‘صحافیوں کے تحفظ کے نئے قانون کی مارچ میں منظوری کی امید ہے’

‘صحافیوں کے تحفظ کے نئے قانون کی مارچ میں منظوری کی امید ہے’

پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے فریڈم نیٹ ورک کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں ملک میں صحافتی آذادیوں اور خطرات پر بات کی ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: پاکستان میں صحافی کس حد تک محفوظ ہیں؟ 

صدرافضل بٹ – جواب: پا کستان میں صحافی کسی طور پر بھی محفوظ نہی ہیں۔ انہیں مختلف طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہیں یہ خطرات دہشت گرد تنظیموں، مذہبی اور لسانی انتہا پسند گروہوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے لاحق ہیں۔ چھوٹے قصبات اور شہروں میں کام کرنے والے صحافی تو بالخصوص خطرات اورحملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ مقامی وڈیرے، زمیندار، منشیات اور اراضی مافیا صحافیوں کو اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے دوران نشانہ بناتے ہیں۔ بعض ریاستی ادارے تو یہ چاہتے ہیں کہ رپورٹرز کو اپنی خبرنگاری میں ان کی ایماء کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے۔ پچھلے سترہ سالوں کے دوران پاکستان میں 120 صحافیوں کو اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے دوران ہی مارا گیا۔اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کا صحافی محفوظ نہیں ہے۔

سوال: صحافیوں کے تحفظ کے سلسلے میں کس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

جواب: وہ بنیادی مشکلات جن کا صحافیوں کو سب سے زیادہ سامنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے خلاف جرائم کرنے والے یا ان کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف اگرچہ پولیس کیس درج کرتی ہے تاہم 95 فیصد مقدمات میں وہ ان کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ناکام رہتی ہے۔ صحافیوں کے خلاف بہت سے ایسے جرائم بھی رونما ہوتے ہیں جن کی ایف آئی آر درج کروانے میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ پولیس کی طرف سے تفتیش کا عمل اتنا سست ہوتا ہے کہ مارے جانے والے صحافیوں کے لواحقین کی امید ٹوٹ جاتی ہے اور ان میں سے اکثر انصاف کے حصول کے لیے مقدمے کی پیروی ہی کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پولیس جب تفتیش مکمل کر کے اس کا چالان عدالت میں پیش کرتی ہے تو ایسے مقدمات کو عدالت کمزور تفتیش کی وجہ سے خارج کر دیتی ہے اور یوں صحافیوں پر حملے کرنے والے انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے سے بچ جاتے ہیں۔ معلوم نہیں پولیس کمزور تفتیش جان بوجھ کر کرتی ہے یا کہ پولیس میں اچھی تفتیش کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ ہمارے لیے تو یہ ایک معمہ ہے۔ بعض مقدمات میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس صاف طور پر کہہ دیتی ہے کہ اس کیس میں وہ ریاستی عناصر ملوث ہیں جن پر ہاتھ ڈالنے کی ان کی طاقت نہیں ہے۔ سب سے بڑا چیلنج مارے جانے والے صحافی کے خاندان کو درپیش ہوتا ہے کیونکہ وہ معاشی طور پر مفلوک الحال ہو جاتے ہیں۔ جب مارے جانے والے صحافی کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہوتا ہے تو متاثرہ خاندان کے پاس اپنے وکیل کو دینے کے لیے فیس کے پیسے تک نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ مارے جانے والے صحافی کے خاندان کی معاشی ضرورتیں پورا کرنے کے ذرائع ناپید ہو جاتے ہیں۔ صحافیوں کی تنخواہیں اس قدر نہیں ہوتیں کہ خدا نہ کرے اگر ایسی صورتحال پیش آجائے تو ان کے مقدمات کو ان کا خاندان کسی منطقی انجام تک پہنچا سکے۔

 وہ اخبارات اور ٹی وی چینل جن میں مارے جانے والے صحافی کام کر رہے ہوتےہیں وہ بھی ان کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مقدمات میں بھی کوئی قانونی مدد نہیں کرتے۔ اکثر متاثرہ خاندانوں کو تکلیف اور پریشانی کے عالم میں بے یاروگار چھوڑ دیتے ہیں۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون ہونا چاہئے؟

جواب: اگر ہم صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت صحافیوں کی حفاظت کے لیے قوانین کی تشکیل انتہائی ضروری ہے۔ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جس میں حکومت صحافیوں کے مقدمات کے حوالے سے خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کرنے کی پابند ہو، ایک ایسا قانون جو ایسے مقدمات کو ایک مخصوص مدت کے اندر حل کرنے کا پابند بناتا ہو، ایک ایسا قانون جو ہم سب کو انصاف فراہم کرتا ہو۔ اس قانون کے تحت بلاتفریق مقدمات درج ہوں اور ان پر سماعت مکمل کرکے مقدمات کے فیصلے اور سزائیں بھی صادر کی جائیں۔

سوال: حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک مسودہ قانون پر کام کر رہی ہے۔ کیا پی ایف یو جے اس مسودے کے مندرجات اور اس کی تیاری کے طریقہ کار سے مطمئن ہے؟

 جواب: حکومت اس قانوں کےدو مسودے سامنے لاچکی ہے جسے صحافیوں کے تحفظ اور بہبود کا قانون کہا جاتا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس قانون کو ان بنیادوں پر رد کر دیا ہے کہ یہ صحافیوں کے خاندانوں کے لیے تو قدرے فائدہ مند ہے لیکن صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی ضمانت فراھم نہیں کرتا ہے۔ اس قانون کے حوالے سے وہ تمام شریک کار جن سے حکومت نے مشاورت کی ہے ان سب نے اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس مخالفت کے باوجود حکومت نے اس بل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کو اس کی منظوری کے لیے بھجوا دیا تھا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس بل کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ اس قانون میں صحافیوں کے تخفظ کے حوالے سے کوئی ضمانت اور پاسداری موجود نہیں۔ یوں کمیٹی نے وفاقی حکومت کے اس مسودہ قانون کو اپنے تحفظات کے ساتھ رد کر دیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ نئے مسودے کو فی الفور ایوان میں لائے۔ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے حکومت کو کہا ہے کہ اگر حکومت جائزہ بل پیش کرنے میں ناکام رہی تو کمیٹی خود ایوان بالا میں یہ بل پیش کردے گی۔

سوال: آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان کب تک صحافیوں کے تحفظ کا قانون بنا لے گا؟

جواب: اس سے قبل جب ہم اس بل کو رد کر رہے تھے تو اس وقت ہم نے حکومت کے مسودہ قانون میں پی ایف یو جے کی طرف سے متعدد ترامیم اور سفارشات جمع کروائی تھیں تاہم حکومت نے ہماری گزارشات پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اس سال مارچ میں سینٹ انتخابات سے قبل اس قانون کو اسمبلی سےمنظور کرا لے گی۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -