کراچی سے صحافی اغوا

کراچی سے صحافی اغوا

ایف این کے دھمکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ مارچ 2019

پنجاب، سندھ اور دارالحکومت اسلام آباد میں مارچ 2019 میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو پیش آنے والے اغوا کاری، حملوں، زبانی دھمکیوں اور قانونی کیسوں کے 15 واقعات فریڈم نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے ادارے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک میں ریکارڈ ہوئے۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کے سب سے خطرناک قرار دیئے جانے والے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے کوئی کیس درج نہیں ہوا۔

اغوا کاری: صحافی کے گھر والوں کے بقول 30 مارچ کو سادہ لباس میں ملبوس اور پولیس اور پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرنے والے نامعلوم افراد نے صحافی مطلوب حسین موسوی کو اس کی رہائش گاہ سے اغوا کر لیا۔ ٹیلی فون پر کراچی سے فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے اغوا ہونے والے صحافی کے بھائی منہاج حسین کا کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے میرے بھائی کو اغوا کیا ہے نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا جرم کیا ہے؟‘ اس کے ساتھ منہاج کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی آر درج کروانے کے باوجود وہ ابھی تک لا پتہ ہیں۔‘

27 سالہ موسوی روزنامہ جنگ کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کے بھائی کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے اغوا کیا گیا ہے۔ موسوی نے اپنے والد کو بتایا تھا کہ اس کہ ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کیا ہونے والا ہے۔

حملہ: ٹریفک پولیس اور عوام کے درمیان لڑائی جھگڑے کی فلم بناتے ہوئے 29 مارچ کو دنیا نیوز کے رپورٹر وسیم ناصر کو ڈالفن فورس نے لاہور کے ملتان روڈ پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹر سے اس کا کیمرا اور میڈیا کارڈ چھین لیا گیا۔ صحافیوں کی طرف سے احتجاج کے نتیجے میں لاہور پولیس چیف نے ڈالفن فورس کے چار اور ٹریفک پولیس کے دو وارڈن کو معطل کر دیا۔

15 مارچ کو پی ایس ایل کے فائنل کی کوریج کرنے کے دوران روزنامہ ایکسپریس کے صحافی حسان عباس کو پولیس فورس کے افسر محمود نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

20 مارچ کو نیب کے اسلام آباد کے دفتر کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈرز آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی نیب کی پیشی کے دوران پارٹی کارکنوں نے جیو نیوز کے کیمرامین شیراز گردیزی اور ایکسپریس نیوز کے سیئنر صحافی نعیم اصغر کو زخمی کر دیا۔ کیمرامین کو منہ پر چوٹیں آئیں جس کے نتیجے میں اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کیمرامین کا کہنا تھا کہ ’تصاویر لیتے ہوئے ایک پارٹی کارکن نے میرے منہ پر دھپڑ مارا اور اس کے بعد کارکنان کا ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا جنہوں نے مجھے مل کر مارا‘۔ پارٹی کارکنان کی طرف سے گھیرے جانے کے بعد پولیس نے نعیم کو بچا لیا تاہم اس دوران بھی اسے لاتیں لگیں۔

زبانی دھمکیاں: ہسپتال میں سوریج کے پانی پر ویڈیو بنانے پر ہسپتال کی انتظامیہ نے ضلع راجن پور میں سچ نیوز کے کیمرامین ملک عزیز کو زبانی دھمکیاں دیں۔ کیمرامین نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ’مجھے دھمکیاں دیں گئیں اور کہا گیا کہ اس کام کے کافی برے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ابھی تک ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘

 حکومتی افسر کے خلاف رپورٹ شائع کرنے کے چند لمحوں بعد ہی لاہور رنگ ٹی وی کے صحافی عدنان عزیز کو 30مارچ کو فون آتا ہے جس میں وہ افسر کہتے ہیں ’تمھاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم نے میرے خلاف خبر نشر کی؟‘ میڈیا رپورٹرز اسوسی ایشن کے صدر محمد آصف سے بات کرتے ہوئے عدنان کا کہنا تھا کہ افسر نے فون پر اسے گالیاں بھی دیں۔

30 مارچ کو سادہ لباس میں ملبوس پولیس افسران ضلع و ہاڑی میں صحافی دیوان پیر علی کے مکان میں داخل ہوگئے اور گھر کی اشیا کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ علی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ ’مجھے کہا گیا کہ اگر میں نے اس پر پولیس کے خلاف رپورٹ کی تو وہ مجھے ختم کر دیں گے۔‘ حملہ کرنے والے پولیس افسر ان نے علی کو کہا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے شعبے سے ہیں۔

قانونی کیس: اس سال سعودی شہزادے کی آمد پر قتل کیے جانے والے صحافی جمال خاشقجی کی تصاویر لگانے پر 13 مارچ کو سامنے لائے گیے ایف آئی اے کے خط میں لکھا گیا ہے کہ ان پانچ نامور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جن صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ان میں متی اللہ جان، مرتضی سولنگی، اعزاز سید، عمار مسود، عمر چیمہ اور احمد وقاس گورایا شامل ہیں۔

خط میں لکھا گیا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر سعودی شہزادے کے خلاف مہم چلائی گئی تھی جس میں کچھ میڈیا کے کارکنان زیادہ پر جوشی سے اس مہم کا حصہ بنے ہوئے تھے۔‘

مرتضی سولنگی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کچھ ایسے کیا ’تو عمران خان کی بےشرم حکومت کو اس بات سے چڑ ہے کہ میں نے ایک مارے گئے صحافی کی تصویر اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر لگائی تھی اور اس کو وہ قانون کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں؟ آ کر مجھے حراست میں لے لو، تم بےشرم لوگوں۔‘

 میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے عناصر

ٹی وی کے نو، پرنٹ میڈیا کے تین کیس جبکہ تین کیس انٹرنیٹ کے حوالے سے تھے۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے عناصر

مارچ 2019 میں حکومتی ادارے پندرہ میں سے سات کیسوں میں ملوث تھے جن میں پولیس، حکومتی افسر اور ایف آئی اے شامل تھے۔

فوٹو: صحافی مطلوب حسین موسوی

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -