فروری 2019 میں صحافیوں کے خلاف حملے، زخمی ہونے، زبانی دھمکیوں اور قانونی مقدمات کے نو واقعات

فروری 2019 میں صحافیوں کے خلاف حملے، زخمی ہونے، زبانی دھمکیوں اور قانونی مقدمات کے نو واقعات

ایف این کے ڈیٹا کا تجزیہ – فروری 2019

جنوری 2019 میں صحافیوں پر تشدد کے نو واقعات سامنے آئے جن میں سے چند زخمی ہونے، چند حملے ہونے اور بعض قانونی تھے۔

 فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

 یہ واقعات سندھ، پنجاب اور اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس ماہ کوئی واقع درج نہیں ہوا۔

حملہ: 23 فروری کو کورٹ میں پیشی کی صورت میں لائے جانے والے صحافی شاہد جاوید کی کوریج کرنے کے لیے آئے ہوئے صحافیوں پر لاہور پولیس نے تشدد کیا۔ پولیس سٹیشن میں زخمی ہونے والوں میں مرزا رمضان بیگ، شاکر محمود، سبطین علی اور کیشور لو دہی  شامل تھے جبکہ لاہور رنگ نیوز کے لیے کام کرنے والے نمائندے انیس بشیر پر اس قدر ظلم کیا گیا کہ اس کی ناک پر تشدد کے نشان رہ گئے۔ انیس نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ  پولیس افسر رانا ناصر نے پولیس اہلکاروں کو حکم دیا تھا کہ وہ صحافیوں سے ان کے موبائل فون چھین لیں تاکہ وہ ویڈیو یا تصویریں نہ بنا سکیں۔

اس معاملے کو لاہور کے پولیس چیف کے سامنے لایا گیا جس کے نتیجے میں رانا ناصر کو معطل کر دیا گیا۔ تاہم انیس کا کہنا ہے کہ کوئی ایف آئی آر نہیں درج کی گئی اور صرف باتوں میں ہی معاملے کو حل کر دیا گیا۔

Muhammad Sufiyan - PTV Lahoreزخمی: 9 فروری کو وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے مبینہ طور پر صحافیوں پر حملہ کیا۔ حملہ کرنے کی وجوہات کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے لیکن اس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں آپ نیوز کے فرید لاکھو، جیو نیوز کے افضل خان جبکہ جی این این نیوز  کے کیمرامین فہیم خان شامل ہیں۔     

24 فروری کو کراچی کے علاقے گلشن جوہر میں پولیس کے اعلی افسر کے بیٹے نے 24 نیوز کے رپورٹر ثمر عباس پر حملہ کیا۔ واقعہ کی رپورٹ درج ہو جانے کی صورت میں پولیس نے مجرم کو حراست میں لے لیا۔ تاہم اس کے بعد ملزم کے خاندان والوں نے صحافی کے گھر کا دورہ کیا اور معافی مانگی – جو صحافی کے قبول کر لی۔ اس کے بعد کیس واپس لے لیا گیا۔

25 فروری کو لاہور میں موجود پی ٹی دی کے صحافی محمد سفیان کو گلبرگ میں ایک تقریب کی کوریج کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ واپسی پر پانچ نامعلوم افراد نے سفیان سے کیمرا چھیننے کی کوشش کی – جس میں وہ ناکام رہے۔ اس واقعے میں رپورٹر کی ناک فریکچر ہو گئی۔ رپورٹر نے ایف آئی آر درج کروا دی ہے لیکن ابھی تک پولیس کی طرف سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

4 فروری کو 24 نیوز کے رپورٹر صدام منگت کو اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے پر کھنا پل کے قریب تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب 10 افراد نے ان پر حملہ کیا۔ رپورٹر کو ہاتھوں سمیت سر اور بازو پر چوٹیں آئیں۔ صحافی نے دو حملہ آوروں کو ’وحید پٹیل‘ اور ’عدنان‘ کے نام سے پہچان لیا۔ بھاگنے سے پہلے، حملہ آوروں نے رپورٹر کا کیمرا اور بٹوا بھی چھین لیا۔ صحافی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے چینل نے ایف آئی آر درج کی۔

Mobile Phone Threat

زبانی دھمکی: سندھی قوم پرست ارشاد رجحانی کے قتل کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے نے سندھ اسمبلی میں 16 فروری کو تحقیقاتی صحافی قاضی آصف کو دھمکی دی۔ دھمکی ایک موبائل فون کے ذریعے دی گئی تھی۔ صحافی نے اس نمبر سے آنے والی دھمکی کی تصویر بھی لے لی۔ دونوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی کہانی بیان کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سینیئر صحافیوں نے مداخلت کر کے معاملے کو سلجھایا۔

قانونی کیس: اپنے ذاتی ٹیوٹر پر عدلیہ سمیت قومی اور انٹیلی جینس اداروں کے بارے میں ناپسندیدہ اور ناجائز باتیں لکھنے کے الزام میں پولیس نے دن نیوز کے میزبان رضوان الرحمان راضی کو 9 فروری کو حراست میں لے لیا۔ پاکستان الیکٹرانک جرائم کے ایکٹ کے دفعہ 11 اور 20 کے تحت صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ راضی نے اگلے دن ہی لاہور کی ایک عدالت سے ضمانت حاصل کر لی۔ پاکستان الیکٹرونک جرائم کے ایکٹ کے دفعہ 123 کے تحت راضی کو بیل ملی۔ کیس کی اگلی پیشی 11 مارچ 2019 کو متوقع ہے۔

پیمرا ایکشن: فروری 2019 میں پیمرا نے کسی بھی چینل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے ادا کار

نو میں سے آٹھ صحافی جن کو فروری 2019 میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کا تعلق ٹی وی سے جبکہ ایک کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹی وی کے صحافی پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کی نسبت زیادہ خطرے میں ہیں۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے ادا کار

پانچ کیسوں میں سیاسی جماعتیں جبکہ دو واقعات میں ریاستی حکام ملوث تھیں جبکہ باقی کیسوں میں ملوث اہلکاروں کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

پہلی تصویر: زخمی ثمر عباس

دوسری تصویر:  محمد سفیان

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -