صحافی کے قتل سمیت اکتوبر، نومبر میں 15 واقعات

صحافی کے قتل سمیت اکتوبر، نومبر میں 15 واقعات

ایف این اعداد و شمار کا تجزیہ – اکتوبر، نومبر 2018

اکتوبر– نومبر 2018 میں آٹھ مختلف واقعات میں صحافیوں کو قتل کرنے سے دھمکیاں دینے تک کہ 15 واقعات درج ہوئے جو 10 اکتوبر اور 5 نومبر کے درمیان رونما ہوئے۔ ان تمام کیسوں کے دستاویزات فریڈم نیٹ ورک سے منسلک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے اکٹھی کی ہیں۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

نوٹ: اکتوبر نومبر 2018 کے دھمکیوں کے اعداد و شمار کو اکٹھا اس لیے پیش کیا ہے کیونکہ نومبر میں صحافیوں اور میڈیا کے خلاف جرائم ختم کرنے کا عالمی دن بھی منایا گیا تھا۔

اکتوبر 2018 کے دھمکیوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ

 اکتوبر 2018 میں قتل سمیت حملہ، ہراساں اور زبانی دھمکیوں کے دس واقعات فریڈم نیٹ ورک سے منسلک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک میں درج کیے گئے۔

قتل: 16 اکتوبر کو کے ٹو اخبار میں منشیات فروخت کرنے کے حوالے سے خبر شائع ہونے کے چند گھنٹوں بعد خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں صحافی سہیل خان کو قتل کر دیا گیا۔ صحافی نے مبینہ طور پر قتل ہونے سے چند گھنٹے پہلے پولیس کو اطلاع دے دی تھی کہ اس کی اشاعت کے بعد سے ہی اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ اس تنبیہ کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ منشیات پر بات کرنے اور قتل کر دیئے جانے والا یہ سال میں دوسرے صحافی ہیں۔

 کے ٹو اخبار کے بیورو چیف کے مطابق دوپہر پونے چار بجے ضلع ہری پور کے قصبے ہتار میں صحافی سہیل خان کو دو افراد نے گولیاں مار کر ان کے کیری ڈبے میں ہلاک کر دیا۔ دونوں قاتلوں کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں۔ بیورو چیف نے حملے کے بارے میں مزید بتایا کہ ”مسلح افراد نے سہیل کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ ان کا نام ایف آئی آر میں درج کر وا دیا ہے۔” دونوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔

ہراساں: اسلام آباد میں اپنی رہائش کی طرف روانگی کے دوران جیو نیوز کے سینئر اسٹاف ممبر ارشد وحید چودھری کو 23 اکتوبر کو نامعلوم افراد نے ہراساں کیا۔ ”میری گاڑی کا پیچھا ایک اور گاڑی کر رہی تھی جو پہلے تو میری گاڑی کے سامنے آ کر رکی اور پھر میرا پیچھا کرنے لگی،” ارشد نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا۔ صحافی نے اپنے دفتر میں بھی اس بات کو اٹھایا تاہم نیشنل پریس کلب کے نوٹس میں لائے جانے کے باوجود ابھی تک اس معاملے پر کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے۔ جیو نیوز کے اسٹاف ممبروں کو پہلے بھی اس طرح ہراساں کیا جا چکا ہے۔

حملہ: 31 اکتوبر کو آسیہ بی بی کے کیس کی سماعت کی کوریج کرنے کے سلسلے میں آئے ہوئے روزنامہ امت کے رپورٹر فیض احمد کو تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے حملے کا نشانہ بنایا۔ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں موجود فریڈم نیٹ ورک کے چیف کو فیض نے بتایا کہ کارکنان نے اس پر غصے کا اظہار کیا کہ وہ اس واقعے کی کوریج نہ کریں۔ اس کے ساتھیوں نے اس کی جان بچائی۔ فیض نے پولیس رپورٹ درج نہیں کی کیونکہ پولیس نے کارکنان کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہی نہیں ہے۔

روہی ٹی وی کے بہاولپور بیورو چیف محسن ملک پر 6 اکتوبر کو دو نوجوانوں نے اس وقت حملہ کیا جب محسن نے انہیں ڈی ایس این جی کے ساتھ چھیڑ چھاڑی کرتے ہوئے دیکھا۔ ان دونوں نوجوانوں کی سی سی ٹی وی کے ذریعے شناخت کی گئی جن میں سے ایک بہاولپور کے جج کا بیٹا ہے۔ پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا اور جج کے بیٹے نے  اپنے دفاع میں یہ کہا کہ اس نے محسن پر حملہ اس لیے کی کیونکہ اس نے اس کے والد کے خلاف رپورٹ درج کی تھی۔ روہی ٹی وی کو جنوبی پنجاب میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

زبانی دھمکیاں: چوری پر رپورٹ شائع کرنے کے نتیجے میں پنجاب کے ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے اب تک کے صحافی عبدالرؤف بلام اور کوہ نون کے صحافی وقار احمد لشاری کو 9 اکتوبر کو نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان کو دھمکیاں دینے والے پولیس والے ہی تھے جو انہیں مجبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ اس شائع ہوئی رپورٹ کو واپس لے لیں۔ صحافیوں کے منع کرنے پر سینئر ترین پولیس افسر نے انہیں دھمکیاں دیں۔

کے ٹو اخبار کے صحافی زین ہاشمی نے بتایا کہ اسے موبائل فون پر دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ”اس نے بولا کہ وہ مجھے مار دے گا” اس کے نتیجے میں زین نے پولیس میں کیس بھی درج کروایا۔

قانونی مقدمات: 28 اکتوبر کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو صحافی محمد شریف جامرو اور زاہد خلیق سلنگی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

کشمور کی ضلعی عدالت کند کوٹ میں 1306/2018 کے سب سیکشن 22 اے کے نام کی پٹیشن دائر کی گئی جس میں یہ کہا گیا کہ یہ دونوں صحافی این ایچ اے کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ صحافیوں کا یہ ماننا ہے کہ وہ صرف کشمور پر تعمیر کیے جانے والے ناجائز ٹول پلازہ کا جائزہ لے رہے تھے۔

12 اکتوبر کو حکومتی اداروں نے دنیا نیوز کے بہاولپور کے رپورٹر رانا مقصود کے خلاف اس کے شائع کیے جانے والے تبصروں پر دو ایف آئی آر درج کروا دیں۔ کرپشن کے خلاف انتظامیہ اور سول ہسپتال کے سپرنٹینڈنٹ نے ان کے افسران پر کرپشن کے الزامات لگانے پر یہ ایف آئی آر درج کیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ صحافی نے ان سے رپورٹ کے بدلے پیسے مانگے۔ رانا مقصود نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور ان ایف آئی آر کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا کہا ہے۔

پیمرا کے ایکشن: نہال ہاشمی کی توہین آمیز تقریر نشر کرنے اور وفاقی وزیر برائے مالیات اسد عمر اور وزیر داخلہ شہر یار آفریدی کی جھوٹی تقاریر نشر کرنے پر پیمرا نے 16 چینلز کو نوٹس جاری کر دیئے۔

میڈیا کے اہلکاروں کے خلاف دھمکیاں، ان کا ہراساں جانا اور ان پر حملے

دس کیسوں میں سے چار پرنٹ اور چھ ٹی وی صحافیوں کے خلاف تھے۔ یہ کیس خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور پنجاب میں رونما ہوئے۔ سندھ اور بلوچستان میں خاموشی رہی۔

میڈیا کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے افراد

رپورٹ کیے گئے کیسوں میں پنجاب پولیس، تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان، حکومتی ادارے، جج کا بیٹا اور ایک مجرمانہ گروہ شامل ہیں۔

نومبر 2018 کے دھمکیوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ

 نومبر 2018 میں قتل سمیت حملہ، ہراساں اور زبانی دھمکیوں کے پانچ کیس فریڈم نیٹ ورک سے منسلک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک  میں درج کیے گئے۔

یہ پانچ واقعات اس سال جنوری کے بعد بس سے کم واقعات والا مہینہ ہے۔ اس کے بر عکس سب سے زیادہ واقعات فروری میں رونما ہوئے بن کی تعداد 19 تھی۔

زخمی: ایک علاقائی اخبار کے دفتر پر حملہ کر کے 12 افراد نے اخبار کے جرائم رپورٹر کامران گل کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کامران زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ روزنامہ اخبار کے دفتر میں پیش آیا جب کافی حملہ آوروں نے اس کے دفتر میں گھس کر ان کے رپورٹر کامران گل کو زخمی کر دیا۔ کامران گل نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ درجن حملہ آوروں نے اس پر تشدد کیا – جن کے ہاتھوں میں پستول اور ڈنڈے تھے۔ کامران کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے پولیس کا ہاتھ لگتا ہے۔ سٹی پولیس سٹیشن کی طرف سے جاری کردہ بیانیہ میں یہ بات واضع کی گئی ہے کہ پولیس چیف نے اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر چار اراکین کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دے دی ہے۔ اس بیانیہ میں یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ اس کمیٹی کے سربراہ پشاور کے ایس ایس پی آپریشن جاوید اقبال ہوں گے اور اس ٹیم کے باقی ممبر شہر کے ایس پی، ایس ایچ او گلبہار ہوں گے۔

حراست: پولیس کی مدد سے کراچی پریس کلب پر حملے کے ایک روز بعد 10 نومبر صبح 2 بجے قانون نافز کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کراچی کے سولجر بازار کے علاقے سے صحافی نصر اللہ چودھری کو گرفتار کر لیا۔ صحافی اردو کے اخبار نئی بات کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں سندھ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے نے نصر اللہ کے خلاف 11 نومبر کو ایف آئی آر نمبر 145/208 درج کروا دی ہے۔ اس کے ساتھ نصر اللہ پر انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون کا سیکشن 11- عائد کیا گیا۔ صحافی پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے قبضے میں جہادی مواد موجود تھا۔ اسے کراچی کی کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ضمانت دے دی گئی۔

ہراساں: ہراساں کیے جانے کے تین کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے سندھ میں ایک اور اسلام آباد میں دو درج ہوئے۔

4 نومبر کو اب تک ٹی وی کے صحافی امتیاز چانڈیو کی کراچی رہائش پر نامعلوم افراد نے چھاپہ مار لیا۔ چھاپے کے وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ نامعلوم افراد نے چانڈیو کے پاس سے کچھ قیمتی دستاویزات لے لیں۔ امتیاز کا ماننا ہے کہ یہ اس کے لیے ایک پیغام ہے۔ 5 نومبر کو درخشاں پولیس سٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا ہے کہ صحافی کو نامعلوم افراد کی طرف سے فون بھی آتے ہیں۔

13 نومبر کو سما نیوز کے رپورٹر نورا امین دانش نے اسلام آباد کے راما پولیس سٹیشن میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف درخواست جمع کروائی جو ایک کرپشن کیس میں جیل بھیجے جا چکے ہیں۔ رپورٹر کا ماننا ہے کہ اپنے کرپشن کیس کی پیشی سے پہلے کورٹ جاتے ہوئے ان سے رپورٹر نے ان کے کورٹ سے ستمبر میں فرار ہو جانے کے بارے میں پوچھا تو اس پر شاہد مسعود آگ بگولا ہو گئے اور رپورٹر سے اس کا موبائل فون چھین لیا۔ وہاں پر موجود وکلا نے اس بگڑتی صورتحال کو سنبھالا اور ویڈیو ہذف کر دینے کے بعد ہی رپورٹر کو اس کا فون واپس کر دیا گیا۔

14 نومبر کو روزنامہ مرکز اور روزنامہ ہاٹ لائن اخبار کے ایڈیٹر طارق حسیب بھٹی سمیت تحقیقاتی ایڈیٹر وسیم عباس، رپورٹر نقاش سیف اور ڈپٹی ایڈیٹر راحیلہ راجہ کو چلتی گاڑی میں روک لیا گیا۔ ان میں سے ایک نے طارق بھٹی کو گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی لیکن باقی بیٹھے ہوئے لوگوں نے انہیں باہر نکلنے نہیں دیا اور گاڑی کو بھگا کر لے گئے۔ سڑک پر موجود ایک شخص نے ان پر فائرنگ بھی کی لیکن تمام لوگ بچ گئے۔ اس کے نتیجے میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

کے پی سی پر چھاپہ: تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے بس سے بڑے پریس کلب – کراچی پریس کلب پر چھاپہ پڑا ہو لیکن اس ماہ یہ تاریخ بھی رونما ہوگئی۔ سادہ لباس میں ملبوس پولیس نے 8 نومبر کو کراچی پریس کلب پر چھاپہ مارا اور چند کمروں کی تلاشی لی۔ تاہم انہوں نے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی اور نا ہی وہ کوئی چیز یا سامان ساتھ لے کر گئے۔ اس چھاپے کی خبر نے پاکستان بھر کے صحافتی برادری کو ششدر کر دیا جو اس واقعے پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے پر رضامند ہیں۔

پیمرا ایکشن: نومبر 2018 میں پیمرا نے کسی نیوز چینل کو نوٹس جاری نہیں کیے۔

میڈیا کے اہلکاروں کے خلاف دھمکیاں، ان کا ہراساں جانا اور ان پر حملے

پانچ کیسوں میں سے تین پرنٹ اور دو ٹی وی صحافیوں پر مشتمل تھے۔ یہ پانچ کیس خیبر پختونخوا، سندھ اور اسلام آباد میں رونما ہوِئے۔

میڈیا کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے افراد

نومبر 2018 میں پاکستان بھر میں سندھ  پولیس، پنجاب کی ریاستی پولیس اور نامعلوم افراد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے خلاف کیسوں میں رپورٹ کیےگئے تھے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -