ژوب میں صحافی پر حملہ

ژوب میں صحافی پر حملہ

حمید اللہ شیرانی

ایک مقامی صحافی اسد بیٹنی نے دعوی کیا کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے درجنوں کارکنوں نے زدوکوب کیا ہے۔فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ”7 اپریل کو، بلوچستان میں تھانہ روڈ ژوب میں اپنے دفتر میں تھے، جب مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں نے حملہ کیا اور مجھے مارا۔” ابتدائی طور پر اسد کو سول اسپتال ژوب منتقل کر دیا لیکن بعد میں انہیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ بھیج دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا: ”پولیس کو چاہیے تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرتی لیکن اس کے باوجود، میرے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔”

      ”ناوا قصہ” میگزین کے چیف ایڈیٹر اور آج نیوز ٹی وی کے رپورٹر اسد بیٹنی نے اس واقعے کے لیے صوبائی اسمبلی کے رکن شیخ جعفر خان مندوخیل پر الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”مندوخیل کے کارکنوں نے ان کی ہدایات پر مجھ پر تشدد کیا۔”

بیٹنی نے یہ باتیں فریڈم نیٹ ورک کے سیفٹی ہب کواڈینیٹر سے کیں۔ ”یہ واقعہ مجھے اس رکن صوبائی اسمبلی کی بدعنوانی کی رپورٹنگ کرنے کی سزا دینے کے مقصد سے ہوا۔ مجھے دھمکیاں دی گئی تھیں کہ میں یہ کرپشن آشکار نہ کروں اور مجھے مسلم لیگ قاف کے علاوہ کسی اور جماعت کی کوریج سے منع کیا گیا تھا۔”

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں نے بھی دو بار پہلے بھی کوشش کی لیکن اس بار وہ کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے میرے اوزار بھی توڑا اور کچھ سازوسامان ساتھ لے گئے۔”

انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ضلعی پولیس ان سے تعاون نہیں کر رہی ہے: ”میرا بھائی ژوب پولیس اسٹیشن گیا تھا تاکہ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکیں۔ پولیس نے ثبوت کے طور پر طبی رپورٹ کا مطالبہ کیا۔ حملہ آوروں کے خلاف اب بھی ایک کارروائی بھی نہیں کی گئی ہے۔”

بیلانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے رکن شیخ جعفر خان مندخیل نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ یہ بے بنیاد ہیں۔ تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے حامیوں کی صحافی کے ساتھ بے بنیاد رپورٹنگ کو روکنے کے لیے تلخ کلامی ہوئی تھی۔.

بلوچستان اور کوئٹہ یونین آف جرنلسٹس نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

کوئٹہ یونین کے صدر امین اللہ فطرت نے کہا کہ ”بیٹنی کے خلاف اس طرح کے تشدد سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان میں پریس کی آزادی موجود نہیں ہے۔ صحافیوں کو زندگی کی دھمکیوں کو ہمیشہ یہاں رپورٹ کیا گیا ہے۔ صحافیوں کے خلاف تشدد بلوچستان میں غیر معمولی نہیں ہے۔”

 بلوچستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ سیاسی جماعتیں، مجرم گروہ، ممنوعہ عسکریت پسند تنظیمیں اور سرکاری اداروں پر تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف حملوں، دھماکوں اور ہدف بنا کر ہلاکت میں 40 سے زائد صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -