افغانستان – صحافیوں کے لیے زندگی تنگ

افغانستان – صحافیوں کے لیے زندگی تنگ

انیس الرحمان

افغانستان میں صحافیوں کو کافی دشوار حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ انہیں عموماً تشدد کا نشانہ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی رپورٹنگ نہیں کی جاتی لیکن 2018 کے پہلے نو ماہ افغانستان میں موجود صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خونی اور دشوار ثابت ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران، کابل میں موجود افغان جرنلسٹ سیفٹی سینٹر نے تشدد اور دھمکیوں کے 89 کیس ریکارڈ کیے جن میں سے گیارہ ایسے تھے جن میں صحافیوں کی ہلاکت واقع ہوئی۔ ان گیارہ صحافیوں کی ہلاکت ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ تھی۔ ان میں سے نو کی ہلاکت کابل میں خود کش حملے کی وجہ سے ہوئی، جس کی ذمہ داری داعیش نے قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ دو صحافیوں کو صوبہ  کندھار اور خوست میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس سال صحافیوں پر کیے جانے والے تشدد کا پیمانہ ناقابل تصور سطح تک پہنچ چکا ہے۔

مشکلات سے دوچار ایک افغان صحافی مختلف گروہوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے باوجود اپنا کام سرانجام دیتا رہتا ہے۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں 75 ٹی وی چینل، 185 ریڈیو سٹیشن اور ایک ہزار سے زائد اخبارات، رسالے اور آن لائن ویب سائٹ موجود ہیں۔ تشدد کے باوجود افغان میڈیا معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس وقت آزادی رائے، میڈیا کی آزادی اور معلومات پھیلانے کی پالیسیاں کافی کمزور ہیں کیونکہ حکومت، دیگر ادارے اور میڈیا کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔

جنگ کے دوران رپورٹرز کو ایک مخصوص احاطے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن افغانستان میں صحافیوں کو خود معلوم نہیں کہ کس خبر کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہیں اور کس خبر کی معلومات حاصل کرنے سے گریز کرنا ہے۔ افغان میڈیا پر دہشت گردی کے واقعات ایک جنگ میں ہونے والے جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ افغانستان میں صحافت کی زندگی بہت چھوٹی رہ گئی ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان حالات میں صحافت کیسے چلے گی۔ بین اقوامی برادری کو ان حالات کے پیش نظر افغانستان کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔

افغانستان میں پیش آنے والے ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان میڈیا نے بین القوامی ایجنسیوں سمیت بین اقوامی ادارہ انصاف سے گزارش کی ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات کروائیں۔

 افغان فیڈریشن آف جرنلسٹ، کابل پریس کلب، افغان جرنلسٹ سیفٹی کمیٹی، بین القوامی فیڈریشن آف جرنلسٹ، افغان انڈیپینڈنٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے ہر بار ایسے واقعات رونما ہونے پر مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں لیکن پیشہ ورانہ وسائل کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ان بیانات کو کوئی عملی پجامہ نہیں پہنا سکے ہیں۔

صحافیوں نے کافی مرتبہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی حفاظت کو ترجیح دی جائے لیکن حکومت نے ان کی ایک نہ سنی۔ صحافیوں کو ان کی تنخواہیں بھی مشکل سے ملتی ہیں۔ ان کے پاس کوئی بیمہ پالیسی بھی نہیں ہوتی اور ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے گھر میں آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں بچتا۔ تمام افغان صحافیوں کی طرف سے میں بین الاقوامی برادری سے گزارش کرتا ہوں کہ جلداز جلد متاثرین خاندانوں کی مدد کی جائے۔

 5 ستمبر کو شام 6 بجے مغربی کابل میں خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے کی خبریں نیوز چینلز پر چلنا شروع ہو گئیں اور اسی دوران ایک دوسرا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو صحافی ہلاک ہوگئے۔ صمیم فراز اور رمیز آفریدی (تولو اور خورشید ٹی وی) کے صحافی اس حملے میں شہید ہوگئے جبکہ خالد نکزاد، حسین منیش، سیار اور امن فرہنگ زخمی ہوئے۔

 اس سال کچھ ماہ قبل کابل شہر کے علاقے شاہ درک میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم از کم نو صحافی شہید ہوگئے تھے۔ شہید ہونے والوں میں آزادی ریڈیو سے تعلق رکھنے والے محرم درانی، صباون کاکڑ اور عبداللہ ہنانزئی تھے جبکہ تولو کے کیمرامین یار محمد توکی، 1ٹی وی کے صحافی غازی رسولی اور نوروز علی رجبی شامل تھے۔ اس کے ساتھ اے ایف پی کے فوٹوگرافر شاہ مرائی اور سلیم تلاش جبکہ مشال ٹی وی کے علی سلیمی شامل تھے۔ خوست شہر میں بی بی سی کے رپورٹر احمد شاہ بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

کابل پریس کلب نے حکومت سے کافی مرتبہ التجا کی ہے کے صحافیوں اور ان کی میڈیا تنظیموں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ کابل پریس کلب نے ایک بار یہ اعلانیہ بھی جاری کیا تھا کہ میڈیا چینلز کے مالکان ملک سے باہر رہتے ہیں اور چینلز کے سی اوا و  بھی اپنے دفاتر سے باہر نہیں نکلتے جبکہ تمام رپورٹرز جنگی علاقے میں کام کرتے سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی ہے۔

صحافیوں کی شہادت کے علاوہ اے جے ایس سی نے ذلت اور برے سلوک کے 19 کیس ریکارڈ کیے ہیں، جسمانی چوٹیں پہنچانے والے 11 کیس، دھمکانے کے 28، قید کے 5 اور ناجائز جلاوطن کرنے کا ایک کیس درج کیا ہے۔ 2017 کے پہلے چھ ماہ میں اے جے ایس سی نے 73 کیس ریکارڈ کیے تھے جس کے نسبت 2018 کے پہلے چھ ماہ میں ان کیسوں کی تعداد میں 22 فیصد اضافہ آیا ہے۔

ان واقعات کے باوجود تولو ٹی وی نے اپنے صحافیوں کو مزید سکیورٹی فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ میرے ساتھی مجھے بتاتے ہیں کہ جب ہم انتظامیہ سے سکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ بدلے میں ہمارے استعفے مانگتے ہیں۔

تشدد اور دہشت پھیلانے میں داعش اور طالبان کا کافی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ یہ دو تنظیمیں 37 واقعات میں ملوث رہی ہیں۔ تشدد اور دہشت پھیلانے میں حکومتی اور سکیورٹی ادارے 36 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ نامعلوم افراد 14 واقعات کے ساتھ تیسرے جبکہ میڈیا کے اداروں کے مالکان دو واقعات کے ساتھ چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ ان تمام واقعات میں سے 27 ایسے ہیں جو کابل اور شمالی صوبوں میں پیش آئے ہیں، 14 جنوبی مشرق، 11 جنوب، 6 شمالی مشرق، 4 شمال، 4 مشرق اور 3 سینٹرل زون میں ہیں۔

افغان صحافیوں کے لیے صحت کی تحفظ کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔ جب کبھی بھی کوئی صحافی زخمی ہوتا ہے تو ناتو حکومت اسے مالی طور پر مدد فراہم کرتی ہے اور ناہی میڈیا چینلز یا میڈیا کی بنائے ہوئے تنظیمیں۔

وزارت اطلاعات کی طرف سے کوئی خصوصی بجٹ کا اعلان بھی نہیں کیا جاتا۔ صحافی اپنے وسائل اور سہولیات پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک ماہ قبل صوبہ غازی میں آٹھ ریڈیو اور دو ٹی وی چینلز کام کرتے تھے لیکن آج ایک بھی کھلا نہیں ہے۔

طالبان نے یا تو میڈیا کو بند کروا دیا یا میڈیا کے نمائندگان کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق 10 اگست کو طالبان نے غازی پر حملہ کیا اور شہر کے تمام میڈیا اینٹینے توڑ دیے اور مواصلات کے نظام کو درہم برہم کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے غزنی ٹی وی اور ریڈیو چینل کو جلا دیا اور ساتھ ہی کچھ خط باقی میڈیا کے اداروں میں بانٹ دیے جن میں انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ کام کرنا چھوڑ دیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ غزنی میں معلومات کی آمد و رفت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور آزادی رائے نا ہونے کے برابر ہے۔ جن صوبوں میں طالبان یا داعش کی حکمرانی ہے وہاں صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور تشدد کے واقعات باقی علاقوں سے زیادہ ہیں۔ اپنے آپ کو طالبان کے حملوں سے بچانے کے لیے غزنی سمیت ہلمند، قندھار اور ننگرہار کے صحافیوں نے چپ رہنے کو طرز زندگی بنا لیا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔

اے جے ایس سی کے تجزیے کے مطابق صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کی پانچ وجوہات ہیں:

1) ملک میں بدامنی اور عدم استحکام کا بول بالا ہونا۔

2) صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا۔

3) موجودہ جنگ میں پروپیگینڈا کو شہرت ملنا جس کی بدولت دہشت گرد گروہ اور میڈیا آمنے سامنے آچکے ہیں۔

4) میڈیا کا لوگوں میں شعور اور باخبری پیدا کرنے کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ اور میڈیا نظریاتی اور سیاسی اختلاف کا شکار ہیں۔

5) صحافیوں کے تحفظ کے متعلق قوانین کے عمل درآمد میں حکومت کی طرف سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ۔

 ایسے ملک میں جہاں پر آزادی رائے کو ایک بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے وہاں صحافیوں کو دھمکیاں ملنا، انہیں معلومات دینے سے منع کرنا اور ان پر مالی پابندیاں لگانا۔ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا کا اس ملک میں زندہ رہنا کافی دشوار نظر آتا ہے۔

میڈیا کے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے جس کے لیے انہیں ایک موئثر حکمت عملی اور مکمل منصوبہ بندی کرنے کی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ میڈیا کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے عملے کو ضروری حفاظتی آلات فراہم کریں جب وہ کسی میدان جنگ یا خطرناک علاقے میں رپورٹنگ کرنے جا رہے ہوں۔ یہ ناصرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ میڈیا ادارے کا قانونی اور انتظامی فریضہ بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں:

انیس الرحمان ایک افغان صحافی ہیں جن کا تعلق کابل سے ہے۔ وہ افغانستان نیشنل ٹی وی کے لیے نیوز رپورٹر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ کابل پریس کلب کے بھی ممبر ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف پشاور، پاکستان سے صحافت اور مواصلات میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔

افغان سوسائٹی پر انیس پشتو سمیت دری، اردو اور انگریزی میں مختلف اخبارات کے لیے لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز وحدت اخبار سے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے افغانستان میں مختلف ریڈیو سٹیشنوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ وہ شمشاد ٹیلی ویثن کے پروڈیوسر  بھی رہ چکے ہیں۔

2015 میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے درمیان بات چیت میں شرکت کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لاہور میں منعقد ہونے والی دونوں ممالک کے صحافیوں کی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ بھارت میں صحافت کے جنوبی ایشیا کالج میں کام کرتے ہوئے انہوں نے جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

                                            anees.journalist@gmail.com ای میل:

ایف این ڈسکلیمر

برائے مہربانی نوٹ فرمائیں کے اس اشاعت میں شائع ہونے والے مواد کا فریڈم نیٹ ورک بورڈ کی سوچ کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ جہاں واضع نہ کیا گیا ہو تمام مواد فریڈم نیٹ ورک کی ملکیت ہے۔ جملہ حقوق فریڈم نیٹ ورک – 2018 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -