عدم تحفظئ عدم برداشت پنجاب میں بھی صحافت کو بڑے چیلنج

عدم تحفظئ عدم برداشت پنجاب میں بھی صحافت کو بڑے چیلنج

فہیم بٹ
یوں تو دنیا بھر میں سچ لکھنے والے صحافیوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے لیکن پاکستان اور تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک میں صحافیوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرات لاحق رہتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک سو سے زائد صحافی اس راہ حق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ صوبے پنجاب میں بھی صحافیوں کو اسی قسم کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ ان پر ہونے والے حملوں کے مقدمات درج تو ہوتے ہیں لیکن ان میں شاذر و نادر ہی کسی کو سزا ملتی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے صحافی تنظیمیں اور آزادی اظہار پر یقین رکھنی والی تنظیمیں ’’جرنلسٹ پروٹیکشن بل ‘‘ کے لیے کوشاں ہیں جس میں تاحال کامیابی ممکن نہیں ہوسکی تاہم یہ کوشش جاری ہے۔
جیسے جیسے میڈیا آزاد ہو رہا ہے ویسے ویسے ہی معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے۔ مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ سیاسی جماعتیں اور دیگر گروپس بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ پنجاب میں بھی میڈیا کے کارکنوں اور اداروں پر مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیوں اور تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی نااہلی کے خلاف اسلام آباد سے لاہور تک مارچ کے دوران دکھائی دیا جس میں ان کے کارکنوں نے ان میڈیاہاوسز کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جنہیں وہ اپنی جماعت کا مخالف خیال کرتے تھے۔ ان میڈیا ہاوسز میں بول، اے آر وائی اور سماء ٹی وی جیسے بڑے اور بااثر ادارے شامل ہیں۔
مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے حال ہی میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا تذکرہ بےجا نہ ہوگا جس نے اقلیتوں کے موقف کو اپنے قلم کا موضوع  بنایا جس کے بعد اس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ آخر کار انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑ ی۔ انگریزی اخبار کے ایک صحافی رانا تنویر نے معاشرے میں موجود اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور ان کے لیے معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قانونی حق کا دفاع کرنا شروع کیا تو رانا تنویر پر مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شروع میں تو رانا تنویر نے ان دھمکیوں کو اتنی اہمیت نہ دی لیکن بعد ازاں مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیوں میں شدت آگئی اور پھر ایک روز رانا تنویر کے گھر کے باہر نامعلوم افراد نے ایک فتویٰ لکھ دیا۔ اس کے خلاف جب رانا تنویر نے پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس کی جانب سے ان کی مدد کرنے کی بجائے انہیں مشور دیا گیا کہ وہ اپنا مکان تبدیل کر لیں اور کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہوجائیں۔ پولیس سے مایوس ہونے کے باوجود رانا تنویر اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا کہ ایک روز ایک گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے انہیں ٹکر دے ماری جس کے نتیجہ میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ علاج کے دوران بھی نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے رانا تنویر نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور بچوں کے سکول تبدیل کر لیے لیکن اس کے باوجود ان کے خاندان کے مصائب کم نہ ہوئے۔ بالاآخر رانا تنویر پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ رانا تنویر پر جب حملہ ہوا تو شروع میں تو ان کے اخبار کی طرف سے انشورنس پالیسی کے تحت علاج کی سہولت فراہم کی گئی لیکن بعد ازاں کی تنخواہ روک لی گئی اور نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
اسی طرح لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے دوران ایک مذہبی جماعت لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کی جانب سے نیو ٹی وی کے رپورٹر عثمان اور کمیرہ مین علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
صحافی جنہیں دنیا بھر میں انسانی حقوق کا محافظ سمجھا جاتا ہے وہ پاکستان میں خود کتنا غیر محفوظ ہے اس کاا ندازدہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ناصرف یہ کہ ریاست اس صحافی کو تحفظ فراہم نہیں کرتی بلکہ جس اخبار کے لیے وہ شب و روز کام کرتا ہے وہ بھی ’’زیر عتاب‘‘ صحافی سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے مخصوص قانون سازی نہایت ضروری ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رویے کو روکنے میں مدد مل سکے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -