جولائی 2018 میں صحافیوں کے خلاف نو واقعات

جولائی 2018 میں صحافیوں کے خلاف نو واقعات

الیکشن کمیشن نے ظابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر 28 ٹی وی چینلز کو نوٹس بھیجے

دھمکیوں کے اعداد و شمار کا ایف این تجزیہ جولائی 2018

قومی سطح پر میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے جولائی 2018 میں ملک بھر میں قتل، حراست، اغوا، جسمانی تشدد، زبانی دھمکیوں اور سنسرشپ کے نو واقعات درج کیے۔

فروری 2016 سے فریڈم نیٹ ورک پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت خطروں سے دوچار صحافیوں کو چار صورتوں میں ملک کے آٹھ پریس کلبوں کے تعاون سے جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، خضدار، لنڈی کوتل اور سکھر شامل ہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔

نو میں سے چار کیس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رونما ہوئے جبکہ سندھ میں دو، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایک ایک کیس سامنے آئے۔ ان میں سے سب سے سنگین واقع کوہلو سے تعلق رکھنے والے بلوچ صحافی کے لاپتہ ہونے کا تھا جبکہ انتخابات 2018 کے دوران اور ان سے پہلے الیکٹرونک میڈیا کے خلاف وسیع پیمانے پر سنسرشپ کی گئی۔

اغواء: کو ہلو پریس کلب کے صدر اور اب تک ٹی وی نیوز چینل کے صحافی زیب دار مری کو 13 جولائی کو اغوا کیا گیا اور ان کے اغوا ہونے کی وجہ ان کی جلاوطنی سے واپس آنے والے بلوچ رہنما گزن مری کی انتخابی سرگرمیوں کی کوریج تھی۔ مری اپنے اغواء کے بارہ روز بعد واپسی کے بعد سے اس بارے میں کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں اور مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

حملے: پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے 1 جولائی کو کنونشن سنٹر میں منعقد ہونے والی کارکنان کے کنونشن کے دوران 16 نیوز چینلز اور اخبارات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان صحافیوں نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ تحریک انصاف نے انہیں اس تقریب کی کوریج کے لیے دعوت دی تھی اور جب وہ بتائے ہوئے مقام پر پہنچے تو پہلے تو انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد انہیں بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں میڈیا کی ٹیموں نے اس کنونشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ بعد میں پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے معافی مانگی۔ نیو نیوز کے ٹی وی رپورٹر شاکر عباسی پی ٹی آئی کے کارکنان کے اس حملے میں معمولی زخمی ہوئے۔

مینگورہ میں دنیا نیوز کے کیمرامین کامران پراچہ پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے 21 جولائی کو شہباز شریف کی قیادت میں ہونے والے سیاسی جلسے کے دوران تشدد کیا۔ پراچہ کا کہنا تھا کہ ”اس بلاوجہ حملے میں میرے کیمرے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔” اس واقعے کے نتیجے میں ایک روزنامچہ رپورٹ درج کی گئی لیکن پولیس نے ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے ہاتھوں 3 جولائی کو کراچی کے ہوائی اڈے پر 92 نیوز چینل کے رپورٹر چاند نواز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹر ہوائی اڈے پر پی ٹی آئی کے سر براہ عمران خان کی آمد کی رپوٹنگ کے لیے موجود تھے۔ صحافی نے اس حملے کی مذمت کی لیکن ابھی تک پولیس نے کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

دراندازی: نیو یارک ٹائمز کے لیے لکھنے والی صحافی مہرین زہرا ملک کی اسلام آباد میں رہائش گاہ میں 27 جولائی 2018 کو نامعلوم افراد گھس آئے۔ صحافی نے اپنی رہائش گاہ کی کھڑکی کھلی ہوئی پائی لیکن چور کچھ لیے بغیر ہی فرار ہوگئے۔ اپنے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے حالیہ مضمون میں انہوں نے لکھا کہ ”25 جولائی کو الیکشن کی کوریج کے بعد میں لاہور سے اپنی اسلام آباد کی رہائش گاہ پہنچی۔ جیسے ہی میں اپنے پرس میں گھر کی چابیاں تلاش کر رہی تھی تو میں نے دوسری طرف قدموں کی آواز سنی۔ کوئی چیز غائب نہیں تھی۔ باورچی خانے میں ایک کھڑکی اندر سے کھلی تھی۔ ایک افسر نے بتایا کہ چور شاید اسی کھڑکی سے فرار ہوا تھا۔” فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے پریشان ہیں۔

زبانی دھمکیاں: زبانی دھمکیوں کے بارے میں دیگر تفصیلات بیان نہیں کی جا سکتی کیونکہ صحافی کو یقین ہے کہ بات بتانے سے اس کی زندگی کو خطرہ پہنچ سکتا ہے۔

سنسرشپ: 8 جولائی کو پولیس نے میڈیا کو کیپٹن (ر) صفدر کی نیب راولپنڈی میں پیشی کی کوریج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میڈیا کو اجازت نہ ملنے کی وجہ سکیورٹی خدشات تھے۔ صحافیوں نے اس وجہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس قدم کو ”پریس کی آزادی پر پابندی” لگانے کے مترادف سمجھا۔

  قانونی مقدمات: 31 جولائی کو لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سکر یٹریٹ کو ”ناجائز کمرشل کاموں” میں ملوث ہونے کا الزام لگانے پر بند کر دیا۔ اس الزام کی سیفما کے ترجمان امتیاز عالم نے سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیفما پیشہ ورانہ طریقے سے صحافیوں کی تربیت کرواتی ہے اور کسی طرح کے کمرشل معاملات میں ملوث نہیں ہے۔

پولیس نے قبل از انتخابات دھاندلی میں ان کے تین افسران کے شریک ہونے کی خبر شائع ہونے پر روزنامہ جہاں کے رپورٹر محمد نجیب ملک کو حراست میں لے لیا۔ پی پی سی کے سیکشن 500، 501، 502 اور 109 کے تحت اس خبر میں تین افسران کے نام لیے گئے ہیں جنہوں نے ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ اور کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن نے ان تین افسر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروا دی۔ سیئنیر پولیس افسر ڈی آئی جی یاسین نے فریقین کو اپنی شکایات دور کرنے کو کہا جس پر دونوں پارٹیاں راضی ہوگئیں۔

پیمرا ایکشن: الیکشن 2018 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیمرا نے 28 نیوز چینلز کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے۔ آج نیوز، اے آر وائے نیوز، دن نیوز، جیو نیوز، سما ٹی وی، اور نیوز ون پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ سما ٹی وی، 7 نیوز، بول نیوز، دن نیوز، ایکسپریس نیوز، نیوز ون، سچ ٹی وی، چینل 24، 92 نیوز، آج نیوز، اے پلس، اے آر وائے نیوز، اے آر وائے ڈجیٹل، اے وی ٹی خیبر، پبلک نیوز، رائل نیوز، روز نیوز، ٹی وی ون، اردو ون، وقت نیوز، نیو نیوز اور ہم نیوز نے سیاسی پارٹیوں کے اشتہارات دکھا کر اس ظابطے کی خلاف ورزی کی ہے۔

میڈیا کے اہلکاروں کے خلاف دھمکیاں، ان کا ہراساں جانا اور ان پر حملے

جن نو کیسوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئی ہیں ان میں سے چھ کا ہدف ٹی وی چینلز کے صحافی ہیں جبکہ دو میں پرنٹ میڈیا جبکہ آخری کیس میں ایک میڈیا ادارے کی عمارت ٹارگٹ تھی۔

میڈیا کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ہراساں کرنے والے افراد

 ریاستی ادا کار، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں جبکہ اغوا کاری کے کیس میں دھمکی دینے والے ادا کار کا پتہ نہیں لگایا جا سکا کیونکہ واردات میں شریک صحافی اور اس کے لواحقین نے کچھ بھی بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -