باڑہ پریس کلب توجہ کا طلبگار

باڑہ پریس کلب توجہ کا طلبگار

ابراہیم شینواری

باڑہ پریس کلب کی تعمیر 2009 کے اوئل میں مکمل ہو گئی تھی لیکن ستمبر میں اسے باڑہ کے تمام علاقوں ماسوائے وادی تیرہ  میں فوجی کارروائی کے آغا کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔.

تاریخی باڑہ بازار کے قریب تقریبا 20 مرلے کی حاصل شدہ زمین پر واقع اس عمارت کی پہلی منزل پر صدر اور جنرل سیکرٹری کے دفاتر، دو کانفرنس ہال، ایک باورچی خانہ، بیت الخلاء چھت اور گراونڈ فلور پر ایک چھوٹا سا کمپاؤنڈ تھا۔

لیکن مقامی صحافیوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ اس سہولت کا فائدہ نہ اٹھا سکے ہیں جس کا مطالبہ وہ 2000 کے آغاز سے پہلے سے کر رہے تھے کیونکہ باڑہ میں پہلے عسکریت پسند گروہوں کے بڑھتے اثر کی وجہ سے صحافتی سرگرمیوں اور بعد میں ستمبر 2009 میں ان کے خلاف فوجی کارروائی نے اسے ناممکن بنا دیا۔

مجموعی طور پر 25 سے زائد باڑہ کے صحافیوں کو ذاتی سکیورٹی کے لیے پشاور منتقل ہونا پڑا اور 2004 میں باڑہ میں دیگر آئی ڈی پیز کی واپسی تک بےگھر افراد کے طور پر رہتے رہے۔ ان کی واپسی سے صحافیوں کی پریس کلب کھولنے کی امید پیدا ہوئی جس میں سکیورٹی فورسز تقریبا پانچ سال تک فوجی کارروائیوں کے دوران رہ رہے تھے۔.

خوش قسمتی سے ان پانچ سالوں کے دوران فورسز کے قبضے میں پریس کلب کی عمارت برقرار رہی جبکہ دیگر عمارتوں اور پریس کلب کے گرد بازاروں کو سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران بدترین نقصان پہنچا۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ “پریس کلب کی ایک اینٹ کو بھی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی شیشہ ٹوٹا کیونکہ سکیورٹی فورسز نے ان کی موجودگی کے دوران عمارتکو محفوظ رکھا۔”

مقامی صحافی کی امیدوں میں 2016 کے شروع میں باڑہ بازار دوبارہ کھولنے سے اضافہ ہوا۔ انہوں نے اپنی پریس کلب کے دوبارہ فعال بنانے کے لیے اپنے مطالبات بار بار اٹھائے۔ صحافیوں کی جانب سے ان بار بار کالوں اور مطالبات کے نتیجے میں مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی فورسز سے 2016 کے وسط میں عمارت کو خالی کرنے کے لیے کہا اور بعد میں اسے مقامی صحافیوں کو ضروری مرمت اور بحالی کے بعد حوالے کر دیا۔

عمارت کے کنٹرول لینے کے فورا بعد، باڑہ کے صحافیوں نے اپنی صحافیوں کی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور ان کی بنیادی ضروریات کے بارے میں سیاسی انتظامیہ کو پیش کیا۔.

ایک نوجوان صحافی علی اختر آفریدی نے کہا کہ اگرچہ باڑہ پریس کلب کے دوبارہ کھولنے سے ان کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو منظم طریقے سے انجام دینے کا موقع فراہم کیا لیکن عمارت ابھی بھی بجلی، پانی اور جدید سازوسامان کے بغیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ “ہمارے پاس انٹرنیٹ یا ڈی ایس ایل کی سہولیات بھی نہیں ہے کیونکہ باڑہ میں ٹیلیفون ایکسچینج عسکریت پسندوں کی طرف سے فوجی آپریشن کے آغاز سے پہلے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا اور ابھی تک آپریشنل نہیں ہے۔”.”

باڑہ پریس کلب کے صدر حسین آفریدی نے کہا کہ اگرچہ 2016 میں عمارت دوبارہ کھول دی گئی تھی لیکن اسے ابھی تک رسمی طور پر افتتاح نہیں کیا گیا ہے جس کے لیے انہوں نے اس اور ان کی کابینہ نے سیاسی انتظامیہ کے حکام کو کئی درخواستیں بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات جیسے کہ بجلی، کمپیوٹر سسٹم، پرنٹنگ مشینیں اور سب سے زیادہ قابل اطمینان اور مسلسل انٹرنٹ کے مسائل موجود ہیں۔.

ایک ریڈیو صحافی خادم خان آفریدی کا خیال تھا کہ پریس کلب کے دوبارہ کھلنے سے کم از کم انہیں ایک محفوظ ماحول میں ایک ساتھ بیٹھ کر مقامی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے اور کہانیاں تیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ “اس سہولت کے دوبارہ کھلنے سے قبل، ہم سب ایک دوسرے سے آزاد کام کر رہے تھے اور اپنے پیشہ ورانہ تجربے کو شریک نہیں کرسکتے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ اپنے لوگوں اور ساتھیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔.

ایک صحافی اسلام گل آفریدی، جن کے خاندان نے پریس کلب کو زمین کا عطیہ دیا تھا، زور دیا کہ ایک باضابطہ پریس کلب باڑہ کے لوگوں کی ایک بڑی ضرورت ہے کیونکہ وہ بے گھر افراد کی واپسی کے بعد ان کے مطالبات کو تسلیم کرانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ”صحافی نے اس مخصوص خطے کے مظلوم اور محتاج عوام کو آواز دی اور اس کے لیے انہیں مساوی سہولیات کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔”

ایک صحافی اور باڑہ پریس کلب کے بحالی میں متحرک خیال مت شاہ آفریدی نے یہ مقامی صحافیوں کی جانب سے پریس کلب باقاعدگی سے آنے کو ایک صحت مند نشانی قرار دیا۔

”ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ ہم باڑہ کے عوام کے مسائل اور مشکلات کو اٹھائیں۔

ایک سیاسی کارکن مراد ساقی کا ماننا ہے کہ ایک فعال اور ضروری سازوسامان سے مزئین باڑہ پریس کلب سیاسی آگہی بڑھانے میں بھی مدد دے گا۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -