جاگیرداری” کے تاثر نے سندھ میں پریس کی آزادی کو کمزور بنا دیا ہے: جوکھیو”

جاگیرداری” کے تاثر نے سندھ میں پریس کی آزادی کو کمزور بنا دیا ہے: جوکھیو”

صحافت میں آزادی رائے حاصل کرنے کے لیے اخلاق جوکھیو پاکستان کے صوبہ سندھ میں مزاحمت کی ایک علامت بن گئے ہیں۔ اس مقام کو پانے کے لیے اخلاق کو کافی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ اخلاق کو رپورٹنگ کے سلسلے میں ایک مقامی عدالت نے چار ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں بےگناہ پایا اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات رد کر دیئے گئے۔

فریڈم نیٹ ورک نے صحافی کا ساتھ دیا اور سپریم کورٹ میں پیشی سننے کی آمد پر اسلام آباد میں ان کا انٹرویو لیا جس میں اخلاق نے سندھ میں پریس کی آذادی کے حوالے سے بات چیت کی۔

مندرجہ ذیل انٹرویو کا اقتباس ہے:

فریڈم نیٹ ورک: آپ کے خلاف کیس کیوں درج کیے گئے تھے؟

اخلاق جوکھیو: ہلانی کے علاقے میں ایک قبرستان ہے جس کی تاریخی اہمیت ہے۔ 1783 میں دو قبائل – کلہورو اور تالپور، جن کے درمیان جھگڑے تھے، جن کی وجہ سے کافی لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی وہاں پر قبریں ہیں۔ اس علاقے کو آبادی بڑھنے کی وجہ سے ایک تجارتی سیکٹر میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاہم ایک بااثر علاقائی رہنما اور لینڈ مافیا نے ان قبروں کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے  ہمیں پیسے دینے کی آفر کی لیکن ہم نے اپنی آواز اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کی بدولت انہوں نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور میرے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس درج کروانا شروع کر دیئے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 اور 501 کے تحت مجھے سات سال کی قید کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ میں چار ماہ تک قید میں رہا۔ سندھ ہائی کورٹ نے علاقائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ مدعی نے پھر کیس سپریم کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف طلب کیا جہاں میں مقدمہ جیت گیا۔

فریڈم نیٹ ورک: اندرون سندھ میں سنا جاتا ہے کہ صحافی کافی مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ کی رائے میں صحافیوں کو وہاں کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

 اخلاق جوکھیو: سندھ میں جاگیرداری کا نظام تو ختم ہو گیا ہے لیکن جاگیردارانہ سوچ ابھی بھی موجود ہے۔ ان کی رائے کے خلاف وہ کوئی بھی فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کے لیے وہ صحافیوں کے راستے میں مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک: سندھ میں صحافیوں کو دھمکی دینے والے کون سے لوگ موجود ہیں اور علاقائی صحافی ان سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

اخلاق جوکھیو: ہمیں طاقتور سیاست دانوں سے دھمکیاں موصول ہوتی ہیں۔ اگر ہم کوئی ایسی چیز پر رپورٹنگ کریں جس سے ان کے کام کو دھچکا لگے گا تو بدلے کے طور پر وہ ہمیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں گے اور ہم پر حملے کروائیں گے۔ جس شخص نے میرے خلاف کیس درج کیا ہے اسی نے مختلف الزامات پر میرے خلاف مزید پانچ کیس اور بھی درج کروائے ہوئے ہیں۔ اندرون سندھ میں صحافیوں کے ساتھ کوئی بھی کھڑا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا کی تنظیمیں بھی اپنے صحافیوں کا ساتھ دینے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے مفاد کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: کیا سابق سندھ حکومتوں نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کچھ اقدامات لیے تھے اور صحافیوں کو موجودہ حکومت سے حمایت کے سلسلے میں کہاں مدد درکار ہے؟

اخلاق جوکھیو: ہر مسئلے کی جڑ جاگیرداری ہے اور بیشتر سیاست دان جو حکومت میں آتے ہیں ان کے پاس پیچھے سے کافی حمایت حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت ہماری برادری کو کوئی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ پچھلی حکومتوں کی طرف سے صحافیوں کو کوئی مدد نہیں فراہم کی گئی۔ لیکن اگر مختلف تنظیمیں اور حکومت مل جائیں تو یقیناً فرق لایا جا سکتا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: ہمیں اس بات کا پتہ ہے کہ سندھی زبان کا میڈیا سندھ میں کافی طاقتور ہے۔ ہمیں وجہ بتائیں کہ سندھی میڈیا کیوں اتنا طاقتور ہے؟

اخلاق جوکھیو: سندھ میں جی ایم سید سندھی قوم پرستی کے بانی قرار دبیے جاتے ہیں جنہوں نے سندھیوں کو ان کی پہچان دی۔ انہوں نے لوگوں کو اپنی مادری زبان کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ اس کے ساتھ انہوں نے سندھی زبان کی فروغ کے لیے ”سندھ ادبی بورڈ” کی بنیاد رکھی تاکہ سندھی ادب کو فروغ مل سکے۔ اس کے علاوہ بھٹ شاہ ادبی سینٹر آف سندھی ثقافت کے تحفظ کی بھی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔ اس طرح انہوں نے سندھی زبان کا تحفظ کیا۔ آج سندھ میں مختلف سندھی زبان کے اخبار شائع ہوتے ہیں۔ شام میں کوئی اخبار شائع نہیں ہوتا جس کا مطلب ہے کہ سندھی میڈیا میں کوئی پیلا اخبار نویس نہیں ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -