بلوچستان میں صحافیوں کے لیے عارضی سکون

بلوچستان میں صحافیوں کے لیے عارضی سکون

عدنان عامر

پچھلی دو دہائیوں سے بلوچستان کو پاکستان کے غیرمستحکم علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان غیریقینی حالات کی وجہ سے صوبے کے صحافیوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2005 میں تنازعات کے آغاز سے اب تک بلوچستان میں 30 صحافی مارے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ دھمکانے اور اغواء کے بھی کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ تاہم اس سال صحافیوں پر حملوں کے حوالے سے بلوچستان میں حالات کافی پرسکون رہے ہیں جس پر مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات پر تفتیش کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ پرسکون حالات عارضی ہیں یا مستقل؟

جنوری سے اب تک کسی ایک صحافی پر جسمانی حملہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کوہلو پریس کلب کے صدر زیبدار مری کو الیکشن سے قبل نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا لیکن چند دنوں بعد چھوڑ دیا۔ اس ایک واقعہ کے علاوہ، جو کوہلو کی اندرونی سیاست کے تحت رونما ہوا، بلوچستان کے صحافیوں نے اس سال سکون کا سانس لیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک نے اس پرسکون سال کی وجوہات دریافت کتنے کے لیے معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ سامنے آئی کہ بلوچستان کے صحافیوں نے سینسرشپ اختیار کر لی ہے۔ صحافیوں کو اب یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کس حد تک جا کر کسی خبر کی رپورٹنگ کرسکتے ہیں۔ انہیں بخوبی یہ بات معلوم ہے کہ ایک حد سے بڑھ کر وہ اپنا کام نہیں سر انجام دے سکتے۔ پچھلے سالوں میں صحافیوں پر ان باتوں پر حملے کیے جاتے تھے جن پر آج رپورٹنگ کرنا وہی صحافی اب مفید نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے ان پر اس سال کوئی حملے نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود کافی صحافیوں کو اب بھی اس بات سے مکمل واقف نہیں ہیں کہ وہ کن واقعات پر کس حد تک رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع دالبندین سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی علی رضا رند کا ماننا ہے کہ ضلع چاغی میں صحافیوں کو کسی قسم کی دھمکیاں موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم علی کا ماننا ہے کہ صحافیوں نے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے سے گریز کر لیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے علی کا کہنا تھا کہ ”صحافی اب لاپتہ افراد اور سرحد پر رونما ہونے والی خبروں پر رپورٹنگ سے گریز کرنا شروع ہوگئے ہیں لیکن اس کے علاوہ باقی تمام مدعوں پر رپورٹنگ کی جاسکتی ہے۔” ان مشکلات کے دور میں صحافیوں نے سینسرشپ کی مدد سے اپنا تحفظ یقینی بنایا ہے۔

اس کے علاوہ دوسری وجہ یہ ہے کہ میڈیا کے اداروں نے بلوچستان سے آنے والی ”منفی خبروں” کو نہ نشر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر کوئی صحافی اس صوبے میں کسی ایسے موضوع پر بات کرتا ہے جس کا شمار منفی خبروں میں ہوتا ہے تو اس خبر کو اس صحافی کی میڈیا تنظیم رد کر دیتی ہے۔ میڈیا مینجروں نے خود اپنے رویے بدل لیے ہیں جس کی بدولت وہاں کے صحافی پہلے ملنے والی دھمکیوں سے بھی اب محفوظ ہوگئے ہیں۔

گوادر سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی صداقت بلوچ نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا ہے کہ ان کا چینل گوادر کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ”منفی خبر” نشر نہیں کرے گا۔ صحافی ہونے کے ساتھ بلوچ گوادر پریس کلب کے صدر بھی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ”میں نے سی پیک کے حوالے سے گوادر کے شہریوں کو پیش آنے والی  بے شمار مشکلات کے حوالے سے خبریں اکٹھی کی ہیں لیکن میری میڈیا تنظیم انہیں نشر نہ کرنے کے لیے ایک سے ایک نیا بہانا بنا کر مجھے منع کر دیتی ہے۔” بلوچ کو شک ہے کہ اس کا ادارہ گوادر کے حوالے سے منفی رپورٹنگ نہیں دینا چاہتا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے میڈیا کو غیرجانبدار بنا دیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”شروع سے ہی بلوچستان میں میڈیا آزاد نہیں تھا اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ ہمیں مار پیٹ کر عارضی سکون دلا دیا گیا ہے۔” ماضی میں باغی میڈیا اور صحافیوں پر حملے کرتے تھے جب صحافی ان کا نقتہ نظر شائع نہیں کرتے تھے لیکن اب وہ بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ صحافی بیچارے خود بے بس ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”میڈیا مالکان نے طاقتور قوتوں کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس کی بدولت وہ مشکلات میں صحافیوں کی مدد نہیں کرتے اور بدلے میں صحافی بھی خطرہ لینے کو تیار نہیں ہیں۔”

اس کے علاوہ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اب بلوچستان میں لوگ صحافت کی طرف کم رجوع کر رہے ہیں۔ صحافیوں پر ہونے والے مسلسل حملوں نے اس پیشے سے جڑی دلکشی ختم کر دی ہے۔ صوبے میں 300 سے زائد ہلاکتوں کے بعد آنے والی نسل نے اس پیشے کو ہاتھ نہ لگانے کا سوچ لیا ہے۔ چونکہ نئے آنے والے صحافیوں میں ہی نئی خبر کھوجنے کا جوش اور ولولہ ہوتا ہے تو ان کی کمی کے وجہ سے ہی حالات اس موڑ پر آکر کھڑے ہوئے ہیں۔

گوادر میں موجودہ صورتحال بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ نئی نسل صحافت کے پیشے سے دور بھاگنا چاہتی ہے۔ بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر کے وہ طلبہ جو ماس کمیونیکیشن میں ڈیگری حاصل کر رہے ہیں وہ صحافی نہیں بن رہے۔ وہ اور نوکریوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں یا پھر کچھ عرصہ بے روزگار بیٹھے رہتے ہیں لیکن صحافت کا پیشہ خطرناک ہونے کی وجہ سے اختیار نہیں کرتے ہیں۔ بلوچ کا کہنا ہے کہ ”پچھلے 5 سالوں میں سی پیک کے آنے کے باوجود گوادر پریس کلب میں صرف دو نئے صحافی آئے ہیں۔”

ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات کرنا غلط نہیں ہوگی کہ بلوچستان میں صحافیوں پر ہونے والے واقعات میں کمی کی وجہ بہتر سکیورٹی کے حالات نہیں ہیں۔ یہ پرسکون ماحول کب تک قائم رہتا ہے کسی کو معلوم نہیں اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ دوبارہ کسی صحافی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ جب بھی کوئی نیا صحافی جنون کے ساتھ کام کرنے کے لیے میدان میں اترے گا تو وہ یقینا کسی حساس مدعے پر بات کرنے کی کوشش کرے گا جس کی بدولت اسے حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے صحافیوں کو معلوم ہے کہ یہاں پر صحافیوں پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

عنوان: دالبندین پریس کلب کے صحافی خطرات سے محفوظ رہنے کے حوالے گفتگو میں مصروف

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -