ہم میڈیا نگران ادارے کے قیام کے مخالف ہیں: عارف نظامی

ہم میڈیا نگران ادارے کے قیام کے مخالف ہیں: عارف نظامی

پاکستان کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹر کے صدر عارف نظامی کی فریڈم نیٹ ورک سے خصوصی گفتگو میں ملک کے میڈیا کو درپیش چیلنجوں کا ادراک کرتے ہیں 

شہزادہ عرفان احمد

فریڈم نیٹ ورک: آزاد پریس کو پی ٹی آئی کی نئی حکومت میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

عارف نظامی: میڈیا کو پی ٹی آئی کی حکومت میں دو قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا مسئلہ اخبارات کو اقتصادی طور پر ہے جبکہ دوسرا آزادی رائے میں کمی کا ہے۔ پہلے مسئلے کے جواب میں حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ اب نئے دور کے میڈیا – سوشل میڈیا پر یقین رکھتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اب فرسودہ ہوگئے ہیں۔ حکومت کا یہ موقف ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ضرورت ہی نہیں ہے، وہ اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر کرتے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک: کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز ان مشکلات کے خلاف کیا اقدامات کر رہا ہے؟

عارف نظامی: ہم نے حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر انہیں اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ میڈیا معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے جسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ میڈیا کا بھی معاشرے میں ایک کردار ہے۔ اس کے باوجود وفاقی وزیر معلومات نے یہ فرمایا ہے کہ میڈیا کو سستے ریٹ فراہم کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ اس بات پر قطعی یقین نہیں رکھتے کہ میڈیا کو ذاتی اشتہارات کے لیے استعمال کیا جائے جیسا کہ شہباز شریف اور پرویز الہی کے دور حکومت میں ہوا۔ اس کے علاوہ اشتہارات کے دوسرے طریقوں پر بھی ان کے تحفظات ہیں جس کی بدولت وہ میڈیا کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی حکومت نے میڈیا پر بے شمار اشتہارات شائع کروائے جس کی بدولت انہیں میڈیا کے اداروں کی طرف سے حمایت حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ میڈیا ان کے ساتھ نہیں ہے  جس کی بدولت حکومت نے ان کی طرف کوئی حمایت نہیں دکھائی۔ اس تمام معاملے میں ہماری یہ رائے ہے کہ حکومت کو میڈیا کو ایک غیرجانبدار تنظیم سمجھنا چاہیے۔

فریڈم نیٹ ورک: سی پی این ای کے ایک وفد نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پر آر سے ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتوں میں کس موضوع پر بات چیت کی گئی اور آپ کے وفد کو کیا جواب ملا؟

عارف نظامی: جی، ہمارے ایک وفد نے ان سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان میں میڈیا کو پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔ ان کی طرف سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے اور میڈیا اداروں کے ساتھ تعاون کر کے ان کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔ تاہم اب تک کی رپورٹ کے مطابق، کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی طرف سے اشتہاری بزنس کو ہم روک نہیں سکتے لیکن اس کے سلسلے میں ہم نجی اشتہارات کو نظر انداز بھی تو نہیں کر سکتے۔ اس وقت ملک میں صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر والے بھی کاروبار میں کمی کی وجہ سے ایک عجیب غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی اور نیب کی پالیسیوں کے چند اقدامات نے سرمایہ داروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسے چیز کو ایک بہانا بنا کر میڈیا تنظیموں نے اپنے کارکنان کو تنخواہیں نہیں دیں۔ اس کی وجہ سے صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنے پڑتا ہے۔ اس معاملے میں سی پی این ای نے میڈیا کی آزادی کے خلاف کام کرنے والی تمام تنظیموں کو گہری نظر سے جانچا ہے۔ ہم میڈیا کے نگران ادارہ قائم کرنے کے خلاف ہے۔ یہ لوگ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ایک ہی  نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں – جو ممکن نہیں۔ آزادی کی خاطر پرنٹ میڈیا نے کافی کچھ کھویا ہے۔ 2007 میں ہم نے ایک پریس اور پبلیکیشن آرڈینینس کو ختم کروایا تھا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہر چیز کو چلانے کے لیے اس کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمیں ایک مسودہ قانون بنا کر دیا جائے گا لیکن ہم ابھی تک اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک: کیا آپ کی تنظیم نے ملک کے چند علاقوں میں ڈان اور نیوز اخبار کے تقسیم پر سے پابندی ہٹائے جانے کے حوالے سے کچھ کیا ہے؟

عارف نظامی: یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ایک ایڈیٹر والی تنظیم ہونے کے باوجود ہم نے اس پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ اس مسئلے کو اے پی این ایس کی طرف سے پزیرائی ملنی چاہیے تھی جو کہ نہیں ملی۔ ہم نے تو بار بار یہ بات کی ہے کہ اس پابندی کو فورا ہٹا دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک غیر آئینی اور ناگزیر پیش رفت ہے۔

ہم نے اس مسئلے کو ڈی جی آئی ایس پر آر کے ساتھ ملاقات میں بھی اٹھایا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس پابندی کو جلد ہٹا دیا جائے گا۔ حالانکہ اس پابندی کو مکمل طور پر نہیں ہٹایا گیا لیکن اب اتنی سختی سے بھی اسے نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔ ڈی ایچ اے اور کینٹ والے علاقوں میں اخبارات پہنچ رہے ہیں۔ تاہم میرا ماننا ہے کہ فوج کو ان کاموں میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ اس پابندی شروع سے غیرضروری تھی۔

فریڈم نیٹ ورک: صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے کے بعد آزادی ملنا پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سی پی این ای نے اس مسئلے کے خلاف کیا اقدامات لیے ہیں؟

عارف نظامی: جی بالکل یہ ایک کافی بڑا مسئلہ ہے۔ صحافیوں کے لیے پاکستان بہت خطرناک جگہ تھی اور ہے۔ صحافیوں کا لاپتہ اور قتل ہونا یہاں سرعام ہوتا ہے۔ حال ہی میں، کراچی پریس کلب پر مقامی انتظامیہ کی طرف سے ریڈ کیا گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہے کے کسی پریس کلب پر ریڈ کیا گیا ہو۔ سی پی این ای صحافیوں کے خلاف تشدد کے تمام واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم پریس کلبوں پر ریڈ کے بھی خلاف ہیں۔ ہمارا موقف  یہ ہے کہ ایک صحافی پر آپ اس وقت تک کوئی الزام نہیں لگا سکتے جب تک اس کے خلاف آپ کے پاس ثبوت نہ ہوں۔

فریڈم نیلا ورک:  کیا فریڈم نیٹ ورک اور سی پی این ای مل کر پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کچھ کر سکتے ہیں؟

عارف نظامی: ہمارا کراچی میں ایک سیکرٹیریٹ ہے جس کی دیکھ بھال ہمارے ممبر جبار خٹک کرتے ہیں۔ وہ آزادی رائے سمیت بہت سے مسائل پر کافی فعال رہتے ہیں۔ ہم اپنے لیے فخر سمجھتے ہی کہ ہمیں فریڈم نیٹ ورک جیسی تنظیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے جس کی بدولت ہم صحافیوں کے تحفظ اور آزادی رائے کو یقینی بنا سکیں۔

 

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -