جنوری 2019 میں دو سالوں میں صحافیوں کے خلاف سب سے کم واقعات

جنوری 2019 میں دو سالوں میں صحافیوں کے خلاف سب سے کم واقعات

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ جنوری 2019 

جنوری 2019 میں صحافیوں پر تشدد کے تین واقعات سامنے آئے جن میں زخمی ہونے اور قانونی مقدمات شامل تھے۔ ان واقعات کی تعداد فروری 2017 سے لے کر اب تک سب سے کم تھی، جب سے فریڈم نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے ادارے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے ان پر نظر ثانی کرنی شروع کی تھی۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

تمام تین واقعات پنجاب سے رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

زخمی: 15 جنوری کو کوہ نور ٹی وی کے عملے پر لاہور میں موجود ایک مساج سٹور کے عملے نے حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں کوہ نور ٹی وی کا کیمرامین بھی زخمی ہوگیا۔ علاقائی پولیس نے کوہ نور کے عملے کے خلاف کیس درج کر دیا کیونکہ وہ راز داری کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ ٹی وی کے عملے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو ان جیسے سینٹر پر ہی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

قانونی کیس: 10 جنوری کو احتجاج کر نے والے کارکنان پر لاٹھی چارج کرنے کی ویڈیو بنانے کے سلسلے میں گوجرانوالہ پولیس نے روزنامہ ”ڈیویشنل ٹائم” کے ایڈیٹر ملک توصیف کشمیری اور اس کے ساتھی محمد رفیق پر ایف آئی آر درج کر دی۔ اس کوریج نے وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر لازم کر دیا کہ وہ اس کوریج کو فورا روکیں۔ ملک توصیف کشمیری کے مطابق بعد میں پولیس اہلکاروں نے وہاں موجود صحافیوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کر دی۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے صحافیوں کو کام میں دخل اندازی کرنے کے جرم میں ان پر ایف آئی آر درج کی۔

رہائش پر حملہ: 25 جنوری کو راولپنڈی کے علاقے سیٹیلائٹ ٹاون کے بلاک ایف کے رہائشی ”روزنامہ خبریں” کے صحافی عمر شیخ کی رہائش میں پانچ نامعلوم افراد نے رات ساڑھے دس بجے گھسنے کی کوشش کی۔ قسمت سے گھر کے گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔ تالا لگا دیکھ کر نامعلوم افراد فرار ہو گئے جب انہیں شک ہونے لگا کہ ساتھ والے ہمسائے ان کے وہاں موجود ہونے پر تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ نامعلوم افراد اپنی گاڑی میں فرار ہوگئے۔ صحافی نے ’15’ پر کال کی اور ایمرجنسی پولیس وہاں فورا پہنچ گئی۔ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔

پیمرا کے اقدامات:

پیمرا نے نیو ٹی وی چینل کو نازیبہ زبان استعمال کرنے پر نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو تاکید کی کہ وہ عدلیہ کے حوالے سے کچھ نشر نہ کریں اور صبح کے مارننگ شوز پر قابل اعتراض مواد نشر نہ کیا جائے۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں ہونے والے ادارے

صحافیوں کے خلاف درج ہونے والے دو کیس میں سے ایک ٹی وی اور دوسرا پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والا صحافی تھا۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے ادا کار

مبینہ طور پر دھمکی دینے والے ادا کار دو کیسوں میں ملوث تھے جن میں پولیس اور مساج سنٹر والے واقع شامل ہیں۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -