بلوچستان میں تین ماہ پرانا ‘میڈیا بائیکاٹ’ ختم

بلوچستان میں تین ماہ پرانا ‘میڈیا بائیکاٹ’ ختم

عدنان عامر

انیس جنوری 2018 کو کالعدم بلوچ مزاحمت کار گروہ بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان گوہرام بلوچ نے ایک اخباری بیان میں بلوچستان میں اپنا تین ماہ پرانا میڈیا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

پس منظر

چار اکتوبر 2017 کو اس گروپ نے بلوچستان میں میڈیا کو بیس روزہ الٹی میٹم جاری کیا کہ وہ یا تو ان کے بیانات شائع کرنا شروع کر دے یا پھر ”حملوں” کے لیے تیار ہو جائے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت صوبائی حکومت نے میڈیا کو ان گروپوں کے بیانات شائع یا نشر کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔ بی ایل ایف کی مہلت چوبیس اکتوبر کو ختم ہوئی جس کے اگلے روز بلوچ علاقوں میں بائیکاٹ کا آغاز ہوا۔ بچیس اکتوبر کو حب پریس کلب پر ایک دستی بم پھینکا گیا جس سے چھ صحافی زخمی ہوگئے۔ اس کے ایک روز بعد تربت میں پاک نیوز ایجنسی پر حملہ ہوا اور اخبارات لیجانے والی ایک گاڑی پر اواران میں حملہ کیا گیا۔ بی ایل اے نے انہیں وجوہات کی بنا پر بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

میڈیا پر ”اثرات

مزاحمت کاروں کی دھمکیوں کی وجہ سے بلوچ علاقوں میں اخبارات کی ترسیل اور بیس سے زائد پریس بند کر دیئے گئے۔ بلوچ علاقوں میں تمام صحافتی سرگرمیاں بند ہوگئیں۔ اس کا مطلب تھا کہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکتے تھے اور میڈیا عوامی مفاد میں نگرانی کا کام نہیں کرسکتا تھا۔ بلوچستان سے رپوٹنگ ویسے ہی کم ہوتی ہے لیکن اس صورتحال سے حالات مزید خراب ہوگئے۔

کوئٹہ شہر میں بھی صحافیوں نے نقل و حرکت کم کر دی۔ کوئٹہ پریس کلب ویران دکھائی دینے لگا اور اخبارات کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد کے مطابق خوف کے اس ماحول میں صحافیوں کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ بائیکاٹ ناصرف آذادی اظہار بلکہ ان لوگوں کی مالی حالت پر بھی منفی اثر ڈالا جن کی روزی روٹی میڈیا سے جڑی ہے۔ دھمکیوں کے بعد اخبارات تقسیم کرنے والی ایجنسیاں اور کتابوں کے سٹالوں نے اخبارات اور رسائل فروخت کرنا بند کر دئیے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ تین ماہ کے لیے وہ بے روزگار رہے۔

 اس کی ایک مثال گوادر کا البدر بک سٹال ہے جسے ملا ریاض چلاتے ہیں۔ بائیکاٹ سے ان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا اور اخبارات تقسیم کرنے والے بےروزگار ہوگئے۔ اسی طرح خضدار میں تیس اخبار فروش بےروزگار ہوگئے۔

 صحافت کی بحالی

جب حکومت بلوچستان میں صحافتی سرگرمیاں بحال کرنے میں ناکام ہوئی تو سول سوسائٹی اور ایڈوکسی تنظیمیں آگے آئیں۔ کوئٹہ پریس کلب، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب، کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز اینڈ ایڈیٹرز اور فریڈم نیٹ ورک نے حکومت پر دباؤ بڑھایا کہ وہ مزاحمت کاروں کے ساتھ اپنے تنازعے میں میڈیا کو دور رکھے۔

بی ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا نے “ریاست کے لیے ایک آلے کا کام کیا ہے اور اس نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہے اور اسی وجہ سے یہ حملے کیے گئے ہیں.” بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ممنوع گروپ نے “اپنے میڈیا کے بائیکاٹ کے ذریعے بلوچستان میں اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ بی ایل ایف کی طرف سے میڈیا کے بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کی بلوچ بیلٹ میں صحافیوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ .

فریڈم نیٹ ورک اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ گوادر، تربت اور پنجگور اضلاع میں پریس کلبوں نے کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ دیگر اضلاع میں پریس کلب بھی صحافتی سرگرمیاں جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں میڈیا اب بھی مکمل آزادی سے بہت دور ہے۔ اب بھی بلوچستان میں 40 سے زائد صحافیوں کو قتل کرنے والے آذاد ہیں۔ صحافیوں نے خوف اور غیر یقینی کی صورتحال میں دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ .

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -