صحافی کے قتل کے علاوہ دسمبر 2018 میں 11 واقعات رپورٹ کیے گئے

صحافی کے قتل کے علاوہ دسمبر 2018 میں 11 واقعات رپورٹ کیے گئے

ایف این دھمکیوں کا تجزیہ – دسمبر 2018

ایک صحافی کے قتل کے علاوہ سات شعبوں میں 11 ایسے کیس رونما ہوئے جن میں ہراساں کیا جانا، حراست، زخمی ہونا اور دھونس دھمکی دینا شامل ہیں۔ یہ 11 کیس خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں درج کیے گئے جبکہ دسمبر 2018 میں میڈیا نگران تنظیم فریڈم نیٹ ورک سے منسلک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے مطابق  بلوچستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: ضلع نو شہرہ سے تعلق رکھنے والے روز ٹی وی کے نوجوان صحافی نور الحسن کو 3 نومبر کو پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقع میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے صحافی کے بھائی محمود خان کے مطابق اس کا بھائی اور وہ دونوں موٹر سائیکل پر سوار تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ محمود کے بھائی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ اس کے بھائی کو کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی۔ قتل کے پیچھے مقصد کا ابھی تک پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

حراست: 9 دسمبر کو کراچی میں دی نیشن کے ایڈیٹر منصور علی خان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ تاہم سوسائٹی کے شور پر اسے جلد رہا کر دیا گیا۔ ایڈیٹر نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک صحافی ہے اور اپنی شناخت کے لیے وہ انہیں دستاویزات فراہم کر رہا ہے۔ اس کے باوجود پولیس نے اسے کافی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔ صحافی ایم کیو ایم کی کوریج کر کے واپس گھر لوٹ رہا تھا۔

ہراساں: 10 دسمبر کو پولیس نے شبر عظمی کے گھر پر چھاپا مارا۔ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بغیر وارنٹ کے صحافی کے گھر میں داخل ہوگئے۔ گھر والوں کا کہنا تھا کہ ”وہ بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے۔”

حملہ: گھر واپس آتے ہوئے 11 دسمبر کو روزنامہ عوامی آواز کے سینئر صحافی محمد علی نقوی پر حملہ کیا گیا۔ صحافی پر حملہ اس لیے ہوا کیونکہ وہ کورنگی کے علاقے میں موجود گروہوں کے کیے جانے والے جرائم پر رپورٹنگ کر رہا تھا۔ صحافی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتا یا کہ ”منشیات مافیا نے مجھے دھمکیاں دیں ہیں۔” پولیس نے اس پر ایف آئی آر درج تو کی ہے لیکن تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

زخمی: 25 دسمبر کو مٹھی تھر پارکر میں لینڈ مافیا پر رپورٹنگ کرتے وقت عوامی اخبار کے غازی بجیر، صبح اخبار کے سجاول اور سندھ ٹی وی چینل کے سندر راٹھور پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔ یہ کہا گیا ہے کہ جس وقت یہ صحافی رپورٹنگ کر رہے تھے لینڈ مافیا کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔ اس معاملے کو سندھ حکومت تک پہنچایا گیا اور سندھ حکومت کے میڈیا نمائندے مرتضی وہاب نے سینئر پولیس افسران کو طلب کر کے صحافیوں کے ساتھ اس سلوک پر رپورٹ درج کروانے کو کہا۔

17 دسمبر کو پارلیمنٹ سے باہر آتے وقت سما نیوز چینل کے کیمرامین سید واجد علی شاہ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی محافظ نے حملہ کر دیا۔ ایک گارڈ نے کیمرامین کو دھکا دیا جبکہ دوسرے نے اس کے منہ پر لات مار کر اسے زخمی کر دیا جس کے نتیجے میں کیمرامین کو ہسپتال لے جانا پڑا۔ پولیس نے محافظ کو فوری طور پر گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔

زبانی دھمکیاں: 18 دسمبر کو روزنامہ پاکستان کے صحافی فرحان حسین نے رپورٹ کیا کہ اسے پولیس کی طرف سے دھمکی آمیز کالز آ رہی ہیں کیونکہ اس نے راولپنڈی میں لینڈ مافیا کے بارے میں کافی کچھ لکھا ہے۔ اس معاملے کو پولیس تک پہنچایا گیا جنہوں نے ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا۔

قانونی کیس: پختون تحفظ موومنٹ کی ریلی کی کوریج کرنے پر ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس نے 11 دسمبر کو سینئر صحافی سیلاب محسود کے خلاف کیس درج کر دیا۔

31 دسمبر کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف علی خان نے نو شہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے صحافی اخلاق جوکیو کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی۔ ضلعی عدالت میں اس سے پہلے اخلاق کو لینڈ مافیا کی خبریں چلانے کے سلسلے میں قید کی سزا سنائی تھی۔

پیمرا ایکشن: دسمبر 2018 میں پیمرا نے 22 نوٹس جاری کیے۔ نیو نیوز کو ایک نسلی اقلیت کے خلاف غلط گفتگو کرنے پر نوٹس دیا گیا۔ اس کے علاوہ جیو نیوز، اے آر وائے نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، ایکسپریس نیوز، نیو نیوز، 24 نیوز، بول نیوز، 7 نیوز، میٹرو 1، ہم نیوز، سما نیوز، پبلک نیوز، جی این این نیوز، چینل 5، اور ے 21 نیوز کو نازیباگفتگو نشر کرنے پر نوٹس جاری کیےگئے۔ بول ٹی وی کو منع کیا گیا کہ وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مراد سعید کے خلاف غلط بیانی نہ کی جائے۔ اس کے علاوہ پیمرا نے جھوٹی خبریں پھیلانا، عدالتی کارروائیوں کی کوریج اور پاکستان کی بہتر منظر کشی کرنے پر زور دیا ہے۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے واقعات

پرنٹ میڈیا اور ٹی وی کے صحافیوں کے خلاف اس ماہ 11 کیس درج ہوئے۔

میڈیا پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے عناصر

11میں سے 7 کیس ایسے تھے کہ جن میں پولیس اور لینڈ مافیا شامل تھے۔ اس کے علاوہ تین کیس تھے جن میں سے ایک میں پاکستان مسلم لیگ (ن) تھی جبکہ دوسرے میں دو جرائم پیشہ تنظیمیں تھیں۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -