کراچی پریس کلب جہاں ایک روایت کا قتل ہوا؟

کراچی پریس کلب جہاں ایک روایت کا قتل ہوا؟

غلام  مصطفیٰ

کراچی کی زینب مارکیٹ کے پیچھے پیلے پتھروں کی بنی قدیم عمارت بھوت بنگلہ نہیں ہے، لیکن یہ جابروں، آمروں اور سچ پر پردے ڈال کر تاریکیوں کا دھندا کرنے والوں کے لیے بھوت بنگلہ جیسی خوفناک رہی ہے۔ وہ جن کے اک اشارے پر زندان کے دروازے کھول دیئے جاتے تھے، ان کے لیے اس عمارت کے دروازے کبھی نہ کھلے۔ طاقت کے نشے میں چور، گردن میں سریا ڈالے ظالموں کو یہاں بیٹھنے والے نہتے لوگ کبھی اچھے نہیں لگے ہیں۔ ان کی انگلیوں اور انگوٹھے میں دبے قلم کی حرکت جب دوسرے روز اخبار کی خبر بن کر ان کے میز تک پہنچتی ہے تو ان کی ایڑی میں لگتی اور سر پر جا کر بجتی ہے۔ حکومتوں پر کنٹرول کے خواہاں کراچی پریس کلب پر بھی قبضے کے خواب دیکھتے رہے۔ قبضہ تو دور کی بات ان میں تو اس کا پھاٹک عبور کرنے کی بھی کبھی ہمت نہ ہوئی۔

ضیاء الحق کا مارشل لاء ہو یا پرویز مشرف کا یا اس سے بھی پہلے ایوب خان کی آمریت۔ کسی آمر کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ہمت و جرت کے استعارے کی جانب اشارہ بھی کرتا۔ یہ پریس کلب کا رعب ہی تھا کہ کبھی کسی باوردی افسر نے اندر داخل ہونے کی کوشش نہ کی۔ کلب کے باہر مظاہرے ہوتے تھے، آنسو گیس کے شیل گرتے تھے تو ایسے میں مظاہرین بھاگ کر کلب میں آ جاتے تو گویا انہیں امان مل جاتی۔ ہم  نے ریاست کے باغیوں کو بھی پریس کلب میں گھنٹوں بیٹھے دیکھا کہ باہر پولیس انہیں گرفتار کرنے کو کھڑی تھی۔ لیکن اندر نہیں آ پا رہی کہ یہ پریس کلب ہے اندر کیسے جائیں؟ بھلے وقتوں کی باقی ماندہ چند روایتوں میں سے ایک تھی جو افسوس کہ قتل ہوئی۔۔۔۔

پانچ اور چھ نومبر 2018 کی درمیانی شب سادہ لباس والے کلب میں بزور طاقت گھسے، تلاشیاں لیں اور اپنے رویوں سے ایک واضح پیغام دے کر ایک خوبصورت روایت کو روندتے ہوئے چلے گئے۔ پاکستان میں صرف ایک ہی قانون ہے اور وہ ہے طاقتور کے اختیار کا قانون۔

رات کے اندھیرے میں اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں سیل فون کے کیمرے سے محفوظ کئے گئے مناظر میں سفید اور سیاہ لینڈ کروزر دکھائی دے رہی تھیں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہلکار بھی سادہ لباس میں دکھائی دے رہا تھا۔ انتہائی خطرہ مول لے کر سیل فون سے وڈیو بنانے والے ایک نڈر کورٹ رپورٹر نے انہیں جا لیا اور سوال جواب شروع کر دیئے۔

’’کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟ ‘‘

شکل ہی سے پولیس اہلکار لگنے والا جوان کہنے لگا: ’’بڑے بھائی میں تو ایسے ہی آیا ہوں۔‘‘

’’پھر اندر کیوں آئے تھے؟‘‘

’’اندر میں تھوڑا گیا تھا زینب مارکیٹ آیا تھا‘‘

’’تھانہ کون سا ہے؟‘‘

’’بھائی جان میں پرائیوٹ آدمی ہوں۔‘‘

’’پرائیوٹ آدمی ہیں تو اندر کیوں گئے تھے؟‘‘

جواب میں وہ شخص کہنے لگا: ’’میں تو اندر نہیں گیا تھا میں تو یہاں سے گزر رہا تھا۔‘‘ اور پھر وہ ان لینڈ کروزروں میں سے ایک میں بیٹھ کر روایت کی لاش پر قدم رکھ کر آگے بڑھ گیا۔

کراچی پریس کلب کراچی میں صحافیوں کا گھر ہی نہیں ہے جدوجہد کا استعارہ ہے۔ آمریت کے بدترین دنوں میں اگر کہیں سے ڈکٹیٹرشپ پر ضرب پڑتی تھی تو وہ اسی عمارت کے مکینوں سے ہی پڑتی تھی۔ ان کے قلم آمروں کے شاہانہ آمرانہ فیصلوں کی دھجیاں اڑا دیا کرتے تھے اور جواب میں گرفتار ہو کر جیل کی کوٹھڑیوں کے ننگے فرش اور سرد دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے، لیکن کبھی نہ جھکتے۔

اس عمارت کا ایسا ’’خوف‘‘رہا کہ اس کی ساٹھ سالہ تاریخ میں کسی آمر نے اس کی جانب دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یہ پریس کلب کا وقار اور ایک طرح سے پیلے پہاڑی پتھروں سے بنی چار دیواری پر بھروسہ اور اعتماد بھی تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلوم تھا کہ اس عمارت میں رات کے چار چار بجے تک چائے کی پیالیاں ہاتھوں میں لیے سیاہی مائل ہونٹوں سے سگریٹ پھونکنے والے تو ملیں گے لیکن وطن کے خلاف کہیں لگنے والی آگ کو ہوا دینے والے نہیں۔

بحیثیت کراچی پریس کلب کے رکن ان آنکھوں نے اس عمارت کے عزت، وقار اور رعب کے کئی مناظر دیکھ رکھے ہیں۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی کراچی پریس کلب کا احترام کئی دہائیوں سے ایسی انہونیوں کو جنم دیتا رہا ہے ۔ مشرف کے دور میں صحافیوں نے احتجاج بھی کیا۔ جب تک یہ احتجاج کلب کی چار دیواری کے اندر رہا پولیس کھڑی دیکھتی رہی، برداشت کرتی رہی اور جب صحافی احتجاج کرتے ہوئے کلب کا پھاٹک عبور کرکے باہر نکلے پولیس نے ایک منٹ کے لیے برداشت نہیں کیا اور ایک ایک کو پکڑ کر پولیس موبائلز میں ڈالتی رہی۔ یادش بخیر 140صحافی گرفتار ہوئے تھے۔۔۔کلب کا وقار احترام ایک ان لکھا معاہدہ تھا جس پر سب ہی عمل کرتے تھے۔ کلب میں کبھی کسی ملک، سماج دشمن کو پناہ اور حمایت نہیں ملی لیکن 2018 کے اس نومبر میں جمہوری جیالی حکومت کے دور میں یہ روایت بھی بالا طاق رکھ دی گئی۔ اس خوبصورت روایت کے قتل پر نہ تو وزیر اعلیٰ کی پیشانی پر بل پڑے نہ شرمساری سے نظریں جھکیں۔ مراد علی شاہ اب کچھ بھی کہیں، ان کی پارٹی کتنی ہی نفیساوں کو بھیجے مگر یہ بدنما داغ نہ صرف مراد علی شاہ بلکہ پیپلز پارٹی کی پیشانی سے کبھی نہیں مٹ سکے گا۔

رات کے پچھلے پہر دروازے پر زور درا دستک ہوئی اور سامنے وہی بے نمبر گاڑیاں تھیں۔ روزنامہ نئی بات کے سینئر سب ایڈیٹر اور کراچی پریس کلب کے رکن کو بنا کسی وارنٹ کے گاڑی میں ڈالا گیا۔ نصراللہ چوہدری پر اس مملکت خداداد میں کہیں کوئی مقدمہ نہیں۔ صحافیوں کا سخت ردعمل دیکھ کر پہلے جوڑ توڑ کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔اور کہا گیا کہ احتجاج ختم کردیں۔۔۔۔ہم صحافی کو رہا کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔مگر ناکامی پر نصراللہ چوہدری کو مذہبی منافرت کا مواد رکھنے کے الزام میں عدالت میں لے آئے۔

یہ صرف  ایک واقعہ نہیں  اسکے بعد سینیئر صحافی   شبر عظمی  کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ وہ صحافی جنہوں نے  آمریت اور مارشل لاوں  کا مقابلہ کیا۔ اور جو اب اپنی زندگی  کے آخری ایام بیماری کی حالت میں وہیل چیئر پر گزارتا ہے۔ سینیئر صحافی کے گھر کی تصاویر اور وڈیوز بنائی گئیں اور فیملی کو ہراساں کیا گیا۔ یہ سب کر کے کراچی کی صحافی برادری کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟؟؟

اس بار مقابلہ بس غیراعلانیہ مارشل لاء سے ہے۔۔۔۔۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -