طلعت حسین کے خلاف بھی اسی  قانون کے تحت  ایف آئی آر درج کرنے کے لئے  ایف آئی  اے کو  ایک درخواست  دی گئی ہے ۔

لیکن یاد رہے کہ صحافی صرف سچ ہی  لکھتا ہے  اور ہمیشہ اسی سچ  کی تلاش و جستجو  میں رہتا ہے ۔

نامسائد حالات  کے باوجود  سچ جاننے اور سچ پھیلانے کا یہ  سفر آج  بھی جاری ہے ۔  اور قابل داد ہیں وہ لوگ  جو  اس  سفر میں  اپنی انگلیوں کو قلم  کرکے اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے  سلو پوائزن کی طرح کسی مقصد  کیلئے  وار  دیتے    ہیں ۔۔۔۔۔اور سچ کو جاننے  اور پہچاننے   کے اس  سفر میں  شمع کی مانند ہم جیسوں  کو تاریک  راہوں  میں اجالوں کا پتہ دیتے  ہیں ۔  شاہ ذیب  جیسے لوگ آج کے گئے گزرے زمانے میں  صحافت کے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے ہیں ۔۔۔۔جن کی کرنوں سے  آنے والوں  نے اپنے آپ کو منور کرنا ہے ۔۔۔یا شاید آج کے اس نفسا نفسی کے دور  میں  یہ  لوگ  اس زمین  کا نمک ہیں ۔۔۔جنکی وجہ سے صحافت  کے ذائقے  کو  بقا اور دوام حاصل ہے ۔۔۔شاعر نے شاید ایسے ہی سچے اور کھرے لوگوں کیلئے کہا ہے کہ

شام غم  ، ظلمت شب ، صبح الم بولتے ہیں

جب کوئی اور نہیں  بولتا ، ہم بولتے ہیں

بول جب بند تھے سب کے تو ہم ہی بولتے تھے

بولتا  کوئی نہیں آج بھی،   ہم ہی  بولتے  ہیں

دیدہ ور ،اہل صفا ،  اہل جنوں  چپ ہی رہے

سچ کو لکھتے ، جو ہوئے ہاتھ قلم   بولتے  ہیں

 جب تک سچ  بولنے کا یہ عمل جاری ہے ۔۔۔جاننے اور  پہچاننے کا سفر جاری رہے گا ۔۔۔۔۔اور لاکھوں  لوگوں

کی دعائیں  سچ بولنے والوں  کواپنی حفاظت  کے حصار میں رکھیں گی ۔۔۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -