چودہ صحافیوں کے خلاف حملوں کے واقعات

چودہ صحافیوں کے خلاف حملوں کے واقعات

پاکستان میں میڈیا پر حملے: فریڈم نیٹ ورک کی نظر اور تجزیہ

سمتبر 2017 رپورٹ

سمتبر 2017 کے دوران پاکستان بھر میں بشمول وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور گلگت بلتستان میں چودہ صحافی اور میڈیا سے جڑے افراد حملوں، گرفتاریوں، زبانی و قانونی مقدمات سے گزرے۔ پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے، جو اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک چلاتی ہے، نے ان واقعات کو ریکارڈ کیا۔ یہ دوسرا ماہ ہے کہ جب اگست کی طرز پر بڑی تعداد میں حملے، گرفتاریاں اور قانونی مقدمات نوٹس میں آئے ہیں۔

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے تحت فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کی پرخطر حالات میں ملک کے پانچ بڑے پریس کلب – کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ – کے ساتھ مل کر ان کی چار طریقوں سے مدد کرتی ہے۔

ہراسیت/حملے: کم از کم نو صحافیوں پر پیشہ ورانہ فرائض کی سرانجام دہی کے دوران حملے ہوئے۔ چوبیس ستمبر کو دو موٹر سائیکل سوار افراد نے سینیر اور وقت ٹی وی کے اینکر پرسن و صحافی مطیع اللہ جان کی گاڑی کی وینڈ سکرین پر بارہ کہو کے علاقے میں اینٹ دے ماری۔ مطیع اللہ اخبار میں ہفت روزہ کالم بھی تحریر کرتے ہیں۔ وہ اور ان کے بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ ”میری کسی سے ذاتی یا خاندانی دشمنی نہیں ہے اور یہ حملہ میرے لیے ایک پیغام تھا۔” صحافتی برادری مطیع اللہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے سینیر صحافی حامد میر کے سربراہی میں ٹیم تشکیل دی۔

سادہ کپڑوں میں سکیورٹی اہلکاروں نے چھبیس ستمبر کو تین ٹی وی صحافیوں – دنیا نیوز کے عامر سعید عباسی، 92 نیوز کے شاہ خالد ہمدانی اور نیو ٹی وی کے سعد بن الطاف – پر اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر حملہ کیا گیا۔ حملہ اتنا طاقتور تھا کہ عباسی بے ہوش ہوگئے۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس، نیشنل پریس کلب اور فریڈم نیٹ ورک نے یہ معملہ مسلم لیگ نون کی قیادت کے ساتھ اٹھایا۔ اس واقع کی اب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی قیادت میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ حملے کے چند گھنٹوں کے بعد نواز شریف نے حملے پر افسوس کیا اور آذادی میڈیا کی حمایت کی۔

پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کے ممتاز آْباد پولیس تھانے کے کانسٹیبلان نے سماء ٹی وی کے وجیہ احسن اور کیمرہ مین مرزا اسلم بیگ پر اکیس ستمبر کو ایس ایچ او عمران عارف کے مبینہ حکم پر تشدد کیا۔ وجیہ نے لاہور پریس کلب سیفٹی ہب کے مینجر کو بتایا کہ وہ تھانے کے بہر اپنی کسی رپورٹ پر کام کر رہے تھے کہ جب متعلقہ ایس ایچ او نے اپنے ماتحت عملے کو انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ وجیہ کا کہنا تھا کہ ”جب ہم نے گرفتاری کی مزاحمت کی تو انہوں نے بری طرح ہم پر تشدد کیا۔” ملتان یونین آف جرنلسٹس (ایم یو جے) نے اس پولیس حملہ کے خلاف احتجاج کیا اور سینیر پولیس افسران کے حکم پر ایس ایچ او، کانسٹیبلان لیاقت علی، اسلم اور غلام عباس کو معطل کر دیا اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کروا دیں۔

نئی قائم کی گئی جماعت ”لبیک یا رسول اللہ” کے لوگوں نے نیو ٹی وی کے عملے پر حملہ کیا اور انہیں 12 ستمبر کو زدوکوب کیا۔ نیو ٹی وی ڈی ایس این جی تحریک انصاف کی ریلی کی کوریج سے واپس لوٹ رہی تھی کہ اس جماعت کے چند افراد نے ڈی ایس این جی کے عملے کو مارنا شروع کر دیا۔ ان میں رپوٹر عثمان، کیمرہ مین علی رضا اور ڈی ایس این جی انجینر امیر حمزہ شامل تھے۔ نیو کے بیورو چیف ایاز شجاع کے مطابق مذہبی گروپ ”ان کی سرگرمیوں کی کوریج نہ کرنے پر غصے میں تھا۔”

گرفتاری:  سترہ ستمبر کو فوجی اہلکاروں نے ڈرون آپریٹر اشرف ننکانوی اور جیو نیوز کی ڈی ایس این جی ڈرائیور محسن کو لاہور میں ایلیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر حراست میں لے لیا۔ یہ دونوں این اے 120 کے نتائج کے انتظار کے دوران ڈرون کا استعمال کر رہے تھے۔ عملے کے افراد کو سینر سٹاف ممبر زاہد شیروانی کی الیکشن کمیشن کو اس یقین دہانی کے بعد کہ چینل یہ فوٹیج نہیں استعمال کرے گا رہا کر دیا۔

قانونی مقدمہ: گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انتیس ستمبر کو ڈیلی ٹائمز کے رپورٹر شبیر ساہم کو سات اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس صحافی نے نومبر 2016 کو ایک سٹوری میں گلگت بلتستان میں حکمراں مسلم لیگ نون کے قانون سازوں کی انسانی سمگلنگ کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ مسلم لیگ کی مقامی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ گلگت بلتستان کی حکومت نے انہیں اسلام آباد سے گزشتہ نومبر گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نیشنل پریس کلب اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس کی مزاحمت کی تھی۔

سہون پولیس سٹیشن نے ایکپریس میڈیا گروپ کے لیے کاگم کرنے والے نر پنہور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ یہ مقدمہ ان کی جانب سے سہون شریف کی درگاہ میں بدانتظامی سے متعلق کئی خبروں کی اشاعت کے بعد درج کیا گیا۔ انہوں نے درگاہ سے چندہ چرانے کی ایک ویڈیو بھی بنائی تھی۔

زبانی دھمکیاں: قبائلی صحافی اور جمرود پریس کلب کے سابق صدر ساجد علی کوکی خیل نے حکومت نواز قبائلی سرداروں سے زبانی دھمکیاں ملنے کی اطلاع دی۔ یہ واقع ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر فرنٹیر کرائمز ریگولیشن اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بارے میں لب کشائی کی۔ انہوں نے پشاور پریس کلب ہب کو بتایا کہ انہوں نے ”چند قبائلی قوانین کے خلاف اور سیاسی اصلاحات کے حق میں بات کی۔ اس سے چند مقامی عمائدین ناراض ہوئے اور انہوں نے مقامی حکام سے کلب کو بند کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا۔”

میڈیا ہاوسز کو دھمکیاں، حملے، ہراسیت 

ستمبر 2017 کو پاکستان سیفٹی ہب نیٹ ورک نے کسی میڈیا ہاوس پر حملہ ریکارڈ نہیں کیا۔ اس ماہ کسی باضابطہ پابندی یا ـبری سینسرشپ کو بھی رپورٹ نہیں کیا گیا۔ سرکاری یا نجی سطح پر کسی میڈیا ہاوس کو قانونی نوٹس ملنے کی بھی اطلاع نہیں ملی ہے۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی اور ہراساں کرنے والے

فوجی اہلکاروں، پنجاب پولیس، گلگت بلتستان، مذہبی جماعت ”لبیک یا رسول اللہ”، قبائلی علاقوں میں حکومت نواز عمائدین اور نامعلوم موٹر سائیکل سوار ان عناصر میں شامل تھے جن کے نام متاثرہ افراد نے سیفٹی ہب نیٹ ورک کو بتائے۔

مختلف میڈیا کے خلاف دھمکی، حملے اور ہراسیت

نو ٹی وی صحافی اور میڈیا اسٹنٹ کو حملوں، گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک قبائلی صحافی پر زبانی حملہ کیا گیا۔ پرنٹ میڈیا کے دو صحافیوں کو ستمبر میں قانونی نوٹس موصول ہوئے۔ میڈیا کی آذادی پر حملوں کے سلسلے میں الیکٹرانک میڈیا کے صحافی زیادہ ہدف پر ہیں۔

اگست کی کامیاب کہانیاں

حکومت بلوچستان نے ستمبر 28، 2017 کو صحافی علی رضا رند کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول سے نکال دیا۔ ان کا نام اس فہرست میں جنوری 2016 کو شامل کیا گیا تھا۔  کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور فریڈیم نیٹ ورک کی جانب سے فعال کوششوں کے نتیجے میں یہ اچھی خبر مل سکی ہے۔

۔ حیدر آباد سے لاپتہ ہونے والے صحافی غلام رسول برفت بارہ ستمبر کو اپنے گھر پہنچ گئے۔ وہ پانچ اگست کو سندھ حونیورسٹی ہاوسنگ سوسائٹی میں اپنے مکان سے لاپتہ ہوگیے تھے۔ کراچی پریس کلب سیفٹی ہب اور فریڈم نیٹ ورک نے اگست میں الرٹ جاری کیا تھا اور ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے۔

پریس کلب ہبس نیٹ ورک کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کا فروغ

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب میڈیا سے جڑے سٹیک ہولڈرز کو صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے تحفظ پر کافی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ ستمبر 2017 کی چند سرگرمیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب

۔ بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ ضلع کے صحافیوں کے ایک وفد نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رجسٹرار روزی خان بڑیچ سے کوئٹہ میں ملاقات کی جس میں قلعہ سیف اللہ پریس کلب کی عمارت پر بات ہوئی۔ فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ محکمہ قانون اور صحافیوں کے درمیان کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ فریڈم نیٹ ورک نے ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔

نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب

  • نیشنل پریس کلب، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور فریڈم نیٹ ورک نے سینیر صحافی مطیع اللہ جان پر حملے کے خلاف احتجاج کیا اور اس میں ملوث افراد کو جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے بعد حقائق جاننے کے لیے ایک کمیٹی حامد میر کی سربراہی میں قائم کی گئی۔
  • ۔ میڈیا کے باہمی تعاون کی وجہ سے وفاقی حکومت سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عدالت میں پیشی کے وقت صحافیوں پر 26 ستمبر کو حملے کی تحقیقات کو تیار ہوگئیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ چوہدری طلال تین صحافیوں پر حملے کی تحقیقات کریں گے۔ یہ اقدام نیشنل پریس کلب کی جانب سے احتجاج شروع کرنے کے ففیصلے کے بعد اٹھایا گیا۔
یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -