صدیق لالا، خدا حافظ

صدیق لالا، خدا حافظ

عدنان عامر

پاکستان میں صحافتی برادری کو فروری میں ایک سچی آواز کھونی پڑی۔ صدیق بلوچ چھ فروری 2018 کو کراچی میں چل بسے لیکن اپنے پیچھے پانچ دھائیوں پر محیط متحرک صحافتی میراث چھوڑ گئے۔

صدیق بلوچ جنہیں اکثر پیار سے لالا یا ماموں کہہ کر پکارا جاتا تھا کراچی کے لیاری علاقے میں 1940 میں پیدا ہوئے۔ لیاری میں ابتدائی تعلیم کے بعد 1966 کو انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈگری حاصل کی۔ جلد ہی صدیق لالا نے صحافت میں کم رپورٹ کیے جانے والے مسائل پر قلم کشائی شروع کی۔

 صدیق بلوچ انگریزی روزنامہ ڈان کے ساتھ ابتدا میں منسلک ہوگئے اور جلد ہی اپنی رپورٹنگ کے ذریعے ایک نام بنانا شروع کر دیا۔ 1972 ء میں انہوں نے گورنر غوث بخش بزنجو کے ساتھ ایک سفر کیا۔ گورنر کے پریس سیکریٹری اس دن غیر حاضر تھے۔ گورنر نے صدیقی بلوچ سے کہا کہ وہ اس واقعے کی کوریج کریں۔ انہوں نے ایسا کیا اور بزنجو ان کا کام اتنا پسند آیا کہ انہوں نے انہیں اپنا پریس سیکریٹری بنا لیا۔ صدیق بلوچ نے صرف چار ماہ تک پریس سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیں لیکن حیدرآباد ٹربیونل کیس میں بزنجو کے ساتھ چار سال جیل میں گزارے۔

مسٹر بلوچ نے اپنی صحافت کو 1977 ء میں دوبارہ شروع کیا۔ انہوں نے ڈان کے لیے بلوچستان پر 100 صفحات کا تفصیلی ضمیمہ تیار کیا۔ بلوچستان پر یہ اپنی نوعیت کا سب سے پہلے ضمیمہ تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے حقوق کے لیے بھی مہم چلائی اور صحافیوں کے کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دونوں کے عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے 1989 ء میں ڈان چھوڑ کر کراچی سے سندھ ایکسپریس نامی اخبار شروع کیا جو مالی مشکلات کی وجہ سے مختصر مدت کے لیے ہی شائع ہوا۔

انیس سو اکانوئے میں صدیق بلوچ کوئٹہ منتقل ہوگئے اور اس طرح صحافت کا ان کا سنہری دور شروع ہوا۔ انہوں نے ایک انگریزی ڈیلی بلوچستان ایکسپریس 1991 میں اور اردو میں ڈیلی آزادی 2001 میں شروع کیا۔ وہ اس صوبے میں صرف ایک ناشر تھے جو پیشہ ورانہ ایڈیٹر بھی تھے۔ انہوں نے باقاعدگی سے مختلف مسائل پر سخت اداریے لکھے۔ انہوں نے بلوچستان کے حقوق کے بارے میں بہت بےباک تھے اور کبھی بھی اپنے موقف میں لچک نہیں لائے۔

1990 کی دہائی میں مسٹر بلوچ نے ایک مہم شروع کی کہ پریس کلبوں کو صرف صحافیوں کے لیے ہونا چاہئے ناشرین کے لیے نہیں۔ خود ایک پبلشر ہونے کے باوجود انہوں نے یہ بات یقینی بنائی کہ کوئٹہ پریس کلب کے آئین میں پبلشروں کی رکنیت ختم کی جائے۔ یہ ان کی کوششوں کی وجہ سے ہی ہے کہ آج میڈیا کے مالکان پریس کلب کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

 اس طرح صدیق بلوچ پریس کی آزادی کے علم بردار تھے۔ انہوں نے بے شمار اداریوں میں پریس کی آزادی کو دبانے کی کوششوں پر ہمیشہ تنقید کی۔ 2009 میں ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے بلوچستان ایکسپریس کے دفاتر کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ ان کے مہمانوں کو دفتر میں ہراساں کیا گیا اور اخبار کی اشاعت کو مشکل بنا دیا گیا۔ پھر بھی، مسٹر بلوچ ڈٹے رہے اور سکیورٹی فورسز کو بعد میں ہٹا دیا گیا۔

پچھلے سال، مسٹر بلوچ کی صحافت نے انہیں ایک بار پھر حکومتی قہر کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے اخبارات کے لیے اشتہارات کو معطل کر دیا گیا تاکہ ان کے اخبار مالی طور پر ختم ہو جائیں۔ تاہم وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور سمجھوتا نہیں کیا۔ چند مہینے تک انہیں مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن بعد میں ان کے اشتہارات کو بحال کر دیا گیا۔

مختصر یہ کہ صدیق بلوچ نے کبھی سودہ بازی نہیں کی۔ آج بلوچستان کی صحافتی برداری ان کی کمی محسوس کر رہی ہے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -