پاکستان میں صحافت میں آنے والی خواتین کو ہم آہنگ، سازگار ماحول دستیاب نہیں: عاصمہ شیرازی

پاکستان میں صحافت میں آنے والی خواتین کو ہم آہنگ، سازگار ماحول دستیاب نہیں: عاصمہ شیرازی

ایوارڈ یافتہ صحافی اور معروف ٹی وی اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین صحافیوں کو بھی سکیورٹی کے مسائل کے ساتھ ساتھ برابری کی بنیاد پر مواقع حاصل نہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو ثابت کرسکیں۔

اس سال آٹھ مارچ کو عالمی خواتین کے دن کے موقع پر فریڈم نیٹ ورک نے 2014 میں پیٹر میکلر ایواڈ حاصل کرنے والی عاصمہ شیرازی سے پاکستان میں صحافت میں خواتین کے مسائل سے متعلق خصوصی گفتگو کی۔ اس کے اقتباسات پیش ہیں:

فریڈم نیٹ ورک: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو آپ بطور خاتون صحافی کے کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

عاصمہ شیرازی: میرے لیے ایک عورت ہونے کی ہر روز اپنی ایک اہمیت ہے۔ ہم اپنے گھروں، ممالک یا معاشرے کو بغیر مساوی خواتین کی شرکت کے نہیں چلا سکتے ہیں۔ خواتین معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ میں ہر دن کو 8 مارچ کے طور پر کو اپنا دن سمجھتی ہوں۔.

ایف این: کیا خواتین صحافی اپنے دفاتر میں اور میدان میں محفوظ ہیں؟

 عاصمہ شیرازی: پاکستان میں صحافی محفوظ نہیں ہیں چاہے وہ مرد ہیں یا عورتیں۔ صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزاییں نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خواتین کو محفوظ ماحول یا برابر مواقع فراہم نہیں کیے جاتے ہیں۔ ان سے توقع ہوتی ہے کہ وہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کریں گی۔ انہیں عام طور پر آسان موضوعات پر کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، جیسے کہ خواتین کے مسائل یا کانفرنسوں کی کوریج۔ خواتین کو کمزور سمجھا جاتا ہے جو بڑے موضوعات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں۔ جو لوگ آگے بڑھنے اور خود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں انہیں جسمانی حملوں اور ذہنی تشدد جیسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں سیاست یا حالات حاضرہ پر کام کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔ میرے خیال سے خواتین صحافی کو اپنے فرائض کو مؤثر طور پر سرانجام دینے کے لیے برابر یا سازگار ماحول مہیا نہیں کیا جاتا ہے۔.

ایف این: وہ کیا مسائل ہیں، جو خواتین کو بطور صحافی کام کرنے سے روکتے ہیں؟

عاصمہ شیرازی: میرے خیال میں میڈیا ہاوسز میں عورتوں پر اعتماد کی کمی ہے کیونکہ وہ خواتین کو  کمزور مخلوق تصور کرتے ہیں۔ مجھے اپنے کیریئر میں کئی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن میں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی اور اپنے لیے لڑی۔ 2005 میں مجھے بتایا گیا تھا کہ زلزلے کی کوریج میرے لیے ممکن نہیں ہوگی۔ لیکن میں نے اپنی انتظامیہ پر یہ واضح کیا کہ میں اسے کرنا چاہتی ہوں جس کے بعد مجھے یہ کوریج کرنے دیا گیا۔

ایف این:  پاکستان میں انسداد ہراسیت کا قانون ہے۔ اس قانون کے تحت، دفاتر میں ایک کمیٹی قائم کی جانی چاہیے جو عورتوں کو ہراساں کرنے والے مقدمات سنے گی۔  کیا میڈیا ہاوسز میں ایسی کمیٹیاں ہیں؟

عاصمہ شیرازی: کئی میڈیا ہاوسز میں یہ کمیٹیاں نہیں ہیں۔ سب سے پہلے، زیادہ تر خواتین ہراسیت کے بارے میں بات کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ لیکن اگر ایک خاتون اس کیس کو کمیٹی میں لے جائے تو اس کی کوئی بھی نہیں سنتا۔ میری رائے میں ہر تنظیم کو انسداد ہراسیت کی کمیٹی قائم کرنا چاہئے، جس میں مرد اور عورتیں شامل ہوں۔ اگر کسی بھی عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے تو کمیٹی کو فوری طور پر کارروائی کرنا چاہئے اور بغیر کسی رواداری کے مجرم کو سزا دی جائے۔

 ایف این: صحافیوں میں خواتین کی تعداد بڑھانے کے لیے کیا ضروری ہے؟

عاصمہ شیرازی: صرف حوصلہ افزائی اور اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ثابت کر سکتی ہیں کہ اپنے عزم کے ساتھ وہ کسی سے دوسرے سے کم نہیں ہیں۔ عورتوں کو صحافت میں لانے کے لیے بہتر اور قابل اعتماد ماحول فراہم کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ خواتین میں اعتماد پیدا کرنے کی ایک بڑی ضرورت ہے، جو وہ اپنے گھر، تعلیمی اداروں اور میڈیا ہاوسز سے حاصل کرسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے، خواتین کی جنگ، سیاست، جرم اور کھیلوں جیسی سخت کہانیاں ڈھونڈنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔ انہیں فیشن آئیکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کانفرنسوں اور خواتین کے مسائل کی کوریج تک محدود رکھا جاتا ہے۔

ایف این: آپ نوجوان خواتین کو کیا پیغام دینا پسند کریں گی جو صحافت کو ایک کیریئر کے طور پر اپنانا چاہتی ہوں؟

عاصمہ شیرازی: صرف ایک پیغام ہے کہ جو میں ہمیشہ نوجوان خواتین کو دیتی ہوں کہ صحافت سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ آپ کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونا ہوگا اور خود کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کسی سے بھی کم نہیں ہیں۔  

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -