سب سے کم واقعات صحافیوں کے خلاف ستمبر 2018 میں

سب سے کم واقعات صحافیوں کے خلاف ستمبر 2018 میں

ایف این اعداد و شمار کا تجزیہ ستمبر 2018

ستمبر 2018 میں خیبر پختونخوا، پنجاب اور دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے صحافیوں پر کیے جانے والے حملے، ان کو دی جانی والی دھمکیوں اور ان پر دائر کیے گئے قانونی مقدمات کے چھ واقعات نوٹ کیے ہیں۔

یہ چھ خلاف ورزیاں اس سال جنوری کے بعد سے ایک ماہ میں ریکارڈ سب سے کم خلاف ورزیاں ہیں۔ البتہ 19 واقعات کے ساتھ فروری میں سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ فروری 2016 سے اسلام آباد میں موجود فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطرات سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے سات پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار اور لنڈی کوتل شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

حملہ: 30 ستمبر کو 24 نیوز چینل کے بیورو چیف سید زوار کاظمی سرگودھا کے ضلعی ہسپتال کے ایک خراب ایلی ویٹر کی تصویریں اور ویڈیو بنا رہا تھا۔ وہ لفٹ پچھلے چھ ماہ سے خراب تھی۔ صحافی کے بقول چند ڈاکٹروں نے انہیں پکڑ کر مارنا شروع کر دیا البتہ پولیس کی آمد سے صحافی بچا لیا گیا۔ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا گیا کیونکہ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے صحافی سے معافی مانگ لی تھی۔

15 ستمبر کو کیپٹل ڈیویلپمینٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)  کی طرف سے بحریہ انکلیو کے خلاف غیرقانونی تصفیے کی بنیاد پر شروع کی جانے والی مہم کے دوران جنگ اخبار کے سینئر فوٹوگرافر چودھری جہانگیر پر حملہ کیا گیا۔ انکلیو کی انتظامیہ کو چودھری جہانگیر کی طرف سے لی جانے والی تصاویر پسند نہیں آئیں تو انہوں نے جہانگیر سے اس کا کیمرا چھیننے کی کوشش کی۔ جہانگیر کو انکلیو کی انتظامیہ نے تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی۔ البتہ پولیس نے جہانگیر کی جان بچا لی لیکن ابھی تک ایف آئی آر کاٹے جانے کے باوجود پولیس کی طرف سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

رہائش پر حملہ: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروہ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور بلاگر ملک رمضان اسرا نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ 6 ستمبر کو ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ ملک رمضان کا ماننا ہے کہ حملہ آوروں کے حملہ کا مقصد ”ڈرانا دھمکانا” تھا اور ”مجھے چپ کروانا تھا” تاکہ میں ضلعے میں ہونی والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز بلند نہ کر سکوں۔” یہ ان کی رہائش گاہ پر پہلا حملہ نہیں ہے۔ ملک رمضان کو پہلے بھی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ ان حملوں کے پیچھے کون لوگ ہیں” اور یہ کہ ”پولیس اس معاملے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی اور ابھی تک ایف آئی آر بھی نہیں درج کی گئی ہے۔”

زبانی دھمکیاں: اپنی رپورٹ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کے نتیجے میں مینگورہ سے تعلق رکھنے والے آج نیوز کے صحافی انور انجم کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ انور انجم نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ 18 ستمبر کو ان کے دفتر کے باہر موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے جنہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسی سے ہیں۔ انجم نے بتایا کہ ان افسران نے انہیں دھمکیاں دیں۔

جیسے ہی انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مدد کے لیے بلایا، یہ دونوں افراد دھمکیاں دیتے ہوئے بھاگ گئے۔ صحافی نے پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کروا لی ہے لیکن ابھی تک پولیس کی طرف سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی کو ہمسائے ملک افغانستان اور سرحد پر موجود ایک عسکریت پسند تنظیم کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ حفاظتی وجوہات کی وجہ سے اس صحافی کی دیگر تفصیلات نہیں بتائی جا رہی ہیں۔

 قانونی کیس: ستمبر 17 کو ایک کسان کے بجلی کے اضافی بل پر کیے جانے والے احتجاج کی کوریج کرنے پر پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا سے تعلق رکھنے والے روزنامہ اوصاف کے صحافی ریاض جل میرا پر واپڈا نے کیس درج کر دیا۔ صحافی پر ”کام میں دخل اندازی کرنے کا جرم ہے” جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔

پیمرا کے اقدامات: پیمرا نے ستمبر 2018 میں کسی بھی چینل کو نوٹس جاری نہیں کیے۔

میڈیا کے اہلکاروں کے خلاف دھمکیاں، ان کا ہراساں جانا اور ان پر حملے

پرنٹ سے تین، الیکٹرونک سے دو جبکہ ریڈیو سے ایک کیس ایسا موصول ہوا جسے ایسی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

میڈیا کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے افراد

ستمبر 2018 میں چھ صحافیوں کو انٹیلیجنس ایجنسی، واپڈا، افغانستان میں موجود عسکریت پسند تنظیم اور بحریہ انکلیو کی انتظامیہ کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -