صوبہ سندھ میں صحافی کا قتل

صوبہ سندھ میں صحافی کا قتل

ایف این دھمکیوں کا تجزیہ – مئی 2019

مئی 2019 میں ایک صحافی کو قتل کیا گیا جبکہ ایک اور نے قتل ہونے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس کے علاوہ حراست، آف لائن ہراساں کیے جانے، زبانی دھمکیوں اور قانونی کیس کے سات مختلف کیس پنجاب، سندھ اور دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک میں درج ہوئے۔

اس دوران خلاف ورزیوں کے کل نو کیس رپورٹ کیے گئے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ جبکہ سندھ اور پنجاب میں دو دو خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئیں۔

قتل: 5 مئی کو نوشیرو فیروز کے پدی دان سٹیشن میں روزنامہ عوامی آواز کے صحافی علی شیر راجپر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ علی شیر نے اس واقعے سے قبل ہی سیئنر پولیس افسر فیض گنج کو اطلاع دے دی تھی کہ وہ پدی دان ٹاؤن کے چیرمین شکیل راجپر اور پاکستان پیپلز پارٹی سے دھمکیاں موصول کر رہا ہے۔

علاقے میں موجود صحافیوں سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق، خاندان والوں نے ایف آئی آر میں یونین کونسل کے چیرمین شکیل راجپر کا نام منتخب کیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے خاندان والوں کا کہنا تھا کہ ان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں تھی۔

روزنامہ عوامی آواز میں راجپر نے چیرمین پر غلط کاموں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے تھے۔ اس کے نتیجے میں چیرمین نے صحافی کے خلاف دو ایف آئی آر درج کروائی تھیں۔

دو دنوں میں یہ دوسرا صحافی ہے جس کو قتل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 30 اپریل کو ڈیرہ اسماعیل خان میں روزنامہ میز آن عدل کے صحافی ملک امان اللہ گھرو کا کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے تاکہ آپ اپریل 2019 کی دھمکیوں کے بارے میں پڑھ سکیں:

http://www.fnpk.org/april-is-dangerous-months-for-journalists/

قتل کرنے کی کوشش: روزنامہ نوائے وقت کے لیے کام کرنے  والے صحافی محمد جاوید صدیقی کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ 21 مئی کو پولیس کے ساتھ ایک جرم کی جگہ پر رپورٹنگ کرنے گیا تھا جب صحافی حریف گروپ کے آڑے آگیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس حملہ ہونے کے بعد ہی جگہ سے فرار ہوگئی۔ حملہ آوروں نے 500 کے قریب گولیوں کی بوچھاڑ کی کیونکہ صحافی ان کے خلاف رپورٹیں شائع کر رہا تھا۔ صحافی کو منہ پر چوٹیں آئیں جس کے نتیجے میں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی صحافیوں کے مطابق جاوید اب چھپ گیا ہے کیونکہ یہ گروہ اس کی جان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

ذیرہ غازی خان جنوبی پنجاب میں ایک قبائلی علاقہ ہے جہاں پر خاندانی زمینوں پر وارثوں کے آپس میں کافی اختلاف ہوتے ہیں۔ ان اختلافات کے نتیجے میں دونوں طرف سے کافی لوگ قتل اور زخمی ہوتے ہیں۔ ان تمام واقعات میں پولیس غیر موثر ثابت ہوئی ہے۔

گرفتاری: 17 مئی کو سیالکوٹ کی تحصیل سمبریال میں ایک ہسپتال کے ناقص انتظامات پر رپورٹ بنانے کے سلسلے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی جن میں سٹی ٹی وی کے سلیم ساگر سمیت جنید بٹ، عمران بخاری اور نعمان نے ہسپتال کا معائنہ کیا۔ میڈیکل افسر نے ان صحافیوں کو تالا لگا کر بند کر دیا اور پولیس کو بلا لیا۔ پولیس نے آ کر صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ جنید بٹ کے علاوہ تمام صحافیوں ضمانت مل گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ میڈیکل افسر کافی با اثر ہے اور جنید بٹ کو باقی صحافیوں کی طرف سے مداخلت کے بعد ضمانت ملی۔

کراچی کے روزنامہ جنگ سے تعلق رکھنے والے صحافی مطلوب حسین موسوی کو پولیس نے 5 مئی کو گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل 30 مارچ سے مطلوب لا پتہ تھا اور دو دن قبل ہی گھر واپس لوٹا تھا۔ گرفتاری کا عمل انسداد دہشت گردی کے ادارے نے کیا جنہوں نے گرفتاری کی وجہ مطلوب کے فرقہ ورانہ تعلقات بتائے۔ 6 مئی کو سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا پولیس سٹیشن نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سب سیکشن 5/4 کے تحت ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ صحافی کے گھر والوں کا ماننا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے تحت خاندان کے دیگر لوگوں کی زندگیاں مشکل میں پڑ سکتی ہیں۔

حملہ: ہم نیوز کے لیے اسلام آباد سے کام کرنے والے جرائم کے رپورٹر فرید صابری پر 16 مئی کو ای 7 کے علاقے ’شیش ہاؤس‘ کے سعد کیانی اور حسان نے تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا جب فرید اور اس کا کیمرامین اسلام آباد میں منشیات پر رپورٹ بنا نے کے لیے یہاں رپورٹنگ کرنے آیا۔ کیانی اور حسان کے فرید کے عملے سے ان کے آلات چھین لیے اور انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ فرید نے اپنے ساتھی کرائم رپورٹر کو بلا لیا اور ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ ملزمان کو 28 مئی تک عبوری ضمانت مل گئی لیکن جج نے انہیں 1 جون کو کورٹ میں پیش ہونے کا حکم حاری کر دیا۔

ہراساں: ڈان نیوز کے جرائم رپورٹر طاہر نصیر کے راولپنڈی گھر  پر 20 مئی کو پولیس نے چھاپا مارا۔ اس چھاپے میں صحافی اور اس کے گھر والوں کو ہراساں کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر کا کہنا تھا کہ کیونکہ وہ شہر میں جرائم پر رپورٹنگ کرتے ہیں تو اس وجہ سے پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا۔ صحافی کے اس واقعے کے خلاف ایک درخواست جمع کروا دی جس کے نتیجے میں سینیئر پولیس افسر نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

23 مئی کو روزنامہ جنگ کے رپورٹر شاہد سلطان کی راولپنڈی رہائش گاہ پر بنی پولیس سٹیشن کے افسر احسن کیانی کی طرف سے پولیس کا چھاپا مارا گیا۔ اس میں تمام گھر والوں کو ہراساں کیا گیا۔ پولیس نے گھر والوں کو نہیں بتایا کہ چھاپا کیوں مارا جا رہا ہے۔ راولپنڈی پولیس چیف فیصل رانا نے دونوں پولیس افسروں کو معطل کر دیا اور اس واقعے کی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔

24 مئی کو نصیر آباد پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او ریاض باجوہ نے 92 نیوز چینل کے صحافی اور نیشنل پریس کلب کے ممبر منظور ستی کو دھمکیاں دیں۔ یہ دھمکیاں اس لیے دی گئیں کیونکہ رپورٹر نے اس سے قبل نصیر آباد پولیس سٹیشن میں ہونے والے جرائم کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے منظور کا کہنا تھا کہ ”پولیس افسر نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دی”۔ اس کے نتیجے میں صحافی نے ایف آئی آر اور افسر کے خلاف درخواست راولپنڈی پولیس چیف کے پاس جمع کروا دی۔

قانونی کیس: سینٹارس شاپنگ مال کی طرف سے حکومت کی زمین قبضہ کیے جانے کی رپورٹ نشر کرنے پر جی این این نیوز کے رپورٹر بابر انور انصاری پر مال کے مالک اور پنجاب بورڈ آف انویسمینٹ کے چیرمین سردار تنویر الیاس نے ہت عزت کا دعوی کر دیا۔ رپورٹر نے 2 اور 6 مئی کے درمیان اپنے فیس بک پیج پر زمین کے قبضے سے متعلق کچھ رپورٹ اپ لوڈ کی تھیں۔ صحافی کا ماننا ہے کہ مال کے ساتھ موجود پلاٹ پر ناجائز قبضے کی رپورٹیں اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈالی تھیں۔

24 مئی کو ایف آئی اے نے صحافی کو بلا کر اس کا بیان ریکارڈ کیا۔ اس ہی دوران عباسی  نے صحافی کے 6 ارب روپے کے ہت عزت کے دعوے کے خلاف 12 ارب روپے کا کیس درج کیا۔

پیمرا ایکشن میں:

اس ماہ پیمرا نے تین شو کاز نوٹس جاری کیے جن میں نیوز ون، اے آر وائے نیوز اور نیوز 5 ٹی وی چینل شامل ہیں۔ نوٹس جاری کرنے کی وجہ نیب کے چیرمین جاوید اقبال کے خلاف ان کی آ ڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ  والی خبریں پھیلانا اور قتل کی جانے والی بچی فرشتہ مہمند کے بارے میں ناگوار معلومات پھیلانا تھیں۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے ادا کار

صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں میں سے پانچ ٹی وی کے صحافی جبکہ چار پرنٹ میڈیا کے صحافی تھے۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے ادا کار

پانچ کیسوں میں سے تین میں ملک کے ریاستی عناصر ملوث تھے  جن میں پولیس اور ہسپتال کی انتظامیہ شامل ہیں جبکہ چار میں کاروباری کے مالکان اور علاقائی حکومتی افسر ملوث تھے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -