حافظ حسنین: اوکاڑہ مزارعین کی رپورٹنگ پر جیل میں

حافظ حسنین: اوکاڑہ مزارعین کی رپورٹنگ پر جیل میں

صحافی حافظ حسنین رضا اوکاڑہ میں 26 اپریل 2016ء سے  دہشت گردی کے ایک مقدمے میں زیرحراست رہے ہیں۔ انہیں ان کے والد صحافی سرور مجاہد کے انتقال پر نوائے وقت، لاہور نے 2011ء میں اوکاڑہ میں اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے اوکاڑہ کے مزارعین اور علاقے کے محروم طبقے  کی خبریں نوائے وقت میں لگوائیں۔ نیشنل ایکشن پلان آیا تو اوکاڑہ کے مزارعین اور ان کی خبریں لگانے والے صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے بننے لگے۔ حافظ حسنین رضا کا کہنا ہے کہ انہیں 2014ء میں اوکاڑہ کینٹ طلب کرکے وارننگ دی گئی کہ مزارعین کی خبریں نہ لگائیں۔ جون اور جولائی 2014 میں انجمن مزارعین نے اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کیا جس پر فورسزکی مبینہ فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ حافظ حسنین رضا اور دیگر صحافی رپورٹنگ کرتے رہے۔ 5 جولائی  2014ء  کو حافظ حسنین رضا کے خلاف مقدمہ قتل درج  کر لیا گیا۔ اگلے 2 سال میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان کے خلاف مزید 3 مقدمے درج کر لیے گئے۔ 26 اپریل 2016ء کو حافظ حسنین رضا نے گرفتاری دے دی۔ انہیں سنٹرل جیل اوکاڑہ کے بلاک سیون میں قید رکھا گیا۔ یہ ان کی اسیری سے متعلق انٹرویو ہے۔

سوال: آپ نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا اور اس دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب:  تقریباً 23 ماہ (دو سال) جیلوں میں رہا ہوں جہاں انتہا کی کٹھن اور اعصاب شکن مشکلات کا سامنا رہا۔ سزائے موت کے سیل (بلا ک) یعنی دہشت گردوں کے لیے متعین 7 بلاک میں رکھا گیا۔ ناقابل برداشت اذیتیں، قید و تنہائی، بجلی ہوتے ہوئے بھی لوڈشیڈنگ یعنی بجلی بند کردی جاتی تھی، جبکہ گرمیوں میں گرم پانی اور شدید گرمی میں ہائی ولیٹیج بلب لگا کر ذہنی و جسمانی طور پر اذیت دینا، سردیوں میں لحاف مہیا نہ کرنا، رات کو جگائے رکھنا، کھانے پینے میں فاقے، صرف ایک سوکھی روٹی تیز نمک مرچ پر مشتمل ناقص سالن کے علاوہ دنیا کی کوئی چیز کھانے کو نہیں دیتے تھے۔ ایک ہی سوٹ دیا ہوا تھا جو مدتوں تک تبدیل نہیں کرنے دیا جاتا تھا۔ منہ ہاتھ دھونے کے لیے کالا صابن، ایک پلیٹ اور ایک گلاس، ایک چادراور ایک خارشی کمبل،گھر والوں سے ملاقات نہ کرنے دینا، ہوم ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے باوجود سپریٹنڈنٹ اوکاڑہ جیل نے چار چار دن والدہ، بہنوں اور بھائیوں کوملنے نہیں دیا جبکہ عزیز رشتہ دار اور دوستوں سے ملنے پر مکمل پابندی تھی۔ نمازیں تک نہ پڑھنے دی جاتیں تھیں۔ عید والے دن نہ نماز کی اور نہ ملنے کی اجازت، یہاں تک کہ عام قیدیوں کے ساتھ رکھا بھی نہ جاتا اور ہر سطح پر امتیازی سلوک روا رکھا جاتا۔ بال کٹوانے اور ناخن تراشنے کی اجازت تک نہ دی جاتی اور جب عدالت پیشی کے لیے لے جایا جاتا تو صفائی ستھرائی کا موقع ملتا۔ مچھر مار سپرے تک نہیں کیا جاتا۔ شلوار سے آزار بند بھی نکلوا کر لاسٹک ڈال دیا گیا۔ انتہا درجہ کا ذہنی تشدد کیا جاتا۔ منہ پر کالا کپڑا لگا دیا جاتا اور مختلف جانوروں کی انسانیت سوز آوازیں نکالنے پر مجبور کیا جاتا۔ پاؤں میں آہنی بیڑیاں ڈال دی جاتیں۔ روشنی کا انتظام نہ ہونے کے سبب دن کو بھی رات کا سماں ہی رہتا۔ کبھی کبھی اذان کی آواز سنائی پڑتی۔ قید کے ان 23ماہ اور چند دنوں کے دوران ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کرنے کی غرض سے چہل قدمی تک نہیں کرنے دی جاتی تھی۔ محض پیشی کے روز سیل سے نکالا جاتا۔ قید کے دوران وزن میں کم ہوگیا۔ ہر چار گھنٹے کے بعد جیل کا نیا ملازم کھڑا کر دیا جاتا تھا، جومجھے کھڑا کیے رکھتا۔ خطرناک اسیران میں پہلے نمبر پر میری تصویر سنٹرل جیل ساہیوال میں لگائی گئی اور عین ممکن ہے کہ آج بھی لگی ہو۔ جو بھی باہر سے گھر والے کھانا پینا لاتے وہ جیل انتظامیہ ہی کھا لیتی اور مجھ تک نہ پہنچتا تھا۔ میرے سیل سے ملحق سیل میں کسی کو قید نہ کیا اور میں اکیلا ہی درمیان والے سیل میں رہتا تھا تاکہ تنہائی کے سبب ذہنی طور پر مفلوج ہو جاوں۔ طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لیجانے کی بجائے جیل میں ہی دوائی دی جاتی۔ جبکہ مرض کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ بھی کروانے نہ دیے گئے۔ سزائے موت کے سیل میں ہی انجکشن لگا کر ڈاکٹر واپس چلے جاتے کیونکہ انہیں اجازت نہیں تھی کہ ہسپتال داخل کر لیں۔ زمین پر ہی سولایا جاتا جیسے بھی حالات ہوتے۔ سیل کے اندر ہی واش روم تھا جہاں رفع حاجت کی جاتی جو حفظان صحت کے اصولوں کے منافی تھا۔ ایک دفعہ طبیعت زیاہ خراب ہوگئی تو جیل کے اندر ہی ہسپتال میں لے جایا گیا اور انجکشن لگایا مگر بیڈ پر سونے نہ دیا اور زمین پر ہی لٹایا گیا۔ روزے کی حالت میں دھوپ میں کھڑا رکھا جاتا۔ آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی اور ہاتھ پیچھے کمر پر باندھ دیے جاتے۔

سوال:یہ بتائیں کہ آپ کو کس جرم میں اتنا لمبا عرصہ قید گزارنا پڑی؟

جواب:  سچ بولنے اور لکھنے کی سزا جو کہ میرے والد مرحوم کی طرف سے مجھے وراثت میں ملی ہے۔ والد محترم کو بھی تین بار حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنے اور انتظامیہ سے ہاتھ نہ ملانے کی پاداش میں جیل جانا پڑا۔ اور آخر کار انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے انتہائی اعصاب شکن تشدد سے والد کو ایک (بائیں) ٹانگ سے محروم کر دیا گیا۔ جیل میں ہی شوگر ہوگئی۔ انتظامیہ اور مزارعین کے درمیان عرصہ دراز سے چلنے والے زرعی زمینوں کے تنازعہ پر حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنے کی سزا دی گئی۔ بےبنیاد اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ حقائق پر مبنی خبریں لگانا ہی میرا جرم ٹھہرا۔

سوال:آپ کے ساتھ باقی صحافیوں پر بھی مقدمات درج کیے گئے تھے لیکن صرف ایک آپ کو ہی کیوں جیل کاٹنی پڑی؟

جواب: باقی صحافی حضرات نے انتظامیہ کو معافی نامے اور منت سماجت کرکے اپنی جان چھڑوا لی جن میں سے دو صحافیوں کو اِن کے اداروں نے  فارغ بھی کر دیا تھا۔ پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے تقریباً پانچ ماہ نظر بندی کے بعد معافی نامہ پر دستخط اور اعترافی بیان اور مزارعین کی قیادت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکاری ہونے پر مزیدجھوٹے سنگین نوعیت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جو دوران قید قائم کر دیئے گئے۔ میرے حق میں خبریں لگانے پر نوائے وقت کے دو صحافیوں الطاف حسین انور(ساقی) نامہ نگار اوکاڑہ چھاونی اور رائے علی اکبر کھرل، نامہ نگار صدر گوگیرا کے گھروں پر پولیس کے چھاپے پڑنے سے وہ کئی ماہ تک زیر زمین رہے۔ جبکہ الطاف ساقی میرے والد محترم کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی جدوجہد کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا جو ہنوز کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ خاص کر مسیح برادری کے قبرستان کو کنٹونمنٹ بورڈ اوکاڑہ کی جانب سے مسمار کرکے پلاٹنگ کرنے کے خلاف خبریں لگانے اور فتوے لے کر چارہ جوئی کرنے پر مقدمات اور آوٹ آف بانڈ کا سامنا کرنا پڑا۔

سوال: آپ نے کبھی سوچا تھا کہ صحافت کی وجہ سے آپ کو ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟

جواب: ہاں۔ چونکہ والد کے ساتھ ایسا ہوچکا تھا جو انہی اذیتوں کے ساتھ موت کی آغوش میں چلے گئے۔ شاید لاشعوری طور پر میں تیار تھا اور قدرت نے مجھے ذہنی و جسمانی طور پر اس نسبت

آمادہ کر رکھا تھا۔ اگرچہ دوست احباب اس خاردار راہ پر چلنے کی صورت میں جان گنوائے جانے پر خبر دار کرتے بھی تو میں اس کے باوجود ناجانے کیوں اپنے قدموں کو نہ روک سکا ۔۔۔شاید بلکہ یقیناً میں اپنے والد کی طرح ذہن سے فیصلہ کرنے کی بجائے دل سے فیصلہ کرتا ہوں۔ میں اپنے مفادات کو آڑے لانے کی بجائے اجتماعی مفادات کی حفاظت کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہوں۔

سوال: اس مشکل وقت میں آپ کے ادارے، صحافی برادری، صحافتی حقوق کے لیے کام کرنے والی (مقامی اور قومی سطح کی) غیرسرکاری تنظیموں نے آپ کی مدد کی یا نہیں؟

جواب: ضلع بھر کے صحافیوں پر بلاجواز دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کی وجہ سے صحافیوں نے میرے حق میں احتجاج کی جرات نہ کی۔ اقبال خٹک صاحب نے میرے والد کی بھی مدد و رہنمائی فرمائی اور انہوں نے میری ہر لمحہ قانونی و اخلاقی معاونت فرمائی۔ پنجاب بھر میں میرے ادارہ نوائے وقت کے پلیٹ فارم اور اوکاڑہ ضلع سے باہر متعدد صحافتی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا رہا۔ خاص طور پر ادارہ نوائے وقت اور دیگر متعدد اخبارات احتجاجی مظاہروں کی خبریں اور کووریج کرتے رہے۔ کالم نگار اجمل نیازی، نوائے وقت کا اداریہ۔ دی نیشن میں کالم، اینکر پرسن حامد میر نے متعددکالم لکھے، پارلیمنٹ اور سوشل میڈیا میں بھی میرے حق میں آوازیں بلند ہوتی رہیں۔ بیشک ایم ڈی محترمہ رمیزہ نظامی صاحبہ کی شفقت کی سبب ادارہ نوائے وقت نے حسب استطاعت بہت ساتھ دیا۔ باقیوں نے ایمان کا اول درجہ تو کیا تیسرا درجہ بھی استعمال کرنا گوارہ نہ سمجھا۔ میری اس گرفتاری پر والدہ کی جانب سے بیان اور مجھ پر تشدد کی خبریں لگانے پر نوائے وقت کے مقامی رپورٹروں الطاف ساقی اور رائے علی اکبر کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑااوراپنے گھروں سے پولیس چھاپوں کی وجہ سے دربدر ہوئے۔

سوال: اب آزادی صحافت کی ایک علامت بن گئے ہیں آج عالمی یوم صحافت منایا جارہا ہے تو آپ حکومت، عوام اور صحافی برادری کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

            جواب: بیشک صبح کے ستارے کی عمر کم ہوتی ہے مگر وہ پیغام سحر دے کر نمایاں رہتا ہے۔ اسی طرح میرے والد محمد سرور مجاہد کو مشنری رپورٹنگ کرنے پر اپنی ٹانگ اور روزگار سے محروم ہونا پڑا۔ حقائق منکشف کرنے پر حامد میر پر جان لیوا حملہ، مطیع اللہ جان اور احمد نورانی پر قاتلانہ حملے ہونے کے باوجود آج بھی وہ اپنے موقف پر قائم رہ کر زرد صحافت کے حاملین کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ایسے لکھاری ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اورصحافت چونکہ پیغمبرانہ پیشہ ہے جس میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود ہمیں بطور صحافی ممکنہ طور پر پاکستانی غریب عوام کے مفادت اور انسانی وعوامی حقوق کے لیے بہرکیف کوریج اور مسائل کو ہمیشہ اجاگر کرنے کی متوازن رپورٹنگ کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

البتہ اس موقع پر اتنا ضرور کہوں گا کہ پاکستانی صحافیوں کے تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ کی سطح پر بار ایسوسی ایشن کی مانند قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ Divide & Ruleکی بجائے Unite & Ruleکا قاعدہ نافذ ہوسکے اور خاص کرمقامی صحافی بے توقیر ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔ قانون سازی اس انداز میں ہو کہ جیسے وکلاء کی تحصیل و ضلع میں یکتائی بار کونسلیں ہوتی ہیں جن کی رکنیت ہر وکیل کا حق ہوتا ہے اور وہ گروہوں میں بٹ اپنی الگ سے بار کونسلیں بنانے کی بجائے اُسی ایک بار کونسل میں جمہوری طریقہ کار کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں جس سے اُن کے وقار میں کمی نہیں آتی۔ اسی طرز کی قانون سا زی کے تحت ایک وقت میں ایک مقام پر ایک ہی پریس کلب ہو اور دوسرے کی گنجائش نہ ہو جس کی رکنیت حاصل کرنا مقامی علاقہ میں موجود مگر ادارے کے کارڈ ہولڈر صحافی قانوناً حق ہو اور کیا ہی بہتر ہو کہ ادارے رپورٹرز کی وساطت کی بجائے ادارے بزنس کے حصول کے لیے ضلعی و تحصیل سطح پر مارکیٹنگ کا الگ سے عملہ تعینات کریں جو رپورٹرز کی کوارڈینیشن سے بزنس کا حصول ممکن بنا ئیں ۔ نامہ نگاران جزوقتی/اعزازی کی بجائے کُل وقتی ہوں جن کا مشاہرہ/تنخواہ/اعزازیہ مقرر ہو اور صحافیوں کی انشورنس، فری ٹول پلازوں، اضلاع کی سطح پر صحافی کالونیوں کا قیام، صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے سے قبل اُنہیں صفائی کاموقع دئیے جانے، مفت میڈیکل کی سہولتیں، بچوں کی مفت یا سستی تعلیم کا حصول ۔۔۔وغیرہ کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح کی صحافتی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست ہے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -