خیبر پختونخوا اور فاٹا میں صحافیوں پر بڑھتے دباؤ

خیبر پختونخوا اور فاٹا میں صحافیوں پر بڑھتے دباؤ

گوہر علی خان

پاکستان بدستور دنیا کے ان خطرناک ترین ممالک میں سرفہرست ہے جہاں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو اب بھی شدید خطرات لاحق ہیں اور وہ خود کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران انتہائی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ صحافیوں کو نہ صرف غیر ریاستی عناصر بلکہ ریاستی عناصر سے بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ غیر ریاستی کی نسبت ریاستی عناصر سے درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ مسئلہ خصوصاً خیبرپختونخوا اور اس سے ملحق قبائلی علاقے (فاٹا) میں کام کرنے والے صحافیوں کے سروں پر خوف کے سائے زیادہ منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ صحافیوں کو ریاستی عناصر سے درپیش خطرات کی ایک مثال گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی جب خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے پانچ سینئر اور کارکن صحافیوں میں سے ایک صحافی کی گاڑی کے نیچے سے بم برآمد ہونے پر بجائے یہ کہ ان صحافیوں کو تحفظ فراہم کرکے ان کی کار میں بم نصب کرنے والوں کا سراغ لگایا جاتا اُلٹا نیم فوجی ملیشیا نے پانچوں صحافیوں کو نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان میں ایک صحافی اور لنڈیکوتل پریس کلب کے ملازم کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ اسے دیکھ کر دوسرا صحافی ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگیا۔ یہ افسوناک واقعہ جمعہ24 کو اس وقت پیش آیا جب لنڈی کوتل میں ایک کار ریلی میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیکی کے لیے شریک پانچ قبائلی صحافی – نجی پشتو ٹی وی خیبر نیوز کے نمائندے خلیل آفریدی، غیر ملکی ریڈیومشال کے فرہاد شنواری، ویب نیوز ٹی این این کے مہراب شاہ آفریدی، سرکاری ٹی وی کے نمائندے ساجد شنواری اور خیبر نیوز کے عمران خٹک – میں سے صحافی خلیل آفریدی کی کار میں بم کی موجودگی کی اطلاع ملی جس پر کار میں سوار فورا کار سے اُتر گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گاڑی میں بم کی موجودگی کی نشاندہی بھی ایک سکیورٹی اہلکار نے اس وقت کی جب وہ ایک سکیورٹی چیک پوسٹ سے گزر رہی تھی۔ کار کو فوراً روک کر بم تو نکال لیا گیا مگر افسونا ک امر یہ کہ اس موقع پر ان صحافیوں کی مدد کرنے اور ان سے ہمدروی کرنے اور اصل ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرنے کی بجائے سکیورٹی فورسز نے پانچوں صحافیوں کو گرفتار کرکے ان کی آنکھوں پر چھ گھنٹے تک پٹی باندھے رکھی اور ان سے ہی تفتیش شروع کردی۔ یہ کیسے ممکن کہ کوئی شخص خود اپنی کار میں بم نصب کرسکتا ہے جس کو معلوم ہے کہ وہ خود بھی اس کا نشانہ بن سکتا ہے۔ مگر اس حقیقت کے برعکس سکیورٹی اداروں نے چوبیس گھنٹے تحقیقات کے بعد چار صحافیوں کو تو رہا کر دیا جبکہ کار کے مالک صحافی اور پریس کلب کے اہلکار کو روک لیا گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی صحافیوں کے مطابق زیر حراست صحافی کو اس قدر شدید تشدد کانشانہ بنایا گیا اس سے قبل رہائی پانے والے ایک صحافی ساجد شنواری نے بتایا کہ انہوں نے جب اپنے ایک ساتھی پر تشدد دیکھا تو انہیں بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس رویے کے خلاف جب لنڈی کوتل اور پشاور کے صحافی سراپا احتجاج ہوئے تو اس کے بعد زیر حراست پانچوے صحافی خلیل آفریدی کو بھی رہا کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا اور خصوصا قبائلی علاقوں کے صحافیوں کے سچ لکھتے وقت ہاتھ پاوں کانپتے ہیں۔ وہ کھل کر پر اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جہاں صحافیوں پر حملوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی بلکہ انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس لحاظ سے رواں ماہ اکتوبر خیبرپختونخوا اور فاٹا کے صحافیوں  کے لیے کافی بھاری رہا ۔جہاں ایک سینئر صحافی کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں گھر کی دہلیز پر ہی قتل کر دیاگیا جبکہ فاٹا کے دو قبائلیوں صحافیوں سمیت تین صحافیوں کو گن پوائنٹ پر اٹھانے اور ایک صحافی کو دھمکیاں دییے جانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

خیبرپختونخوا اور فاٹا میں کام کرنے والے صحافیوں کے خلاف تشددکی نئی لہر کا آغاز گزشتہ برس یکم اکتوبر کو اس وقت ہوا جب ڈیرہ اسماعیل خان میں ریاستی اداروں نے ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ایک جونئیر کیمرہ مین کو اپنے فرائض سے روکتے ہوئے نہ صرف اس پر تشدد کیا بلکہ اسے کئی گھنٹوں تک غیرقانونی حراست میں رکھنے کے بعد مقامی صحافیوں کے دبائو پر رہائی ملی۔ ابھی صحافی نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر تشدد کے خلاف سراپا احتجاج تھے کے ضلع صوابی کے سینئر صحافی ہارون خان کو ان کے گھر کے دیلیز پر اس وقت گولی مارکر قتل کردیا گیا جب وہ کام سے فارغ ہونے کے بعد واپس گھر آ رہے تھے۔ نامعلوم قاتل ہمیشہ کی طرح یہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے تھے۔ سینئر صحافی ہارون جو کہ کئی سال سے ایک نجی پشتو ٹی وی چینل سے وابستہ تھے۔ ہارون خان کے قتل کے بعدمختلف محرکات سامنے آئے۔ مقامی پولیس اور ان کے غزیزوں کے مطابق ان کا قتل ان کے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ جائیداد کا شاخسانہ قرار دیا گیا تاہم اس کے فوراً ایک کالعدم تنظیم کے ترجمان کی جانب سے بھی بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ اب تک اس قتل کے اصل محرکات سامنے نہیں آئے ہیں۔

پشاور پریس کلب کے ممبران اور صحافیوں کی نمائندہ تنظیم  خیبر یونین آف جرنلسٹس اس واقعہ پر نوحہ کناں تھی اور احتجاج کرتے ہوئے ہارون کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے میں مصروف تھی کہ اچانک دو قبائلی صحافی اور صحافت کے ایک طالب علم کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات نے صحافیوں کو چونکا دیا۔ غیرملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے قبائلی صحافی شاہنواز مہمند کو شب قدر میں ان کے میڈیا سینٹرسے اس وقت بغیر وجہ بتائے گن پوائنٹ پر اٹھایا گیا جب وہ اپنے معمول کے کام میں مصروف تھا جبکہ دوسرے قبائلی صحافی اسلام گل آفریدی کو اسلام آباد سے پشاور آتے ہوئے پشاور ٹول پلازہ سے ہی اٹھا لیا۔ صحافت کے طالب اور پارٹ صحافت کرنے والے سوات کے نوجوان صحافی جنید ابراہیم کو ان کے گھرسے رات کی تاریکی میں اٹھایا گیا۔ ان تینوں صحافیوں کو اٹھانے کی کہانیاں تو الگ الگ ہیں مگر ان میں ایک چیز ضرور قدر مشترک ہے ان میں کسی کو بھی ان کی کسی خبر کی وجہ سے اٹھایا گیا تھا نہ ہی ان صحافیوں نے ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کے حوالے کوئی رپورٹ شائع یا نشر کی تھی۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے بعض ریاستی عناصر کی کسی ناپسندیدہ شخصیت کے ساتھ ملاقات یا رابطے کیے تھے جس کے لیے انہیں اتنی بڑی سزا بھگتنا پڑی۔

گھنٹوں تک غیرقانونی حراست میں رہنا پڑا تاہم ان دونوں قبائلی صحافیوں کے اس طرح غیر قانونی طور پر اٹھائے جانے اور نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی اطلاع جب پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی صحافتی تنظیموں تک پھیلی تو پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے ذمہ دار فوری طور پر حرکت میں آگئے اور دونوں قبائلی صحافیوں کی رہائی کیلئے رابطوں کا آغاز کرنے کے علاوہ احتجاج کے آپشن پر بھی غور کرنا شروع  کردیا۔ اسی دن کور کمانڈر پشاور کے آفس میں بعض صحافیوں کو کسی تقریب کی کوریج کے حوالے سے دعوت دی گئی تھی جس میں دیگر صحافیوں کے علاوہ سینئر صحافی اور پشاور جرنلسٹس فورم کے روح رواں اور پشاور میں اب تک ٹی وی کے بیورو چیف عارف یوسفزئی بھی شامل تھےآ آنہوں نے موقع کو غنیمت جان کر عسکری حکام کے ساتھ دونوں قبائلی صحافیوں کے اس طرح اٹھانے اور لاپتہ ہونے کا معاملہ اٹھایا۔ عارف یوسفزئی نے عسکری حکام سے اپنی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے عسکری حکام پر یہ واضح کیا کہ اگر انہیں کسی صحافی کے کام یا طریقہ کار پر تحفظات ہیں تو وہ اسے دور کرنے کیلئے بھی تیار ہیں اور اگر ان کا کوئی ساتھی کسی سنگین جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عسکری حکام کو یہ تجویز پیش کی کہ پشاور پریس کلب کی سطح پر صحافیوں اور عسکری حکام یا دوسرے متعلقہ حکام پر مشتمل ایک رابطہ کار کمیٹی یا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔ عارف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگر اس تجویز پر عملدر آمد کیا جائے تو ریاستی اداروں اور صحافیوں کے درمیان کئی غلط فہمیاں بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے دور کی جاسکتی ہیں۔

تاہم پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس اس حوالے سے انتہائی بردباری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کسی انتہائی اقدام اٹھانے اور احتجاج کا راستہ اپنانے سے قبل اعلیٰ عسکری قیادت کو خط ارسال کرنے اور اس کے بعد داد رسی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا راستہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس اس حکمت عملی میں کامیاب بھی ہوگئے کیونکہ جس دن صحافیوں سے سر جوڑ کر اس مسئلے کاحل نکالنے کے کئی آپشن پر غور کیا گیا اس رات دونوں قبائلی صحافی محفوظ اپنے اپنے گھروں کو پہنچ چکے تھے جبکہ سوات کے نوجوا ں صحافی کو تین دن بعد رہائی مل سکی مگر خوشی کی بات تھی کہ وہ بھی محفوظ طریقے سے اپنے گھر آگئے تھے۔

 یونیورسٹی سوات کے شعبہ صحافت کے طالبعلم اور پارٹ ٹائم صحافت کرنے والے جنید ابراہیم کو ان کے گھر سے گن پوائنٹ پر اس بناء پر اٹھایا گیا کہ انہوں نے اپنی ایک ویب سائٹ پاکستان پوسٹ پر بعض قابل اعتراض پوسٹ شائع کیں۔ رہائی پانے کے باوجود جنید ابراہیم اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں کچھ بتانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

غیر ملکی ریڈیو مشال کے لیے کام کرنے والے قبائلی صحافی شوہنواز مہمند نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کیا۔’’میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعے سے بلکل لاعلم تھا نہ ہی مجھے اس کی توقع تھی کیونکہ میں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا تھا۔ میں معمول کے مطابق شبقدر کے میڈیا سینڑ میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک کچھ لوگ آئے اور میری آنکھوں پر پٹی اور پیھچے ہاتھ باندہ کر مجھے گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔ 34گھنٹے کی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا تاہم انہوں نے حراست کے دوران میرے ساتھ اچھا رویہ اخیتار کیے رکھا۔

ایک اور غیر ملکی ادارے کے لیے کام کرنے والے سینئر قبائلی صحافی اسلام گل آفریدی کی کہانی بھی کچھ اس مختلف نہیں تھی مگر خوشی کی بات یہ تھی وہ بھی تقریبا 30 گھنٹے سے زائد تک غیرقانون حراست میں رہنے کے بعد بخیر وعافیت اپنی فیملی کے ساتھ تھے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیف الاسلام سیفی نے خیبرپختونخوا اور فاٹا کے صحافیوں پر ہونے والے حملوں ان پر تشدد  اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراسان کرنے کے بڑ ھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کارکن صحافیوں کو کوئی وجہ بتائے یا قانونی راستہ اختیار کئے بغیر گن پوائنٹ پر اٹھا کر لے جانے کے واقعات میں ان سب کے لیے پیغام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قلم کی حرمت برقرار رکھنے اور آزادی صحافت کا پرچم بلند رکھنے کے لیے ملک بھر کے پریس کلب اور یونیز سمیت تمام سینئر صحافیوں کو مل بیٹھ کر صحافیوں کے تحفظ کے لیے مربوط قانون سازی اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -