اپریل صحافیوں کیلۓ خطرناک مہینہ

اپریل صحافیوں کیلۓ خطرناک مہینہ

 دھمکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ – اپریل 2019

اپریل 2019 میں ایک صحافی کا صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک دور دراز علاقے میں قتل کے علاوہ اغوا کاری، حملوں، زبانی دھمکیوں اور قانونی کیسوں کے بارہ واقعات فریڈم نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے ادارے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک میں درج ہوئے۔

اس ماہ 13 کل کیس درج ہوئے۔ سب سے زیادہ کیس پنجاب (5) درج ہوئے۔ اس کے علاوہ سندھ (3)، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں 2 کیس جبکہ بلوچستان میں ایک کیس درج ہوا۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: 30 اپریل کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ پرواہ میں نامعلوم افراد نے روزنامہ نظم عدل کے لیے کام کرنے والے صحافی ملک امان اللہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 2019 کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔ کسی گروہ نے ابھی تک اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق صحافی کو منہ اور کندھے میں چار گولیاں لگیں جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

اس کے خاندان والوں کا ماننا ہے کہ صحافی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ نظم عدل کے چیف ایڈیٹر محمد سہیل گنگوہی کا کہنا تھا کہ ملک امان اللہ ایک دلیر صحافی تھا جو اپنے علاقے کے تمام سیاسی اور سماجی مسائل کو بھر پور طریقے سے سب کے سامنے اجاگر کرتا تھا۔ پرواہ کا علاقہ ہی جرائم کرنے والوں سے بھرا پڑا ہے جس کی بدولت ایک اور صحافی کو ڈیرہ بلا لیا گیا۔

اغوا کاری: 1 اپریل کو نامعلوم افراد نے اب تک نیوز چینل کے کیمرامین علی مبشر نقوی کو کراچی میں کار پار کنگ ایریا سے اغوا کر لیا۔ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود صحافی ابھی تک گھر واپس نہیں پہنچیں ہیں۔ مقامی پولیس نے اس اغوا کاری میں ملوث ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹ اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ شہر کراچی میں یہ اغوا کا دوسرا واقع ہے۔ اس سے قبل 30 مارچ کو روزنامہ جنگ کے صحافی مطلوب حسین مساوی کو بھی اغوا کیا گیا تھا – جن کا ابھی تک پتا نہیں لگایا جا سکا ہے۔

زخمی: صوبہ پنجاب کے ضلع چنوٹ میں منشیات پر رپورٹنگ کرنے کے نتیجے میں بول نیوز کے رپورٹر مدثر کاظمی پر 29 اپریل کو حملہ کیا گیا۔ رپورٹر چنو ٹ سے راجوہ کا سفر طے کر رہا تھا جب اس پر اس گروہ نے گھیرا ڈال دیا۔ انہوں نے ڈنڈوں اور کلبوں سے رپورٹر پر حملہ کیا۔ رپورٹر کو گہری چوٹیں آئیں اور ان کا کندھا بھی ٹوٹ گیا۔ مجرمین فورا اس جگہ سے فرار ہوگئے اور ساتھ میں رپورٹر کو دھمکی دے گئے کہ آئندہ ان پر یا ان سے منسلک کسی گروہ پر رپورٹنگ نہیں کرنی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی صورت میں رپورٹنگ کے نتیجے میں وہ اسے قتل کر دیں گے۔

Mudassir Kazmi

26 اپریل کو سرگودھا کے ضلع کوٹ مومن کے تحصیل ہیڈ کوارٹر کے ہسپتال میں معیار کے مطابق علاج نا ملنے کی مریضوں کی شکایات پر رپورٹنگ کرنے کے سلسلے میں آئے ہوئے دنیا نیوز کے رپورٹر رضوان رفیق منہاس کو ہراساں کیا گیا۔ جب ڈاکٹروں کو اس بات کا پتہ چلا کہ رپورٹر نے ان کی فوٹیج بنائی ہے تو ہسپتال کی انتظامیہ کے کچھ رکن کار پار کنگ میں ملنے گئے۔ انتظامیہ نے رپورٹر سے اس کا موبائل چھین کر توڑ دیا تاکہ وہ کوئی رپورٹ آگے بھیج نہ سکے۔ اس کے ساتھ انہوں نے صحافی کو مارنا بھی شروع کر دیا اور اسے دوبارہ ہسپتال آنے سے منع کر دیا۔

صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کے شہر تہ یزمان میں کسانوں کی زمینوں پر زبردستی قبضے کرنے کی کوششوں پر رپورٹنگ کرنے کے چکر میں روزنامہ خبریں کے رپورٹر علاوہ دین کلیار کو وفاقی وزیر برائے رہائش طارق بشیر چیمہ کا غضب دیکھنے کو ملا۔

وزیر کے حامی رپورٹر کی کوریج سے ناخوش تھے اور اس پر حملہ کر دیا۔ رپورٹر کے سر پر پستول مار کر زخمی کر دیا گیا۔ ایف آئی آر درج کروانے وقت سر پر لگی ہوئی چوٹوں کے بارے میں بھی لکھا گیا تھا۔ وزیر کے حامیوں نے رپورٹر کا موبائل فون بھی خراب کر دیا تاکہ وہ کوئی ویڈیو نہ بنا سکیں۔

آف لائن ہراساں: ضلع راجن پور کے ہسپتال کے لیبر وارڈ میں موجود لاش پر رپورٹ بناتے ہوئے سچ نیوز کے رپورٹر محمد طفیل کو ہراساں کیا گیا۔ کوریج کو روکنے کے لیے وارڈ کے سپر اینٹینڈینٹ نے گارڈ کو بلا لیا۔ گارڈ نے رپورٹر کا کیمرا چھین لیا اور اس پر حملہ کر دیا۔ رپورٹر کے بقول اس نے سپر اینٹینڈینٹ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا ’اگر تم دوبارہ یہاں کوریج کرنے کے لیے آئے تو میں تمھاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘

27 اپریل کو انسداد دہشت گردی کے محکمے نے ٹی وی ون نیوز چینل کے رپورٹر شوکت کوری کو سندھ ہائی کورٹ کے باہر ہراساں کیا۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے رپورٹر کا کیمرا چھین لیا اور اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔ کورٹ کے احاطے میں موجود رپورٹر نے ان انسداد دہشت گردی پولیس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں شکایت بھی درج کی۔ ان صحافیوں نے بعد میں سندھ حکومت کے میڈیا مشیر سے بھی ملاقات کی جہاں انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ ان انسداد دہشت گردی والے افسر ان کے خلاف جلد ایکشن لیا جائے گا۔

کوئٹہ کے سنڈمین ہسپتال میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 10 اپریل کو چند ڈاکٹروں نے بول نیوز کی ایک عورت صحافی کو ہراساں کیا۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دھمکیاں دیں گئیں اور ہراساں کیا گیا۔‘ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ نے اس واقعے کی مذمت کی اور ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

زبانی دھمکیاں: ایرانی تیل کی سمگلنگ پر مبنی رپورٹ بنانے کے سلسلے میں ایک سمگلر سے بھاگتے ہوئے پنجاب کے ضلع راجن پور میں دھوم ٹی وی کے رپورٹر شیر علی سنج رانی نے اپنی جان بچا لی۔ اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے شیر علی کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پر لگے ہوئے سمگلنگ کے الزامات ہیں – تو وہ غصے میں آگیا۔‘

16 اپریل کو ضلع حیات آباد میں موجود دہشت گردوں پر مبنی انٹیلی جنس اداروں کے خلاف رپورٹ شائع کرنے کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے ضلع باڑہ سے تعلق رکھنے والے جوان صحافی علی اختر کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں موصول ہونے شروع ہو گئیں۔ رپورٹر کی رپورٹ ابھی شائع بھی نہیں ہوئی تھی کہ روزنامہ صبح نے اسے نوکری سے فارغ کر دیا۔ انٹیلی جنس اداروں نے اسے ایک 16 صفحات پر مبنی ایک دستاویز دی اور اسے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسی رپورٹنگ نہیں کرنی۔ صحافی نے سوشل میڈیا پر اپنی اس خبر کے چرچے شروع کر دیئے ہیں۔

آن لائن ہراساں: 25 اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان تحریک انصاف کی ابھی تک کی کارکردگی پر سوال پوچھنے پر جیو نیوز کے سینیئر صحافی ارشد وحید چودھری کو ہراساں کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے ارشد پر الزام لگایا کہ یہ سوال پہلے سے تیار کیا ہوا تھا اور اس بنیاد پر انہوں نے چودھری کے خلاف سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کی مہم شروع کر دی۔ اس کے بعد نیشنل پریس کلب انتظامیہ نے بیان جاری کیا کہ صحافی کو مزید ہراساں نہ کیا جائے۔

قانونی کیس: 6 اپریل کو دنیا نیوز کے پروگرام ’آج کامران خان کے ساتھ‘ میں رپورٹ پیش کرنے اور ٹویٹ کرنے کے سلسلے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شاہ زیب جیلانی پر پیکا کے قانون کے تحت ایک مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ صحافی کے کہنا ہے کہ انہوں نے قانون کے کوئی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ وہ تو صرف اپنے آزادی رائے کا حق استعمال کر رہے تھے۔ جس پروگرام میں یہ ٹویٹ نشر کی گئی تھی، اس کی شوٹنگ دسمبر 2017 میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود صحافی کو ضمانت مل گئی۔ ایف آئی آر مولوی محمد اقبال حیدر کے کہنے پر درج کی گئی تھی جن کا ماننا تھا کہ شاہ زیب جیلانی نے اس ٹاک شو پر بیٹھ کر ملک کے اداروں کے خلاف نازیبہ تبصرے کیے تھے۔ اس سلسلے میں نیوز چینل نے بھی صحافی کی حمایت کرنے سے گریز کر لیا ہے۔

26 اپریل کو ضلع سکھر میں انتظامیہ نے سکھر پریس کلب کو سیل کروا دیا کیونکہ سندھ ہائی کورٹ نے بیان جاری کیا تھا کہ یہ پریس کلب والی زمین ایک پارک کے لیے مخصوص کی گئی تھی۔ اس پر کلب کی انتظامیہ نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ کلب غیر قانونی زمین پر کھڑا ہے تو ہر سال حکومت اسے گرانٹ کیوں دیتی رہی ہے؟ علاقائی انتظامیہ نے تجویز کی کہ پریس کلب کو کسی اور جگہ پر بنایا جائے۔ اس وقت یہ پریس کلب بند ہے اور صحافت سے متعلق کوئی کام نہیں ہو رہا۔

راولپنڈی میں ایس ایچ او کی تعیناتی پر مبینہ طور پر رشوت دینے کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے اعجاز خان جازی کی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے سی پی او پر رشوت لینے کے الزامات لگائے۔ اس سلسلے میں ایکسپریس نیوز کے رپورٹر عمران اصغر کو راولپنڈی کے سی پی او افسر احسن عباس کی طرف سے تین مختلف تاریخوں پر قانونی نوٹس جاری کیے گئے۔ یہ الزامات 2 اپریل کو نشر کیے گئے۔ کرائم رپورٹرز نے اعلان کیا کہ جب تک نوٹس واپس نہیں لیے جائیں گے وہ پولیس کی کوریج کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس کے بعد دونوں پارٹیوں میں معاہدہ ہو گیا اور پولیس نے نوٹس واپس لے لیے۔

پیمرا ایکشن میں:

جھوٹی خبریں‘ نشر کرنے پر پیمرا نے اپریل 2019 میں سما اور نیو نیوز کو نوٹس جاری کیے۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں ہونے والے ادارے

اپریل 2019 میں تیرہ صحافیوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں جن میں سے دس کا تعلق ٹی وی چینلز جبکہ تین کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا۔ قتل کیے جانے والے صحافی کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے ادا کار

آٹھ کیسوں میں ریاست کے ادارے ملوث تھے جبکہ قتل اور اغوا کاری میں ملوث افراد کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ دو واقعات میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کارکنان دو صحافیوں کو ہراساں کرنے میں ملوث تھے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -