صحافی کا قتل ،دہمکی ,ہراساں اور کام سے روکنے کے 13 واقعات اگست 2018 میں

صحافی کا قتل ،دہمکی  ,ہراساں اور کام سے روکنے کے 13 واقعات اگست 2018 میں

ایف این دھمکیوں کا تجزیہ – اگست 2018

قومی سطح پر میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے اگست 2018 میں ملک بھر میں قتل، حراست، اغوا، جسمانی تشدد، زبانی دھمکیوں اور سنسر شپ کے تیرہ کیس درج کیے۔

فروری 2016 سے اسلام آباد میں واقع فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے آٹھ پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار، لانڈی کوتل اور سکھر شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: سنگ میل اخبار کے نوجوان صحافی عابد حسین کی ایف آئی آر میں لکھا تھا کہ 22 اگست 2018 کو ضلع وہاڑی کی تحصیل بوری والا کے دیوان صاحب میں ملتان سے تعلق رکھنے والا یہ صحافی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ عابد کے والد صاحب کا ماننا ہے کہ عابد کو مجرموں کی رپورٹنگ کرنے کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔

2018 میں یہ قتل ہونا والا تیسرا صحافی ہے۔ اس سے قبل 1 مارچ کو ضلع راولپنڈی میں نائب ایڈیٹر انجم منیر کو قتل  کیا گیا تھا جبکہ 27 مارچ کو سیالکوٹ میں صحافی ذیشان اشرف بٹ کو قتل کیا گیا تھا۔ تینوں صحافیوں کا تعلق پنجاب سے تھا۔

حملے کے دو دن بعد 24 اگست کو ایف آئی آر درج کرنے والے نے انکشاف کیا کہ حملہ آوروں نے عابد حسین کو روکا اور ان میں سے ایک حملہ آور جس کا نام طاہر حسین بتایا جاتا ہے نے عابد کو بولا، ”آج ہم تمھیں ہمارے خلاف رپورٹیں درج کروانے کے حوالے سے سبق سکھائیں گے۔”

”حملہ آوروں نے عابد کے سر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر ڈنڈوں سے حملہ کیا اور انہیں دھمکی دی کہ ان کا بھی یہی حشر کیا جائے گا اگر وہ صحافی کو بچانے کے لیے آگے بڑھے تو۔” حسین اپنے زخموں کی تاب نہ لا سکا اور ملتان کے نشتر ہسپتال میں 23 اگست کو دم توڑ گیا۔

حملہ: کارڈ موجود ہونے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں ہم نیوز چینل کے رپورٹر فرید صابری پر پولیس اہلکاروں نے اس وقت حملہ کیا جب رپورٹر سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا تھا۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے رپورٹر کا کہنا تھا کہ ”جب میں نے پوچھا کہ مجھے اندر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی جبکہ میرے پاس کورٹ میں جانے کا اجازت نامہ موجود ہے تو مجھے دھپڑ مارے گئے۔”

گھر پر حملہ: یکم اگست کو نامعلوم افراد نے ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن عمران خان کے گھر کے باہر فائرنگ کی۔ عمران اور ان کے گھر والے اس حملے میں محفوظ رہے۔ عمران کا ماننا ہے کہ فائرنگ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میں حساس معاملات میں خاموشی اختیار کروں۔ لیکن عمران یہ بتانے سے قاصر رہے کہ فائرنگ کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔

سنسر شپ: 13 اگست کو احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم کی پیشی پر میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔ ”درجن سے زیادہ صحافیوں نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ کورٹ کے احاطے میں کسی بھی صحافی کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔” انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر رپورٹروں اور صحافیوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ کے اس اقدام پر صحافیوں نے کورٹ کے باہر دھرنا دیا۔

زبانی دھمکی: اپنے فیس بک پیج پر 31 اگست کو ایکسیریس اخبار کے نائب ایڈیٹر فاروق شہزاد نے زبانی دھمکیاں اس وقت وصول کرنا شروع  کر دیں جب اس نے  پنجاب کے رحیم یار خان کے قبرستان میں انباکونوشی کے واقعات تحریر کرنے شروع کردیئے۔

  آن لائن ہراساں: جیو نیوز چینل پر پروگرام ”جرگہ” کی میز بانی کرنے والے اینکرپرسن سلیم صافی آن لائن وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کے کارکنان کے ہاتھوں ہراساں بننے کا شکار ہوئے جب انہیں نواز شریف کا ہمدرد قرار دے دیا گیا کیونکہ انہوں نے 19 اگست کو ظاہر کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وزیر اعظم ہاؤس میں رہائش کے اخراجات خود سے دئیے تھے۔ انہوں نے یہ انکشافات تحریک انصاف کی سادگی کی مہم کے شروع ہونے پر کیے۔

ہراساں: جیو نیوز کے سیئنر صحافی آصف علی بھٹی کو کارڈ موجود ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 13 اگست کو ڈی ایس پی سیکورٹی نے انہیں اندر آنے سے منع کر دیا۔ 13 اگست کو ہی سیکورٹی کے سپروائزر نے نیوز ون چینل کے کاشف رفیق، پارلیمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر صدیقی سجاد اور جہاں پاکستان کے رپورٹر اصغر چودھری  کے ساتھ بھی بدسلوکی کی۔ راولپنڈی میں مبینہ طور پر ایک عورت کو دھکا مارنے کی ویڈیو بنانے کے سلسلے میں چینل 24 کے کیمرامین عاقب جاوید کو وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے 21 اگست کو دھکا دے دیا۔ کیمرامین کا کہنا تھا کہ ”وزیر نے میرا موبائل چھینا اور زمین پر پھینک دیا۔ اس موبائل فون سے ہی میں ویڈیو ریکارڈ کرتا ہوں۔” وفاقی وزیر معلومات فواد چودھری نے وعدہ کیا کہ وہ شیخ رشید سے بات کریں گے۔ 15 اگست کو صحافی عبدالوحید نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے شریف خاندان کے متعلق ایک سیاسی سوال پوچھ لیا جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کے ہامی غصے میں آگئے اور صحافی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی صحافی کو ہراساں بھی کیا گیا لیکن وہ محفوظ رہے۔ کسی پارٹی کے رہنما نے اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور ایسے واقعات کو صحافیوں کی آزادی رائے پر لگنے والی پابندیوں کے مترادف سمجھا۔

 قانونی کیس: 29 اگست میں اپنے پروگرام ”پاؤر پلے” میں عدلیہ پر گفتگو کرنے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے ای آر وائے نیوز کے میزبان ارشد شریف کو شو کاذ نوٹس جاری کر دیا۔ 8 اگست کو پولیس نے جیو نیوز کے رپورٹر احمد فراز کو گالیاں دینے پر بک کر دیا۔ احمد نے ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں ایک ٹریفک پولیس افسر ایک موٹر سائیکل سوار کو گالیاں رسید کر رہا ہے۔ اس کے بعد ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو آن لائن اپ لوڈ کر دی گئی۔ پولیس نے صحافی کے خلاف انسداد دہشت گردی کا شق درج کر دیا۔

چوری: 27 اگست کو راولپنڈی میں روزنامہ اوصاف کے کیمرامین عادل گل کو نامعلوم افراد نے لوٹ لیا۔ چور گل سے اس کا کیمرا اور موبائل فون چھین کر لے گئے۔ 30 اگست کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں آج نیوز کے کیمرامین مزمل علی خان کو نامعلوم افراد نے لوٹ لیا۔ چور اس سے اس کا موبائل فون چھین کر لے گئے۔

پیمرا کے احکامات: پیمرا نے اے آر وائے کو عدلیہ پر گفتگو کرنے کے نتیجے میں شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ فلمازیہ کو آخری مرتبہ تنبیہ دی گئی کے وہ اپنے چینل کا مواد ٹھیک کر لیں۔ ہیلتھ ٹی وی کو غیر ضروری مواد نشر کرنے جبکہ اے پلس، فلم ور لڈ اور جیو کہانی کو ضرورت سے زیادہ بین اقوامی مواد نشر کرنے پر تنبیہ دی گئی۔ اس کے علاوہ اپنا چینل اور 8 اے ایکس ایم کو تجویز دی گئی کہ وہ غیر ضروری مواد دکھانے سے گریز کریں۔

میڈیا کے اہلکاروں کے خلاف دھمکیاں، ان کا ہراساں جانا اور ان پر حملے

اگست 2018 میں پرنٹ میڈیا پر پانچ حملے جبکہ صحافیوں چھ صحافیوں کے ساتھ دو پرائیویٹ نیوز ایجنسی کے صحافیوں پر حملوں کے دستاویزات اکٹھے کیے گئے۔

میڈیا کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے افراد

تیرہ کیسوں میں سے چھ میں ریاستی ادا کار ملوث تھے جبکہ چار دیگر کیسوں میں دھمکی دینے والوں کا پتہ نہیں لگایا جا سکا اور ایک آخری کیس میں دھمکی دینے والوں کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور آن لائن ہراساں تھا۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -