قبائلی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش

قبائلی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش

 تحریر: حنیف اللہ

تئیس(23) اپریل 2014 پاکستان کے تاریخ میں انتہائی اہمیت کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ملک کی تاریخ میں پہلی بار موبائل تھری جی نیٹ ورک سروس کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔ یوں کم از کم چھ ماہ کی تاخیر کے بعد اس وقت کے قبائلی علاقوں جن میں باجوڑ قابل ذکر ہے تھری جی ٹیکنالوجی کا باقاعدہ اغاز ہوا۔ قبائلی اضلاع جیسے پسماندہ علاقوں میں اس طرح تھری جی موبائل سسٹم کے آنے سے لوگوں کو بااسانی انٹر نیٹ تک رسائی مل گئی۔ تھری جی سروس کی وجہ سے لوگوں کو اندرون اور بیرون ملک رشتہ داروں، دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ انتہائی آسان اور سستے طریقے سے رابطے شروع ہوگئے اور یوں فاٹا دنیا کے ان خوش قسمت علاقوں میں شمار ہونے لگا جہاں پر تھری جی ٹیکنالوجی کی سہولت میسرہے۔ تھری جی سسٹم سے کاروبار کو بھی کافی تقویت ملی۔ موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے کاروبار میں بھی کافی تیزی آگئی اور ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار مل گیا۔

لیکن بدقسمتی سے بارہ جون 2016 سے قبائلی ضلع باجوڑ سمیت وفاق کے زیر اہتمام تمام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اس جدید ٹیکنالوجی محروم کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس روز طورخم (ضلع خیبر) میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان گیٹ کے تنازعہ پر ہونے والے مسلح تصادم کے بعد سے تمام قبائلی علاقوں میں تھری جی موبائل سروس کو بند کر دیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اس سروس کے بندش کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ اس بندش کی وجہ سے نہ صرف لوگوں میں کافی تشویش اور بےچینی پائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی صحافی، تعلیم یافتہ لوگ اور طلباء مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔ جب سے تھری جی سروس معطل ہوئی ہے اُس وقت سے سارے فاٹا میں ٹو جی سروس بھی بند ہے۔ موجودہ وقت میں تمام قبائلی اضلاع کے صرف ہیڈکوارٹرز میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سرو س کی سہولت موجود ہے جس سے صرف سرکاری حکام مستفید ہو رہے ہیں۔

 باجوڑ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی محدود بحالی

 دیگر قبائلی اضلاع کی نسبت ضلع باجوڑ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی عوام کا خصوصاَ صحافیوں اور بیرون ملک مقیم تارکین کا مطالبہ رہا ہے۔ باجوڑ کے ذیادہ تر لوگ بیرون ملک محنت مزدوری کے سلسلے میں مقیم ہیں اور اُن کا مختلف فورم پر یہی مطالبہ رہا کہ باجوڑ میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے۔ باجوڑ کے عوام کو وزیر اعظم کے سامنے یہ مطالبہ پیش کرنے کا موقع آخر مل گیا اور 15مارچ 2018کو وزیر اعظم عمران خان نے باجوڑ کا دورہ کیا اور وہاں پر باجوڑ سپورٹس سٹیڈیم میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ ا س دوران وزیر اعظم نے عوام سے کہا کہ آپ لوگ کو کیا چاہئے تو عوام نے جواب دیا کہ ہمیں تھری جی سروس کی بحالی چاہئے تو جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ باجوڑ کے نوجوانوں میں شعور آگیا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ میں جیسے ہی اسلام آباد پہنچ جاؤں گا تو پہلا کام تھری جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا کروں گا۔ بالاآخر کار عمران خان نے25مارچ کو ایک ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا  کہ قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے حوالے سے ایک اور وعدہ آج پورا ہوا۔

لیکن وزیر اعظم کے اعلان پر صرف تحصیل خار جوکہ باجوڑ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے موبائل انٹرنیٹ سروس شروع کی گئی جہاں پہلے سے پی ٹی سی ایل کی براڈ بینڈ سروس موجود ہے۔ باجوڑ کی دیگر تحصیلوں کے عوام نے انٹرنیٹ سروس نہ کھولنے پر مایوسی کااظہار کیا اور کہا کہ دراصل موبائل انٹرنیٹ سروس کی ضرورت تو دورافتادہ علاقوں کو ہے۔ اس حوالہ سے باجوڑ کے سابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے فریڈ م نیٹ ورک کو بتایا کہ ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ تمام علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کھول دی جائے لیکن یہ سروس صرف خار تحصیل تک محدود کی گئی ہے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی انور اللہ خان نے فریڈ نیٹ ورک کو بتایا کہ دوسرے علاقوں کے لوگ ذیادہ حقدار ہیں کیونکہ خار میں تو وائی فائی کی سہولت پہلے ہی سے موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تھری جی کی سہولت بہت جلد تمام باجوڑ ضلع کو فراہم ہوگی۔ باجوڑ کے علاقہ ارنگ سے تعلق رکھنے والے غریب گل جوکہ ایک این جی او میں کام کرتے ہیں، وہ باجوڑ میں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی رپورٹس ارسال کرنےکے لیے ضلع لوئر دیر کے ہیڈکوارٹر تیمرگرہ جاتے ہیں۔ اُس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے مبجبورا انہیں تیمرگرہ جانا پڑتا ہے۔ اُ ن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے طلبہ کو ریسرچ وغیرہ میں بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔

 قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم تارکین وطن کابھی تھری جی انٹرنیٹ سروس بحالی کا مطالبہ

 قبائلی ضلع باجوڑ کے ارنگ سے تعلق رکھنے والے کاظم خان ملائشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کاظم خان نے بتایا کہ وہ ملائیشیا میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں بلکہ بینکوں کے ذریعے پیسے بھیج کر ملک کا زرمبادلہ بڑھاتے ہیں لیکن اس کے برعکس بیرون ملک مقیم تارکین وطن کو وہ سہولیات نہیں دی جارہی ہے جو ان کا حق ہے۔ ’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے آبائی گاؤں میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش ہے۔ ہمارا اپنے پیاروں سے بہت کم رابطہ ہوتا ہے۔ ہمیں مجبورا موبائل فون سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جوکہ انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔

 صحافیوں کو درپیش مشکلات

 ضلع مہمند کے سینئر صحافی شاکر اللہ مہمند نے فریڈ نیٹ ورک سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع مہمند میں تھری جی انٹرنیٹ سروس تین سال سے بند ہونے سے صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تمام دارومدار صرف اور صرف پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ پر ہے جو کہ بہت سست ہے اور اکثر اوقات بارش کی وجہ سے وہ بھی خراب رہتا ہے۔ جبکہ اکثر اوقات سکیورٹی خدشات کی بناء پر بھی ایکسچینج سے انٹرنیٹ سروس بند رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک منٹ کی ویڈیو پانچ منٹ میں اپ لوڈ ہوتی تھی اب ایک گھنٹہ میں جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات سروس میں خرابی کی وجہ سے صحافیوں کو رپورٹس بھیجوانے کے لیے قریبی ضلع چارسدہ کے علاقہ شبقدر جانا پڑتا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے صحافی فاروق محسود کا جوکہ فوجی آپریشن کی وجہ سے اب ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پذیر ہیں کہنا ہے کہ جنوبی وزیر ستان کا 90 فیصد علاقہ نہ صرف موبائل بلکہ انٹرنیٹ سروس سے بھی محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 10فیصد لوگ کو جو جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں آباد ہیں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے اور وہ بھی صرف 10سے15کلومیٹر کے علاقے میں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف وانا پریس کلب کے صحافیوں کوپی ٹی سی ایل انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے صحافیوں کو سہولیات او ر خصوصا انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ذیادہ تر صحافی ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں رہائش پذیر ہیں۔

ضلع خیبر کے علاقہ لنڈی کوتل میں نجی ٹی وی کے ساتھ کام کرنیوالے سینئر صحافی ولی خان شنواری نے بتایا کہ لنڈی کوتل ایک اہم مقام ہے اور یہ ایک بین الاقوامی شاہراہ ہے، یہاں پر آئے روز اہم واقعات کی کوریج کرنی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لنڈی کوتل پریس کلب میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سروس کی سہولت موجود ہے لیکن اُس کی رفتار انتہائی سست ہے اور اکثر اوقات ایمرجنسی کی صورت میں انہیں ویڈیوز رپورٹس اور تصاویر بھیجنے کے لیے پشاور جانا پڑتا ہے۔ ولی خان شنواری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے تاکہ صحافیوں کو کوریج کرنے میں درپیش مشکلات ختم ہوسکیں۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -