آذادیِ ابلاغ: پشتون علاقوں کے چیلنج

آذادیِ ابلاغ: پشتون علاقوں کے چیلنج

حمید اللہ شیرانی

بلوچستان کے صحافی مختلف خطرات سے دوچار ہیں، چاہے وہ پشتون یا بلوچ علاقے ہوں۔ آذادی اظہار کم ہواہے جبکہ صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات بڑھے ہیں۔ کئی جانی پہچانی اور انجان کالعدم تنظیمیں، سیاسی و مذہبی جماعتیں صحافیوں کو ڈراتی دھمکاتی رہتی ہیں۔

بلوچستان کی پشتون بیلٹ میں صحافیوں کو درپیش خطرات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ انہیں بلوچ علاقوں کے صحافیوں کی طرح ہی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ وہ بھی دیگر علاقوں کے صحافیوں کی طرح خطرات سے دوچار ہیں۔ ایک سینئر صحافی سید ظہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ “پشتون علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافی چاہے وہ کوئٹہ سے ہوں یا چمن سے سب خطرات سے دوچار ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔ ژوب میں ایک خطرہ ہے، ہرنائی میں اس سے مختلف اور چمن میں کسی دوسری طرز کا خطرہ ہے۔”

پختون بیلٹ میں بارہ اضلاع ہیں۔ ان میں سے چمن اور ژوب دو انتہائی حساس ضلع ہیں۔ انہیں مذہبی اور طالبان کے حامی گروہوں کے “گڑھ” کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ چمن ایک سرحدی شہر ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار کرنے کے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ .

چمن پریس کلب کے صدر اختر گلفام نے کہا کہ “چمن میں، مقامی صحافیوں کو سرحدی معاملات اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ان کا کام بہت مشکل ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ان کے کیرمہ مین امین اللہ مینگل کے ساتھ 5 مئی، 2017 کو سکیورٹی اہلکاروں نے مارا پیٹا۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی جھگڑا کی رپورٹنگ کے دوران ان کے کیمرے اور موبائل فون بھی لے لیے تھے۔”

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “پشتون بیلٹ میں منشیات مافیا، اسمگلر اور قبائلی نظام خود مختار اور پیشہ ورانہ صحافت کو پنپنے نہیں دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اظہار کی آزادی یہاں ممکن نہیں ہے۔”

موسی خیل بلوچستان کے سب سے پسماندہ اضلاع میں سے ایک ہے۔ مقامی صحافی خلیل موسی خیل مختلف چینلز اور پشتو زبان کے خیبر نیوز چینل کے رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “موسی خیل میں، ہم قبائلی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، لوگ صحافیوں کی ذمہ داری نہیں جانتے۔ بعض اوقات جب ہم خبروں کی اشاعت کرتے ہیں، تو قبائلی عمائدین کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ ان کے خلاف تھی۔ لہذا، ہمیں کئی بار دھمکی دی گئی ہے۔”

”دوسرا یہ کہ ضلع کے اصل مسائل پر رپورٹنگ کی صورت میں بھی انہیں سیاسی، مذہبی اور قبائلی گروپوں کی جانب سے دھمکیاں ملتی ہیں۔”

سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی گروہ بھی بلوچستان میں مقامی اور علاقائی صحافیوں کے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان صحافیوں کو ان کی زندگی کا خوف ہے اور اس وجہ سے پشتون علاقوں میں کئی اپنے دفاع کے لیے ہتھیار رکھتے ہیں۔

قلع سیف اللہ ایک اور ضلع ہے جہاں ایک مضبوط قبائلی نظام موجود ہے۔ روزنامہ ڈان اخبار کے ایک صحافی رفیع کاکڑ نے فریڈم نیٹ ورک کو بتاتا کہ “سیاسی جماعتوں کے علاوہ اور دھمکی دینے والوں میں قبائلی اشرافیہ، خان، سردار یا نواب بھی شامل ہیں۔ وہ اپنی پسند کی خبر چاہتے ہیں۔ اگر ہم ان کی مرضی کے خلاف جائیں گے تو وہ خطرناک ہو جائیں گے۔”

گزشتہ ایک دہائی میں بلوچستان میں 40 سے زائد صحافیوں پر حملے اور انہیں ہلاک کیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی مجرم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔.

صدر پریس کلب کوئٹہ کے صدر رضا الرحمان نے خصوصی طور پر فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحافی ہر جگہ غیر محفوظ ہیں، چاہے وہ پشتون یا بلوچ بیلٹ ہو یا کوئٹہ ہو۔ ”صحافی ہمیشہ شورش کی وجہ سے مصیبت میں رہے ہیں۔ عسکریت پسند تنظیمیں بھی دباؤ بڑھاتی رہتی ہیں۔”. ”

پشتون بیلٹ میں 11 سے زائد پریس کلب ہیں، لیکن وہ عمارت اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ صحافیوں کو بھی میڈیا گھروں کی طرف سے ادائیگی نہیں کی جاتی ہے۔ اضلاع میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ میں اکثر اخبارات پرنٹ کیے جاتے ہیں۔.

بلوچستان صحافیوں کے مسائل دیہی علاقوں میں وسائل نہ ہونے اور کشیدگی کی وجہ سے مزید سنگین شکل اختیار کرتے ہیں۔ ایک کیمرے، مائیکروفون اور دیگر سازوسامان کے لیے انشورنس ہے لیکن کام کرنے والے صحافی کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ بہت سے صحافیوں تو تقرری کے خطوط سے بھی محروم ہیں۔

بلوچستان حکومت صحافیوں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ یہ بنیادی طور پر صحافی کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہی ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -