“وہ بیس گھنٹے۔۔۔”

“وہ بیس گھنٹے۔۔۔”

یسریٰ اصمعی
’’آمنہ مسعود جنجوعہ جری و بہادر خاتون اور وفا شعار بیوی۔۔۔!! ۸ جولائی سے قبل آمنہ مسعود جنجوعہ سے میں بھی پاکستان کی سینکڑوں عورتوں کی طرح صرف بے حدمتاثر تھی، انکی دل سے عزت کرتی تھی ، ان کے لئے دعاگو بھی رہتی تھی، لیکن درحقیقت اس درد سے نہ آشنا تھی جو ایک بیوی اس وقت سہتی ہے جب اس کے بے حد محبت کرنے والے، ہر پل جان نچھاور کرنے والے ،نرم خو اور مہربان شوہر کو لمحوں میں اس کی آنکھوں کے سامنے چند’’ نامعلوم‘‘ لوگ ،’’ نامعلوم ‘‘وجوہات کی بنا پر کسی ’’نامعلوم‘‘ مقام پر ’’نا معلوم ‘‘مدت تک کے لئے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔
’’ آپ بہت برے ڈرائیور ہیں۔، گاڑی ایسے چلاتے ہیں جیسے کوئی ٹرک چلا رہے ہوں، مجھے دھچکے لگ رہے ہیں عبداللہ،کیا آپ مہربانی کر کے ذرا احتیاط سے ڈرائیو کر سکتے ہیں؟ ‘‘ 7جولائی کی رات ہلکی بونداباندی میں جب ہم ایک فیملی ڈنر سے واپس آرہے تھے تو یہ میری اور میرے شوہر کے بیچ ہونے والی معمول کی نرم گرم نوک جھوک تھی جو اکثر کہیں آتے جاتے شروع ہوجاتی تھی، مجھے شادی کے ان چھ مہینوں میں سب سے زیادہ شکایت ان کی ڈرائیونگ سے تھی اور یہ ہمیشہ کی طرح میری جھنجھلاہٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکرا مسکر کرا مجھے مزید چڑا رہے تھے، بالآخر یہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئے اور میں ان سے ٹھیک ٹھاک ناراض ہو کر کھڑکی سے باہر گرتی بوندوں کو دیکھ کر اپنا غصہ کم کرنے لگی، میری ناراضگی دور کرنے کے لئے عبداللہ نے ہمیشہ کی طرح ایک انوکھا سرپرائز دیا اور گاڑی ’’امی ‘‘ کے گیٹ کے سامنے روک دی، میکے میں ایک رات رکنے کی اجازت کسی بھی بیوی کے لئے شاید سب سے پسندیدہ تحفہ ہوتی ہے شوہر کی جانب سے، ہم نے مسکرا کر ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہا اور انہوں نے گاڑی آگئے بڑھا دی۔ اس وقت ہم نہیں جانتے تھے کہ ان انتہائی خوشگوار لمحات کے صرف چند گھنٹوں بعد زندگی کی ایک بے حد ناقابل یقین اور تکلیف دہ ترین صورتحال سے ہم دونوں ہی گزرنے والے ہیں۔

رات ساڑھے تین چار بجے کے قریب کا وقت تھا، سب سو رہے تھے، جب ’’وہ‘‘ آئے، ’’وہ‘‘ بہت سارے تھے، گھر میں سب ان کی تعداد اور ان کی تیاری دیکھ کر دہشت زدہ سے ہو گئے ، یوں لگتا تھا ’’وہ‘‘ کسی ’’ صحافی ‘‘ کو نہیں بلکہ کسی نامی گرامی’’ ٹارگٹ کلر‘‘ یا لیاری گینگ وار کے معروف ’’سرغنہ‘‘ کو پکڑنے آئے ہیں۔ گھر کے باقی افراد اس لمحے میں کیا محسوس کر رہے تھے، میں نہیں جانتی لیکن میں جب اس منظر کو تصور میں لانے کی کوشش کرتی ہوں تو کسی ایکشن فلم کے سیٹ کا خیال آتا ہے، آدھی رات کا وقت ، جدید بندوقوں سے لیس مسلح افراد، کونے میں کھڑے ہوئے حیران پریشان گھر کے لوگ اور ایک ادھ کچی نیند سے اٹھایا گیا اٹھائیس انتیس سال کانوجوان جس کو خود یہ نہیں پتا کہ اس سارے ڈرامے میں اس کا کردار آخر ہے کیا ۔گھر والے اس سارے منظر میں اس درجہ دہشت زدہ اور حواس باختہ ہوئے کہ ’’ان‘‘ سے ’’ کیوں؟ اور کس جرم میں ؟؟‘‘ تک کا سوال نہیں کر سکے۔ چند منٹوں پر مشتمل اس کارروائی میں ’’وہ‘‘ تو اپنے مطلوبہ فرد کو لے کر چلے گئے لیکن ایک بیٹے ، ایک بھائی اور ایک شوہر کو بھی ساتھ لے گئے اور پیچھے چھوڑ گئے تفکرات میں گھیرا ہوا ایک تڑپتا ہوا خاندان۔

میں امی ابو سے باتیں کرتے کرتے ان کے کمرے میں ہی سو گئی تھی جب اچانک رات کو چار بجے ابو کے موبائل کی بیل سے میری آنکھ کھلی، ابو کسی سے بات کر رہے تھے اور باتوں کے بیچ میں عبداللہ کا نام آرہا تھا، شاید عبداللہ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے(، میرے شوہرسانس کے مریض ہیں اور برسات کے موسم میں اکثر ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے) شدید نیند میں میں یہ ہی سمجھی،بوکھلا کر اٹھی، ’’ کیا ہوا عبداللہ کو؟، دمے کا اٹیک ہوگیا کیا؟‘‘ میں نے پریشان ہوکر ابو سے پوچھا،’’ تمہارے سسر نے منع کیا تھا کہ فی الحال تم کو نہ بتایا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں تم کو بتانا ضروری ہے،اب سے کچھ دیر پہلے چند سادہ لباس اور چند وردی پوش اہلکارتمہارے گھر پہ ریڈ کر کے عبداللہ کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔‘‘ یہ الفاظ تھے یا بم جو میری سماعتوں پہ پھٹا تھا، چند لمحوں کے لئے میری کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ابو نے کیا کہا ہے ، اور پھر جیسے ہی سمجھ آیا تو آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو اُبل پڑا، دل خوف اور اندیشوں سے کانپ اٹھا،لاپتہ ہونے والے افراد کی اب تک پڑھی ہوئی تمام کہانیاں منٹوں میں دماغ میں گونجنے لگیں،امی نے پانی کا گلاس تھمایا ، اور تب ہی مجھے لگا کہ اس وقت رونے کے بجائے زیادہ اہم یہ ہے کہ عبداللہ کے صحافی برادری کے دوستوں کو اطلاع دی جائے، پہلی کال جو میں نے اپنے موبائل سے کی وہ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے وائس پریزیڈینٹ حامد الرحمان اعوان صاحب کو تھی، جنھوں نے کمال مہربانی سے ناصرف فون ریسیو کیا بلکہ پوری توجہ اور دردمندی سے ساری بات سنی، تسلی دی اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ رات کے چار بجے کسی کو نیند سے جگانا یقیناًایک انتہائی غیر اخلاقی کام ہے لیکن اس وقت دماغ اس درجہ ماؤف تھا کہ میں اخلاقیات کے موضوع پر سوچ کر صبح ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی تھی، بس ایک فکر تھی عبداللہ کہاں ہوں گے؟ ’’وہ‘‘ انہیں کیوں لے گئے؟ ’’وہ‘‘ انہیں کب چھوڑیں گے؟، اس کے بعد میں نے کس کس کو اور کتنی کالز کیں مجھے اب یاد بھی نہیں۔جلدی جلدی نماز فجر ادا کرکے میں اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھر پہنچی تو وہاں حسب توقع منظر تھا، میرے ساس سسر جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں انتہائی پریشانی اور ذہنی دباؤ کے عالم میں موجود تھے، میرا دیور اور اس کی بیوی جو عید کرنے پاکستان آئے ہوئے تھے الگ ایک شاک اور صدمے کی کیفیت میں کھڑے تھے، ہر فرد عبداللہ کے لئے تو پریشان تھا ہی لیکن آدھی رات کو نیند سے جگا کر جو ہولناک تھیٹر ان سب دکھایا گیا تھا اس کاخوف انکی آنکھوں اور چہروں سے عیاں تھا،ان کا اسلحہ ، ان کی تعداد، ان کی آمد کا وقت سب ہی کچھ ہمارے پورے گھرانے کے لئے ہلا کر رکھ دینے والا تھا۔8جولائی بروز اتوارکی صبح ہماری فیملی نے امید اور ناامیدی کے بیچ سورج طلوع ہوتے دیکھا،کوئی منظر واضح نہیں تھا، ہم سب بس ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے، ایسے آنے کا مقصد کیا تھا؟ عبداللہ نے ایسا کیا جرم کیا تھا جو یوں ان کو لے گئے؟ عبداللہ کو لے کر گئے کہاں ہوں گے؟ کیا صبح تک چھوڑ دیں گے؟ ان سوالوں کے جوابات ہم میں سے کسی کے پاس نہیں تھے۔ ہماری فیملی نے متعلقہ تھانے کو رپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا، تھانے کے عملے نے ہماری توقعات کے عین مطابق انتہائی حوصلہ شکن اور غیر لچکدار رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سلوگن ’’ پولیس کا ہے فرض،مدد آپکی‘‘ کی کامیابی سے نفی کر دی۔ اس وقت مجھے صحیح معنوں میں اندازہ ہوا کہ جب میں خود ایک صحافی، ایک صحافی کی بیٹی اور ایک صحافی کی بیوی ہونے کے باوجود اس قدر بے بس ہوں کہ اپنے شوہر کی گمشدگی کی ایک ایف آئی آر تک کٹوانے کیلئے کچھ نہیں کر سکتی تو اس ملک میں ایک عام عورت ایسی صورتحال میں کس قدربے دست وپا ہوتی ہو گی۔ عبداللہ کے دوستوں اور کولیگز کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل کوششوں میں لگے ہیں انشااللہ جیسے جیسے دن نکلے گا صورتحال واضح ہو گی، متعلقہ حکام سے رابطے ہوں گے اور کم سے کم یہ پتا چل جائے گا کہ ایک بے ضرر صحافی نے ایسا کیا جرم کر دیا جس کے لئے سیکورٹی اداروں کو اتناوقت اور سرمایا لگا کر آدھی رات کو ریڈ کرنا پڑا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھر پر رشتہ داروں ، محلے پڑوس، دوست احباب کا رش بڑھتا گیا، فون کالز ریسیو کر کر کے اور سب کو ایک ہی جواب دے دے کر کہ ’’ نہیں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی‘‘ گھر کے ہر فرد کا منہ سوکھ گیا، فون کی ہر گھنٹی پر امید بندھتی اور ڈوبتی رہی کہ اب شاید کوئی خبر پتا چلے کہ عبداللہ کو کہاں رکھا ہے؟ کونسی سیکورٹی ایجنسی کے پاس ہیں؟ شکایت کیا ہے ان سے؟ یہ وہ بنیادی سوالات تھے جن کا جواب جاننا ہر اس فیملی کا حق ہوتا ہے جس کے بیٹے کو یوں اٹھا کر اپنے ساتھ لے جایا گیا ہو۔ دوپہر دو بجے جنگ کے کرائم رپورٹر ’’ ثاقب صغیر‘‘ کے ذریعے اطلاع ملی کہ پولیس نے گرفتاری سے اظہار لاعلمی ظاہر کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی ان کی تحویل میں دیا جائے گا وہ ان کی حراست منظر عام پر لے آئیں گے۔ اتنے گھنٹوں میں یہ واحد ٹھوس اطلاع تھی جو ہم تک پہنچی اور وہ بھی شاید صرف اس لئے کہ کراچی کی پوری صحافی برادری کے رائٹ اور لیفٹ کے تمام ونگزانگریزی اخبار کے اس رپورٹر کی تلاش اور واپسی میں لگے ہوئے تھے ورنہ مجھے یقین ہے کہ یہ اگرکسی عام شہری کا معاملہ ہوتا تو شاید پولیس یہ کہنے تک کی زحمت گوارا نہ کرتی اور اس کی فیملی کو نہ جانے کب تک ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کی سولی پر لٹکتے رہنا پڑتا۔اس کے بعد پھر ایک لمبا انتظار تھا،پھر ایک غیر یقینی کی کیفیت تھی، سب ایک دوسرے کو تسلی دے رہے تھے لیکن بولے گئے ان الفاظ پر خود اپنے دل مطمئن نہیں تھے، رابطے، فون کالز ، ملاقاتیں اور اگر رات تک عبداللہ نہیں آتے تو آگے کا لائحہ عمل کیا ہو گا ، دماغ ایک چومکھی جنگ میں مصروف تھا۔دوپہر کے بعد عبداللہ کے صحافی دوستوں اور گولیگز نے ٹی وی چینلز، اخبارات ، نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پرباضابطہ طور پر ان کے لاپتہ کیے جانے کی خبر نشر کرد ی۔

وقت گزر رہا تھا اور مدہم ہوتی سورج کی ہر کرن کے ساتھ میرا دل بیٹھ رہا تھا، ’’ کہیں عبد اللہ پر تشدد نہ کر رہے ہوں، پتا نہیں کھانا دیا ہو گا یا نہیں؟ کیا اب یہ کبھی نہیں آئیں گے؟کیا اب یہ انتظار ساری زندگی کا ہو گا؟ ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟ کہیں خاموشی سے مار کے تو نہیں پھینک دیں گے؟‘‘ یہ آخری اندیشہ تھا جس سے آگے میں کچھ سوچنے کی ہمت نہیں کرسکتی تھی، بس اللہ کے آگے گڑگڑا سکتی تھی کہ میرے سارے وسوسے اپنی موت آپ مر جائیں ، گیٹ کی بیل بجے اور اپنے مخصوص اسٹائل میں دروازے سے سب کو چھیڑتے ہوئے میرے شوہر داخل ہوں یا میری آنکھ کھل جائے اور یہ سب صرف ایک بھیانک خواب ہو۔رات کے گیارہ بجے میں نے ایک بار پھر حامد الرحمان صاحب کو فون کیا اور بڑی ہمت کر کے پوچھا ’’ حامد بھائی کیا میں یہ سمجھوں کہ آج کے لئے بس اس سے زیادہ کوئی کوشش نہیں ہو سکتی؟‘‘ انہوں نے کہا ہاں حقیقت یہ ہی ہے کہ آج بس اتنا ہی ہو سکتا تھا ،البتہ کل صبح ہم عدالت میں پٹیشن دائر کر یں گے، انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ چوبیس گھنٹوں میں واپس بھی آجاتے ہیں اور جو نہیں آتے ان کے آنے کا وقت کوئی نہیں بتا سکتا، آپ لوگ دعا کریں کہ عبداللہ چوبیس گھنٹوں کے اندر آجائے۔‘‘ بوجھل دل کے ساتھ فون بند کرتے ہوئے میں اپنے کمرے میں واپس آگئی جہاں بیڈ پر عبداللہ کی وہ رسٹ واچ پڑی تھی جو وہ ہر وقت ہاتھ میں پہن کر رکھتے ہیں،بس سوتے ہوئے اتار کے تکیہ کے نیچے رکھتے ہیں،یہ میں نے شادی پہ انہیں حیران کرنے کے لئے گفٹ کی تھی اس سوچ کے ساتھ کہ ہمیشہ بیچارے دلہا ہی کیوں گفٹ دیں ،انکی بھی تو شادی ہے ،دلہن کو بھی کوئی گفٹ دینا چاہئے۔عبداللہ کی امی اور بہنیں صبح سے رو رو کر ہلکان ہو چکی تھیں ، اور میں رونا نہیں چاہتی تھی ،مجھے لگتا ہے روتے آپ تب ہیں جب آپ کے پاس کوئی راستہ ، کوئی آپشن باقی نہیں بچتا اور میں رو کر اپنے آپ کو یہ یقین دلانا نہیں چاہتی تھی کہ عبداللہ کی سلامتی کے ساتھ واپسی کے تمام راستے میری نظر میں ختم ہو چکے ہیں، لیکن اس گھڑی کو دیکھ کر سارے دن کے ضبط کئے ہوئے آنسوؤں نے بغاوت کردی۔رات گہری ہو نا شروع ہوئی تو گھر آہستہ آہستہ مہمانوں سے خالی ہونے لگا،گھر کا ہر فرد اب خاموش تھا، اپنی اپنی جگہ ہر کوئی اندیشوں کا شکار تھا سب دل ہی دل میں دعا گو تھے ، میں نے پہلی دفعہ زندگی میں بے بسی کی انتہا کو سمجھا وہ انتہا جہاں الفاظ دم توڑ دیتے ہیں۔

’’ بھابھی ۔۔!! دروازہ کھولیں ، عبداللہ بھائی کا میسج آیا ہے‘‘، رات کے تقریباََ ایک بجے تھے جب میری چھوٹی نندکی خوشی سے چیختی آواز سنائی دی، میں جو موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے اپنی شادی کی تصویریں دیکھ رہی تھی ایک دم باہر نکلی، لاؤنج میں جیسے زندگی دوڑ رہی تھی، سب گھر والے اپنے کمروں سے باہر تھے، ہر کوئی جاننا چاہتا تھا میسج میں کیا لکھا ہے، ( یہ الگ بات ہے کہ اس وقت میں ذرا ناراضگی محسوس کر نے لگی تھی یہ سوچ کرکہ:’’ اچھا۔۔۔ اپنے بھائی کو میسج کیا اور مجھے بھول گئے ،آجائیں گھر پھر بتاتی ہوں‘‘) اتنے میں میرے ہاتھ میں دبا فون عبداللہ کے لئے مخصوص کی ہوئی رنگ ٹون کے ساتھ بج اٹھا، میں اپنے شوہر کی آواز سن رہی تھی بیس گھنٹے بعد ’’ مجھے چھوڑ دیا ہے، میں آرہا ہوں، رکشے میں ہوں‘‘،انتہائی تکلیف دہ، اذیت ناک، بے بس، امید و یاس کے درمیان گزرے بیس گھنٹوں کے بعد یہ آواز ہم سب گھر والوں کے لئے زندگی کا پیغام لائی تھی۔

سننے میں یہ صرف بیس گھنٹے تھے لیکن سہنے میں یہ بیس صدیاں تھیں جو ایک پورے خاندان نے ایک ’’نامعلوم غلط فہمی‘‘ کی پاداش میں گزاریں۔میں آج بھی ان بیس گھنٹوں کو سوچتی ہوں تودل شکر سے بھر جاتا اس رب کے لئے جس نے اس آزمائش کو چند گھنٹوں میں ٹال دیا لیکن دوسری طرف روح کانپ اٹھتی ہے اور رواں رواں دعاگو ہو جاتا ہے پاکستان کے ان سینکڑوں ہزاروں خاندانوں کے لئے جنکی زندگیوں میں یہ بیس گھنٹے آئے اور آکر ٹھہر گئے،ان ماؤں بہنوں بیویوں کے لئے جو آج بھی ہر روز منتظر آنکھوں سے کھلے دروازوں کو تکتی ہوں گی،ضعیف باپوں کی ان نظروں کیلئے جو ہر آئے گئے سے سوال کرتی ہیں کہ کیا ہمارا یہ حق بھی نہ تھا کہ ہمیں بتایا جاتا کہ کس جرم میں کیوں اور کہاں لے جایا جارہا ہے ہمارے بڑھاپے کے سہاروں کو؟؟۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان منتظر نگاہوں کی ٹھنڈک کا سامان کرئے اور ان کے انتظار کی گھڑیوں کو مختصر کر دے ۔دوسری طرف مقتدرہ حلقوں سے گزارش ہے کہ آپ کا یہ جان لیوا طریقہ کار اس ملک کو محب وطن لوگوں کی کھیپ تو شاید نہ دے سکے البتہ اپنی مٹی سے بیزار، باغی اور اپنے اداروں سے بدگمان نسل ضرور دے سکتا ہے لہٰذا خدارااپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کیجئے۔

مصنفہ صحافی ہیں اور اپنے شوہر صحافی عبداللہ ظفر کی گمشدگی کی صورتحال بیان کررہی ہے۔

تصویر: بشکریہ گوگل

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -