وینٹیج کار ریلی کی ”بارہ گھنٹے” کوریج

وینٹیج کار ریلی کی ”بارہ گھنٹے” کوریج

یہ ایک عینی شاہد کی کہانی ہے ان پانچ قبائلی صحافیوں اور خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل پریس کلب کے آفس بوائے کی۔ مصنف کی شناخت ان کے تحفظ کے نکتہ نظر سے خفیہ رکھی جا رہی ہے۔

”چوبیس نومبر جعمے کو میں خیبر ایجنسی کے قصبے لنڈی کوتل وینٹیج یا پرانی گاڑیوں کی ایک ریلی کی کوریج کے لیے گیا۔ اس کی دعوت ہمیں فرنٹئیر کور خیبر رائفلز نے دی تھی۔ پروگرام کے مطابق ریلی نے باب خیبر سے گزر کر کراچی جانا تھا اور اس کا مقصد ”خیبر فور” عسکری کارروائی کے خاتمے پر امن کی بحالی ظاہر کرنا تھا۔

”دن ساڑھے گیارہ بجے میں چار دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک گاڑی میں لنڈی کوتل پریس کلب سے ریلی کے نکتہ آغاز چاروازگئی پہنچے تاکہ تصاویر اور ویڈیو بناسکیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہمارے وہاں پہلے سے موجود ایک ساتھی نے ہماری گاڑی کے نیچے کسی چیز کے چپکے ہونے کی نشاندہی کی۔ ہم نے گاڑی روکی اور باہر آگئے۔ جب ہم نے دیکھا تو خودساختہ دھماکہ خیز مواد چپکا ہوا تھا۔ ہم نے ریلی کی حفاظت کے لیے مامور سکیورٹی اہلکاروں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کر کہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل کے عملے نے بم کو ناکارہ بنا دیا۔

”ہمیں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک گاڑی میں لنڈیکوتل آرمی گیرژن تحقیقات کے لیے منتقل کر دیا۔ اس دوران میں نے اپنے سینر باس کو ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے واقعے کے آگاہ کیا۔ میرے سینر نے مجھے فون کیا اور جب میں انہیں تصفیلات بیان کر رہا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے مجھے روک دیا، ہمارا سامان چھین لیا اور ہمیں لاک اپ بھیج دیا۔

”تین بجے دوپہر انہوں نے ہمارے چہرے چھپا دیئے اور ہمیں ٹارچر سیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے ہم سے فردا فردا تفتیش کی۔ ہمیں کھلے آسمان کے نیچے فرش پر لیٹا دیا۔ میں نے تمام سوالات کے جواب دیئے۔

”تفتیش کے مکمل ہونے پر انہوں نے لنڈیکوتل پریس کلب کے آفس بوائے اور دو دیگر افراد کو بھی لایا گیا۔ پھر انہوں نے ان تینوں اور ہمارے ساتھی خلیل آفریدی کو جو گاڑی چلا رہا تھا پیٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے بجلی کے تاروں سے مارا۔ ہم ان کی چیخیں سن سکتے تھے۔ یہ میرے لیے سب سے مشکل وقت تھا۔ میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ میں چہرے پر کپڑا بندھے چھ گھنٹے تک بیٹھا رہا۔ میں نے قریب کے ایک گارڈ سے کہا کہ مجھے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے برائے مہربانی چہرے کے ماسک کو نرم کر دیں۔ اس نے انکار کیا اور مجھے حرکت سے منع کیا۔

”ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ چھ گھنٹے تک نہ تو ہمیں پانی دیا گیا اور نہ ہی بیت الخلاء جانے کی اجازت دی۔ میں یہ بدترین لمحے نہیں بھلا سکتا۔ جب میری باری آئی مجھے سے تلخ انداز میں سوال پوچھے گئے اور بدترین زبان استعمال کی گئی۔ میں نے سب سوالات کے جواب دیئے۔ خوش قسمتی سے انہوں نے مجھے نہیں مارا۔ تحقیقات کے بعد انہوں نے ہمارے چہروں سے نقاب ہٹا دیئے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ایک کرسی اور میز، کیمرے اور تشدد کے آلات پڑے تھے۔ ایک اہلکار نے بتایا: ”کوئی خوش نصیب شخص ہی یہاں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔” میرا ایک ساتھی اور آفس بوائے ان پر تشدد کیا گیا تھا زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔ تفتیش کاروں نے ہمیں کوئی کریم دی کہ ہمارے تشدد سے متاثرہ ساتھیوں کی کمر پر لگا سکیں۔ ان کی حالت سنگین تھی۔

”اس وقت ایک سکیورٹی افسر نے ہماری تفصیلات، تصاویر اور بائومیٹرکس کمپوٹر میں فیڈ کئے، ہمارے کاغذات تیار کئے، ان میں سے بعض پر دستخط کئے اور پھر ہمیں دوبارہ لاک اپ بھیج دیا۔ رات ساڑھے گیارہ بجہ چھ میں سے _ پانچ صحافیوں اور آفس بوائے _ چار کو جانے دیا گیا۔ خلیل آفریدی اور آفس بوائے کو انہوں نے روک لیا۔ پچیس نومبر کو رات سوا بارہ بجے انہوں نے ہمیں ہمارا سامان واپس دیا اور لنڈیکوتل گیرژن کے دروازے پر چھوڑ دیا۔ ہم گھر پیدل چل کر پہنچے۔”

پرو بونو بپلکو 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -