بلوچستان میں بلیک آوٹ: میڈیا خوف و خطر سے دوچار

بلوچستان میں بلیک آوٹ: میڈیا خوف و خطر سے دوچار

بلوچستان میں بلیک آوٹ: میڈیا خوف و خطر سے دوچار

بلوچستان میں میڈیا کے خلاف جرائم پر استثنا کی بگڑھتی صورتحال

فریڈم نیٹ ورک کی خصوصی رپورٹ

کوئٹہ: پاکستان کے شورش زدہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان طویل عرصے سے صحافت کے لیے مشکل جگہ ثابت ہوئی ہے۔ اس کی وجہ آذادی اظہار کے لیے محدود ماحول اور خراب علاقائی سکیورٹی صورتحال رہی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں درجنوں صحافی ہلاک یا زخمی کئے گئے ہیں۔ صحافیوں پر ہونے والے ان حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں میڈیا کے خلاف جرائم پر سزا سے استثنا کی صورتحال پاکستان بھر سے زیادہ مقدوش ہے۔

اکتوبر 2017 کے اواخر میں علاقائی میڈیا اور اس سے جڑے افراد کے لیے یہ صورتحال مزید بدترین مقام پر پہنچی گئی ہے۔ بلوچ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے تازہ دھمکیوں کی وجہ سے بلوچ اکثریتی علاقوں میں ٹرانسپورٹروں نے اخبارات و رسائل کے بنڈل اٹھانے اور انہیں تقسیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان شدت پسندوں نے میڈیا پر ”یکطرفہ” کوریج کا الزام لگاتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ان اخبارات کی تقسیم سے منسلک کسی بھی شخص کو ان کی غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چوبیس اکتوبر کی مہلت تک علاقائی اخبارات میں کسی قابل اطمینان کوریج کے نہ ہونے کی صورت میں بلوچستان لیبریشن فرنٹ اور یونائٹڈ بلوچ آرمی نے ٹرانسپورٹرز، ہاکرز اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بھی قابل گرفت قرار دے دیا تھا۔ گروپس نے مزید کہا کہ اگر اخبارات کی بندش سے اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں وہ کوئٹہ کے میڈیا ہاوسز اور صحافیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ یہ دھمکیاں ان گروپس کی جانب سے تحریری بیانات میں سامنے آئیں۔

عدلیہ، فوجی اور سویلین حکام کی جانب سے کالعدم گروپس کی کارروائیوں اور بیانات کی کوریج نہ کرنے کے حکم اور شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور حملوں میں پھنسے ہوئے صحافیوں کی زندگی کو خطرے لاحق ہوگئے۔ ”ہمیں کئی خطرات کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں ہر صحافی خطرے سے دوچار ہے”، یہ کہنا تھا ڈان نیوز کے بیورو چیف علی شاہ کا اپنے دفتر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کے مانٹر پر نظر ڈالتے ہوئے۔ صحافتی حقوق کے لیے سرگرم فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”بلوچستان میں صحافی اپنی جانوں پر کھیل کر خبریں فائل کرتے ہیں۔”

بلوچستان اب تک اس صورتحال میں کام کرنے کی کافی مہنگی قیمت ادا کرچکا ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے دس سالوں میں چالیس صحافی اپنے جانیں کھو چکے ہیں۔

حکومت اور مزاحمتکاروں کے درمیان سینڈوچ

کالعدم لیکن متحرک گروپس بی ایل ایف اور یو بی اے نے یہ دھمکیاں چار اور سات اکتوبر 2017 کو صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو ارسال کیں۔ تیس اکتوبر کو ٹی وی چینلز کو بھی یہ تحریری دھمکیاں دی گئیں۔ سینیر صحافی صدیق بلوچ کا، جو میڈیا کے خلاف تشدد میں اضافے کے عینی شاہد ہیں، خیال ہے کہ یہ دھمکیاں ”اصلی اور سنگین معلوم ہوتی ہیں۔”

خلیل احمد، بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر، نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ ”تازہ دھمکیاں گزشتہ کئی ہفتوں سے ان کالعدم گروپس کی حکومت کے حکم پر میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا نتیجہ ہیں۔ ”اب کالعدم تنظیم کی جانب سے کسی پرتشدد واقع کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیان پر بھی اخبارات اور الیکمرانک میڈیا میں نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔”

خلیل احمد کا مزید کہنا تھا کہ ”اگر ہم یہ رپورٹس شائع کرتے ہیں تو حکومت ہم پر دباؤ ڈالتی ہے اور اگر ہم نہیں کرتے تو شدت پسند دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ قدرتی طور پر صحافی انہیں اور ان کے اہل خانہ کو خطرے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ہم درجنوں ساتھی کھو چکے ہیں۔ مزید کتنے اس صورتحال میں بہتری تک قربانی دیں گے۔”

بلوچستان یونین آف جرنلسٹ اس صورتحال کا کوئی حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ خلیل احمد نے کوئٹہ پریس کلب میں چودہ اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں صحافی کے قتل کے حلاف احتجاج کے دوران اپنی پریشان اراکین کو بتایا کہ ”ہم مدیروں اور میڈیا مالکان کی نمائندہ تنظیموں سے رابطے کر رہے ہیں۔”

حکومت کی جانب سے مدد غائب

بی یو جے کے صدر نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے اس سلسلے میں ان کی برادری سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے بتایا کہ ”حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔”

مسلح گروہوں نے ان کے مطالبات یعنی ”زیادہ کوریج” کی میڈیا کی جانب سے منظوری کے لیے بائیس اکتوبر کی ڈیڈ لائن رکھی تھی۔ صحافتی نمائندوں کی جانب سے رابطے کے بعد اس مہلت میں دو روز کی توسیع کر دی گئی۔ مہلت کے خاتمے کے بعد کئی روز تک صوبے میں کسی اخبار کی تقسیم نہ ہوئی۔ اس کے نتیجے میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اپنا پہلا بیان جاری کیا جس میں ڈیڈ لائن کی مزمت کے ساتھ ساتھ حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

صحافیوں اور میڈیا کے کارکنوں کے لیے دھمکیوں میں کمی نہیں آئی ہے۔ چھبیس اکتوبر 2017 کو تربت میں اخبار تقسیم کرنے والی ایک ایجنسی کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔ صحافتی برادری نہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں قومی میڈیا وفاقی حکومت اور عسکری حکام کے دباؤ کی وجہ سے بلوچستان کی صورتحال پر کھل کر بات نہیں کر رہا ہے۔ سینیر صحافی اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر شہزادہ ذوالفقار کو شکایت ہے کہ بلوچستان کی قومی میڈیا میں کوریج پر سوالیہ نشان لگا ہے۔ یہ بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ کو کمزور کرتا ہے۔

بلوچستان میں میڈیا سے منسلک افراد ناصرف شدت پسند گروہوں بلکہ ریاستی اداروں اور عدلیہ کی جانب سے بھی دباؤ کا شکار ہیں جو عسکریت پسندوں کی صفر کوریج چاہتے ہیں۔ سال دو ہزار آٹھ سے صوبائی حکومت نے مدیروں اور صحافیوں کے خلاف شدت پسندوں کی کوریج پر پابندی سے متعلق ایک عدالتی حکم کی ”خلاف ورزی” کے الزام میں گیارہ مقدمات درج کیے ہیں۔ شہزادہ ذوالفقار نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ وعدوں کے باوجود ان مقدمات کو ختم نہیں کیا ہے۔ ”ہمارے لیے بہتر ہے کہ چھ ماہ کی قید کاٹ لیں بجائے اس کے کہ کسی کے ہاتھوں مارے جائیں۔”

نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی اس ماحول کا خود شکار ہوئے تھے۔ انہیں نیم فوجی ملیشیا کے اہلکاروں نے پچیس جون 2017 کی صبح ان کے گھر پر چھاپہ مار کر اٹھایا۔ اس کی وجہ ان کا سوشل میڈیا پر سکیورٹی سے متعلق کی جانے والی باتیں تھیں۔ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ”اس ماحول میں تو سانس لینا بھی مشکل ہے۔ آذاد میڈیا کی آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔” انہیں کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد رہائی ملی لیکن ان کے خلاف مقدمہ ابھی بھی قائم ہے۔

   بلوچستان صحافت میں عورتیں کم ہیں۔ تاہم عابدہ بلوچ اس اقلیت میں سے ایک ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے وہ انہیں جسمانی اور ڈیجٹل تحفظ کی تربیت سے کام لے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ”میرے مرد ساتھی ان خطرناک حالات کا شکار ہیں تو خود ہی دیکھ لیں کہ عورتوں کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا۔”

کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے چوبیس اکتوبر کو بلوچستان میں صحافتی آذادیوں کی بدترین صورتحال پر ایک بیان جاری کیا۔ صدر ضیا شاہد کی سربراہی میں مدیروں کا کہنا تھا کہ ”مختلف گروپ اور قوتیں” کا میڈیا کی جانب عدم برداشت کا رویہ ایک روز کا معمول بن گیا ہے۔ ”اخبارات دباؤ میں ہیں، ان کی تقسیم میں روکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور صحافی اور میڈیا کارکن خطرات سے دوچار ہیں۔”

ظاہری اور پوشیدہ سینسرشپ

   قیاس کیا جا رہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے صوبائی حکومت کو ”ایک درجن اخبارات کی فہرست” دی ہے جو ان کے خیال میں ”دہشت گردوں کی تشہیر” کے الزام میں بند کیے جانے چاہیے۔ اس افواہ کی سرکاری سطح پر اب تک تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی ہے۔

سینیر صحافی صدیق بلوچ کہتے ہیں کہ ”تمام اخبارات دباو میں ہیں۔” وہ روزنامہ آذادی اور انگریزی کا اخبار بلوچستان ایکسپریس چلاتے ہیں جو شک ہے کہ ”ناپسندیدہ اخبارات” کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سرکاری اشتہارات ساٹھ فیصد کم ہوگئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ اخبارات معاشی طور پر بھی دباو سے دوچار ہیں۔

کوئٹہ کے اکثر اخبارات کا زیادہ تر انحصار سرکاری اشتہارات پر ہوتا ہے کیونکہ نجی شعبے میں اس کی سقت نہیں ہے۔ صحافت میں پچاس سال سے سرگرم صدیق بلوچ کہتے ہیں کہ ”بلوچستان ایک سکیورٹی صوبہ ہے اور مجھے امید نہیں کہ حکومت ہمیں بچانے کے لیے آگے آئی گی۔”

بی ایل اے کے ترجمان گوہرام بلوچ نے ڈیلی سنگار ویب سائٹ پر شائع ایک بیان میں کوئٹہ کے صحافیوں کو بائیس اکتوبر تک مہلت دی کہ وہ ”سیدھے” ہو جائیں یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیر صحافیوں کی درخواست پر انہوں نے یہ مہلت دو روز کے لیے بڑھا دی تھی۔ ان کی دھمکی تھی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ پورے بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ کر دی گے۔  ان کا الزام تھا کہ قومی میڈیا سرکاری بیانیے کا حصہ تھا جو صرف ”سب اچھا ہے” رپورٹ کر رہا ہے۔

یو بی اے کے ترجمان مرید بلوچ نے بھی بلوچستان کے میڈیا پر ”ریاست کی پالیسیوں” کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ اردو میں جاری بیان میں انہوں نے صحافیوں کو اخبارات کے دفاتر اور پریس کلبوں سے دور رہنے کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا کو بلوچستان جانے کی اجازت نہیں جبکہ مقامی میڈیا سرکار کے کنٹرول میں ہے۔ 

دھونس دھمکی میں کوئی کمی نہیں

حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکٹر کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقائی یکجہتی اور نیشل ایکشن پلان کے تحت ”دہشت گردی کا خاتمہ” کرے۔ فریڈم نیٹ ورک سے اپنی کوئٹہ کی رہائش گاہ میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ”جب بات دہشت گردوں کی تشہیر کی آتی ہے تو پھر یہ ایک مسئلہ ہے۔ میڈیا میں شدت پسند چیمپین کے طور پر سامنے آتے ہیں۔” ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پرنٹ میڈیا کی حد تک اس کے کردار سے خوش نہیں۔

انہیں شدت پسند گروہوں کی حالیہ دھمکیوں کا علم ہے۔ ”ہم زبانی دھمکیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔اور اس کا جواب دیں گے۔ ہم بہت نذدیک سے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہر صحافی کچھ بھی رپورٹ کرسکتا ہے۔ ان پر کوئی اداراتی دباو نہیں ہے۔ وہ اداراتی طور پر آذاد ہیں۔”

بلوچستان کے صحافی کہتے ہیں کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر دباو کا سامنا کرنے کے لیے قومی اور بین القوامی مدد کی ضرورت ہے۔ جتنا زیادہ تنازعہ پھیلے گا اتنا میڈیا پر دباو میں اضافہ ہوگا۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے جمہوریت متاثر ہوسکتی ہے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -