مکمل خطرہ، صفر انصاف

مکمل خطرہ، صفر انصاف

پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں اور ذرائع معاش کو خطرہ

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم پر سزا نہ دیے جانے پر خصوصی رپورٹ – 2017

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے بڑھتا ہوا کاروبار ہے جس میں سزا کا کوئی خطرہ نہیں۔ نومبر 2016 سے اکتوبر 2017 کے درمیان صحافیوں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں میں کسی کو سزا نہ ہونا یہاں ایک عرصے سے پائے جانے والے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔دو نومبر دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا نہ دینے کے رجحان کے خاتمے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے پاکستانی میڈیا کی واچ ڈاگ تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی تازہ تحقیق کے مطابق کہ حکومت اور دیگر فریق صحافیوں کے لیے ماحول محفوظ بنانے میں کتنا سنجیدہ ہیں، لیکن اس مدت کے دوران صحافیوں کو انصاف نہیں مل سکا جس کی وجہ سے سزا سے استثنی مضبوط ہوا۔

وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ”کسی صحافی پر حملہ ریاست اور جمہوریت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اٹھائیس اکتوبر 2013 کو اس وقت کے وفاقی وزیر معلومات و نشریات سینٹر پرویز رشید نے ایک قومی سطح کے صحافیوں کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے ایکشن پلان کے ایک نکتے پر متحرک گروپ پاکستان کوالیشن آن میڈیا سیفٹی (پی کامز) کے ”اسلام آباد اعلامیے” کی منظوری دی تھی جس میں انہوں نے حملہ آوروں کو سزا دلوانے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہوسکا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ کسی کو سزا نہ ملنے کا مطلب ہے کہ پاکستان صحافیوں کو کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ’صحافیوں پر حملوں میں ملوث افراد کے سزا نہ ملنے سے حوصلے بڑھیں گے کہ وہ یہ حملے جاری رکھیں۔‘

یہ رپورٹ جو کہ اپنی قسم کی پہلی رپورٹ بتائی جاتی ہے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ حملہ آور سزا نہ ملنے سے کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے لیے گذشتہ برس کے دوران پانچ قتل اور ایک اقدام قتل کا واقعہ منتخب کیا گیا۔ ان میں پنجاب میں دو صحافیوں کے قتل، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ایک، ایک جبکہ پنجاب سے ہی ایک اقدام قتل کی کوشش کا واقعہ بھی شامل ہے۔ خیبر پختونخوا میں صوابی کے صحافی ہارون خان کا کیس اس میں شامل اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہ حالیہ دنوں میں ہوا ہے۔

  منتخب واقعات

محمد جان سلیمانی، رپورٹر – نشانہ بنا کر قتل – قلات، بلوچستان ۔ 13 جنوری 2017

تیمور عباس، ٹی وی کیمرہ مین ۔ نشانہ بنا کر قتل ۔ کراچی (سندھ) ۔ 15 فروری 2017

بلال سحر، رپورٹر ۔ منکیرا (بھکر) ۔ نشانہ بنا کر قتل ۔ تین مارچ 2017

عبدالرزاق، نامہ نگار ۔ نشانہ بنا کر قتل ۔ قصور (پنجاب) ۔17 مئی 2017

بخشیش الہی، بیورو چیف ۔ نشانہ بنا کر قتل ۔ ہری پور (کے پی) ۔ 11 جون 2017

رانا تنویر ۔ رپورٹر ۔ اقدام قتل ۔ لاہور (پنجاب) ۔ نو جون 2017

ایف آئی آر جو درج ہوئیں ۔ 100 فیصد

ایک واقعے میں دو ایف آئی آر درج ہوئیں

ایف آئی آر کا درج کیا جانا۔ انصاف کے حصول میں پہلی کوتاہی

اگرچہ یہ حملے اور ہلاکتیں ان کے صحافتی کام کی وجہ سے ہوئے لیکن ان چھ واقعات میں سے کسی ایک میں بھی میڈیا ہاؤس یا ریاست نے انصاف کی جانب پہلا قدم یعنی ایف آئی درج نہیں کروائی۔ تمام چھ واقعات میں مقدمات درج ہوئے ہیں۔ تمام چھ واقعات میں ہلاک یا بچ جانے والے صحافیوں کے رشتہ داروں نے پولیس کے پاس مقدمہ درج کروایا۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں پولیس تحقیقات ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔

ان چھ میں سے پانچ مقدمات تاحال حل نہیں ہوئے ہیں۔ ایک واقعے میں پنجاب پولیس نے اطلاعات کے مطابق ’ایک ملزم کو مقابلے میں ہلاک‘ کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہ اے آر وائی نیوز کے نامہ نگار عبدالرازق کا مقدمہ تھا جنہیں قصور میں مئی 17، 2017 کو راہزنوں نے ہلاک کیا تھا۔

انسٹیٹیوٹ آف ایڈواکسی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی آر اے ڈی اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم کہتے ہیں کہ ”پاکستان میں ایف آئی آر کسی جرم کی تفتیش میں پہلا قدم ہوتا ہے۔ ایف آئی آر میں کوئی غلطی تحقیقات کو غلط سمت میں لے جاسکتی ہے۔ چالان میں غلطی ملزمان کی رہائی یا کسی بےقصر کی سزا پر منتج ہوسکتی ہے۔”

سات میں سے چھ ایف آئی آرز میں ملزمان نامعلون ظاہر کئے گئے ہیں جو مجرمان کو سزا دلوانے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔ لاہور کے صحافی رانا تنویر نے جو جون 2017 میں ہونے والے جان لیوا حملے میں بچ گئے تھے دو ایف آئی آرز درج کروائی تھیں ۔ ایک ان کے مکان کے صدر دروازے پر جملے لکھنے اور دوسری ان پر حملے کی۔

آفتاب عالم بتاتے ہیں کہ ”جب ملزم کا ایف آئی آر میں ذکر نہیں ہوتا یا اسے نامعلوم لکھا جاتا ہے تو تحقیقات اکثر بےمعنی ہوجاتی ہیں۔ ایسے واقعات میں کبھی کبھار قانونی مراحل پورے ہوتے ہیں سزاتو دور کی بات ہے۔ اس کی وجہ ایف آئی آر کو بطور ”ثبوت” کے طور پر لیا جانا ہے بجائے اس کے کہ یہ محض معلومات ہیں۔ جرائم کی رپورٹنگ اور تحقیقات میں کمزوری کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔”

ایف آئی آر کے جائزے سے معمول ہوا کہ محض ایک صحافی نے اپنے مکان پر لکھی گئی عبارت کی وجہ اس کا پیشہ ورانہ کام بتائی باقی ماندہ میں متاثرہ شخص نے لکھا کہ ان کی کوئی ذاتی دشمنی یا تنازعہ نہیں ہے۔

ناقص یا سرے سے تحقیقات کا نہ ہونا: پولیس کا ”تنگ کرنے والا” رویہ

محمد جان سملانی کے قتل کے مقدمے میں پولیس تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے خاندان پر کسی کو نامزد کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔ سملانی کے ایک رشتہ دار عبدالخالق نے کہا کہ ”پولیس ان پر دباؤ کیوں ڈال رہی ہے وہ خود تفتیش کرکے یہ معلوم نہیں کرتی ہے۔” پولیس تحقیقات کے بے نتیجہ ہونے کی صورت میں ایک مقامی قبائلی سردار سملانی کے قاتلوں کو تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں۔ خالق نے تیرہ اکتوبر 2017 کو بتایا کہ ”سردار سخی جان سملانی تحقیقات کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ مجرم کو تلاش کر لیں گے۔”

رانا تنویر قاتلانہ حملے میں بچ گئے لیکن ان کا سملانی کے مقابلے میں مختلف ہے۔ وہ سملانی کی طرح قلات، بلوچستان جیسے کسی دور افتادہ ضلع میں نہیں رہتے ہیں۔ تنویر ملک چھوڑنے سے قبل لاہور میں رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دورازے پر فتوی تیس مئی 2017 کو لکھا گیا تھا اور پولیس نے اس دن رپورٹ درج کرنے سے انکار کیا تھا۔ دروازے پر فتوی کی ایف آئی آر سولہ جون کو بلآخر درج کی گئی۔ اگر یہ ایف آئی آر درست وقت پر درج کر لی جاتی اور تحقیقات کی جاتیں تو مجھ پر حملہ ہی شاید نہ ہوتا۔ پولیس نے مجھح ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا۔ میرا مقدمہ پولیس کے پاس ہے لیکن وہ مجرموں کو تلاش نہیں کرنا چاہتی ہے۔”

بے یار اور مدد گار: ہر تنظیم نے ساتھ چھوڑ دیا

تحقیق نے یہ دکھایا ہے کہ قتل ہونے والے صحافیوں کے ورثا کو ماسواے میت کے کچھ نہیں دیا جاتا ہے۔ اکثر تنظیمیں تو پارٹی میں شریک بھی نہیں ہوتیں اور اس لیے انصاف کی پکار بھی نہیں کرتی ہیں۔ چند کچھ تھوڑا سا مالی امداد کر دیتی ہیں۔ تفتیش کیے ہوئے چھ میں سے صرف ایک ایسا کیس تھا جس میں تنظیم نے 50000 روپے تک کی امداد کی ہو جبکہ باقی کیسوں میں تنظیم نے صرف امدادی بل جمع کروا کر اس صحافی سے اپنے تعلقات ختم کر دیے۔

مارے جانے والے صحافی بخشیش الہی کے کیس میں تنظیم کی مالی امداد اتنی کم تھی کہ اس کے تین یتیم بچوں کا تین ماہ تک کھانے پینے کا خرچا بھی پورا نہیں ہوتا تھا۔ تحقیق نے یہ بھی دکھایا ہے کہ غریب خاندان کہ پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ اپنے کیس کے دفعہ کے لیے ایک وکیل بھرتی کر سکیں۔ الہی کے کیس میں جن دو لوگوں پر اس کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا، انہوں نے وکلا بھرتی کر کے ضمانت حاصل کر لی۔ الہی کے بھائی ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ”ہم غریب ہیں اس لیے نے تو اچھا وکیل حاصل کر سکتے ہیں اور نا ہی ہمیں انصاف مل سکتا ہے۔”

الہی کے واقعے کو شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب اس کے ضلع ہری پور کے قومی اسمبلی کے رکن نے ان کا مقدمہ پارلیمان میں اٹھایا۔ الہی کے قتل کی تحقیق کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس تحقیقاتی ٹیم کے نتائج نے الہی کے خاندان کی کچھ خاص مدد نہیں کی کیونکہ قاتل پکڑے جانے کے باوجود ان پر نا تو کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے اور نا ہی کوئی سماعت ہوئی ہے۔

اپنی جان پر حملے کے بعد رانا تنویر نے اپنی کہانی ای – میل نے ذریعے بھیجی جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ادارے نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ ”میرے اوپر حملے کے بعد میں نے اپنے ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر کو میسج کیا لیکن صرف سب ایڈیٹر نے جواب دیا، ایڈیٹر نے جواب تک نہیں دیا۔ میری تنظیم نے میرے اوپر حملے کی خبر تک نشر نہیں کی۔ سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد حملے کے تیسرے دن میرے سب ایڈیٹر ہسپتال میں میری طبعیت دریافت کرنے آئے اور انہوں نے میری مالک سے بات کروائی۔ انہوں نے میرے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور پہلے 20 دنوں میں مجھے پوری تنخواہ مل گئی لیکن اگلے ماہ مجھے اپنی تنخواہ کا صرف ¼ حصہ ملا۔ میں نے انتظامیہ سے پوچھا لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ عیدالاضحی پر بھی تنخواہ نہ ملنے پر میں نے اپنے پراویڈنٹ فنڈ کے بارے میں پوچھا لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ جواب کی تلاش میں عید گزر گئی۔ اس کے بعد میں نے استعفی دے دیا اور اپنے پراویڈنٹ فنڈ کے بارے میں دوبارہ پوچھا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب مجھے موصول نہیں ہوا ہے۔”

بخشیش اپنے پیچھے پانچ بچے اور ایک بیوہ چھوڑ گئے ہیں اور ان سب کے لیے ذریعہ آمدنی بخشیش کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس کے بھائی کی آمدنی اتنی کم ہے کہ آنے والے مہینوں میں وہ بخشیش کے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکے گا۔ سملانی کے یتیم بچوں کا خیال ان کے رشتہ دار رکھ رہے ہیں۔ ”یہ بچے دوسروں کے سہارے جی رہے ہیں ان کی تعلیم اور کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ان کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔”

کہانی سنانے والوں کی خود کوئی کہانی نہیں: میڈیا کی کوئی پوچھ نہیں

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ مارے جانے والے صحافیوں کے کیس کو میڈیا نا رپورٹ کر رہی ہے اور نا ہی ان پر کوئی تفتیش ہو رہی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا میڈیا کے ان کیسوں سے متعلق کہنا ہے کہ، ”میڈیا صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں بتاتی ضرور ہے لیکن اس کے بعد میڈیا اس خبر کو بھلا دیتی ہے جس کی وجہ سے حکومت پر دباؤ نہیں پڑتا کہ وہ ان حملہ آوروں کا پتہ لگوانے تاکہ ان صحافیوں کے خاندان والوں کو انصاف فراہم کرسکے۔”

خٹک صاحب کا ماننا ہے کہ ”یہ ایک عالمی رجحان ہے اور پاکستان اس سے بالاتر نہیں ہے۔ آج تک کسی کیس کا مطالعہ موجود نہیں جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہو کہ میڈیا نے کسی صحافی کی موت کی تفتیش کی ہے۔ یہاں تک کہ جس ادارے کے ساتھ وہ صحافی منسلک ہوتا ہے وہ خود اس کے قتل کی تفتیش کروانے کے بارے میں بھول جاتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں اس صحافی کے خاندان والے بےیار و مدد گار رہ جاتے ہیں کیونکہ قاتل جرم کرنے کے باوجود اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ کیس کے نتیجے کو اثر انداز کر سکتا ہے۔”

پریس کلب اور یونین جیسے ادارے، چاہے جتنا بھی کام صحافیوں کو دھمکیاں ملنے یا ان پر حملے ہونے  سے منسلک کرتی ہوں لیکن وہ کسی قتل سے متعلق کوئی تفتیش نہیں کرتی اور نا ہی اس کیس کو عدالت میں لے جاتی ہیں۔

حال ہی میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے ایک اچھی مثال قائم کی جب انہوں نے چند سینیر صحافیوں کو متی اللہ جان پر 24 ستمبر 2017 کو ہونے والے حملے کی تفتیش پر لگا دیا۔ اس تفتیش کے نتیجے میں ہمیں سراغ مل سکتے ہیں کہ اغوا کرنے والے کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا؟ حکومت صرف اس وقت جواب دیتی ہے جب میڈیا اپنے کارکنان پر ہونے والے تشدد کی خبر رپورٹکرتا ہے۔

پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں: یو این کو رپورٹ کرنا:

اقوام متحدہ کے تمام رکن سے گزارش ہوتی ہے کہ ہر سال ان کے ملک میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد کی رپورٹ تیار کریں جو یونیسکو میں پیش کی جائے گی۔ پچھلے تین سالوں میں جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے پاکستان نے ایک رپورٹ بھی جمع نہیں کروائی۔ ان سب کے باوجود پاکستان کا ماننا ہے کہ وہ اپنے صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

پیش رفت:

اس رپورٹ میں مندرجہ ذیل بہتریاں تجویز کی گئی ہیں تاکہ صحافیوں کے قتل کی صورت میں ان کے لواحقین کو انصاف مل سکے:

1۔ وفاقی اور صوبائی درجے پر کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون تشکیل دیے جائیں۔

2۔ وفاقی اور صوبائی درجے پر ایک پراسیکیوٹر تشکیل دینا چاہیے جو نا صرف ایف آئی آر درج کرنے میں مدد فراہم کرے بلکہ مجروں کے خلاف تفتیش اور پراسیکیوشن بھی کر سکے۔

 3۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ 2000 سے لے کر آج تک جو 100 سے زائد صحافی قتل ہوئے ہیں ان کے قتل کی تفتیش کی جائے اور ان تمام کیسوں کی رپورٹیں منظر عام پر لائی جائیں۔

4۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اسٹیک ہولڈرز اور کام کرنے والے صحافیوں سے مشاورت کے بعد تمام قتل، زخمی اور اغوا  کیے گے صحافیوں کے فہرست تشکیل دیں تاکہ ان کو اور ان کے گھر والوں کو انصاف پہنچایا جا سکے۔

5۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ یونیسکو کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے صحافیوں کے خلاف تشدد کا روک تھام کیا جائے۔

6۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ایک سپیشل فنڈ کا آغاز کریں جس کا مقصد قتل ہو جانے والے یا شدید زخمی ہو جانے والے صحافیوں کے لواحقین کی مالی مدد ہو۔

7۔ تمام الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا جسے حکومت کا لائسنس حاصل ہو ان پر یہ بات لازم کر دی جائے کہ اپنے اسٹاف ممبر کے لیے ایک سیفٹی پالیسی تشکیل دیں۔ اس سیفٹی پالیسی میں عملے کے ارکان  بھی شامل ہوں اور ایک خصوصی فنڈ تشکیل دیا جائے جس کی بدولت وہ سٹاف اراکین جو قتل ہو چکے ہیں یا شدید طور پر زخمی ہوں ان کی مدد کی جا سکے۔

 

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -