پاکستان: سیفٹی ہب خطرے سے دوچار صحافیوں کے لیے مدد

پاکستان: سیفٹی ہب خطرے سے دوچار صحافیوں کے لیے  مدد

عالیہ افتخار

سی پی جے ریسرچ ایسوسیٹ

جب صحافی غلام مصطفی کو مجرمانہ گروہ کی طرف سے دھمکی آمیز پیغامات وصول ہونا شروع ہوئے تو اس کے پاس جیو نیوز چھوڑ دینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ مصطفی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ تین سال تک خاموش رہنا اس کی حفاظت کے لیے ایک مفید فیصلہ تھا اور وہ اس بات کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ”میرے لیے کافی تعجب کی بات تھی کہ میں کام نہیں کر رہا تھا۔ میں کافی پریشان بھی تھا اور کافی سال میں نے اسی پریشانی میں گزارے۔”

 خوش قسمتی سے پاکستان میں وہ صحافی جو دھمکیوں اور حملوں کا شکار بنتے ہیں ان کے لیے سیفٹی ہب بنائیے گئے ہیں تاکہ انہیں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنا کام نہ چھوڑنا پڑے۔ پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب کراچی کے مینجر ہونے کی حیثیت سے غلام مصطفی اپنے تجربات کی بنیاد پر اپنے ساتھیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

یہ سیفٹی ہب اقبال خٹک کی سوچ کا نتیجہ ہیں جنہوں نے 2015 میں فریڈم نیٹ ورک کی بنیاد رکھی تھی۔ صحافت پاکستان میں ایک خطرناک کھیل ہے اور صحافیوں کی جانوں کو عسکریت پسند گروپوں، سیاسی جماعتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اداروں کی وجہ سے خطرہ لاحق ہوتے ہیں۔ 1992 سے آج تک 60 صحافی اپنا کام سرانجام دیتے ہوِئے مارے جا چکے ہیں۔

سیفٹی ہب اس ملک کے کئی شہروں میں بنائے گئے ہیں تاکہ وہ مشکلات میں پھنسے صحافیوں کی مدد کر سکیں اور کسی بھی علاقے میں صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کا بخوبی طور پر جائزہ لے سکیں۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ان سیفٹی ہبز کا قبائلی علاقوں میں فل الحال کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اقبال خٹک کے بقول یہ نیٹ ورک ان علاقوں میں مقیم صحافیوں کو بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کیونکہ ان ہبز میں علاقائی پریس کلب کے ممبر ہوتے ہیں، اس لیے وہ ہی ان علاقوں میں آنے والی دھمکیوں کا جواب دیتے ہیں۔

کراچی میں پچھلے سال مصطفی نے اس نیٹ ورک کی مدد سے ایک ٹی وی رپورٹر کو مدد فراہم کی جسے سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی حراست میں رکھا ہوا تھا۔ سیفٹی ممبر کو جیسے ہی اس صحافی کے بارے میں پتہ چلا انہوں نے حکام سے بات چیت کی اور ایک گھنٹے میں صحافی کو ناصرف رہا کر دیا گیا بلکہ سکیورٹی فورس نے بعد میں معافی بھی مانگی۔

فریڈم نیٹ ورک ناصرف مشکل میں مبتلا صحافیوں کی مدد کرتی ہے بلکہ ہر ماہ پریس کی آزادی کی خلاف ورزیوں پر ایک رپورٹ بھی شائع کرتی ہے جس میں ان خلاف ورزی کے نتیجے میں جو سرگرمیاں کی گئی ہیں ان کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر عوام کو آگاہی دیتی ہے۔ ہر دی گئی دھمکی جو رپورٹ کی جاتی ہے اس کی معلومات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ادارہ اس صحافی کو مختلف آپشن دینے پر غور کرتا ہے جن میں فوری منتقلی، ثالثی، علاقائی حکومتی حکام سے بات چیت شامل ہیں۔

 مصطفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ فریڈم نیٹ ورک ان صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیوں کا بھی جائزہ لیتی ہے جن سے ان کی جان کو فوری طور پر خطرہ لاحق ہو اور اس وجہ سے حکومت، سیاسی جماعتوں، ایڈیٹر اور پولیس سے بات چیت کرتی ہے تاکہ ان صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ جون میں سیفٹی ہب کے پشاور مرکز نے  صحافیوں کی ایک یونین منعقد کی جس میں ان کے ساتھ مل کر تربیت کروائی گئی۔

اس کے علاوہ اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر قانون سازی کی جائے تاکہ ہر صوبے میں ہر صحافی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ”صحافیوں کا تحفظ ایک قومی ایجنڈا بن چکا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اس وقت ہم وفاقی اور صوبائی طور پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے تجویز کیے گئے قانون پر عمل کروانے کے کافی قریب ہیں۔ ہم حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کا ذمہ دار بنانے والے ہیں۔”

یہ قانون ان صحافیوں کے لیے مفید ثابت ہوگا جو مذہب سے منسلک خبریں دیتے ہیں۔ ایکپریس ٹربیون کے رپورٹر رانا تنویر کو مجبوراً اپنا گھر چھوڑنا پڑا جب انہیں ناصرف دھمکیاں موصول ہوئیں بلکہ انہیں لاہور میں جون میں ایک ٹریفک حادثے میں زخمی کیا گیا۔ حادثے میں ٹانگ ٹوٹنے کے بعد رانا کا کہنا تھا کہ یہ ان کی جان پر حملہ تھا۔

پولیس اس معاملے میں تفتیش کر رہی ہے لیکن رانا کا ماننا ہے کہ پولیس نے اس بات پر کوئی عمل نہیں کیا جب رانا کے مکان کی دیواروں پر دھمکی آمیز عبارت لکھی جا رہی تھی۔ تنویر نے اقبال خٹک کا شکر ادا کیا کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں اسے یاد کیا لیکن رانا کا ماننا ہے کہ علاقائی پریس اداروں نے اس کے کیس میں خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ رانا مذہبی اقلیتوں سے متعلق رپورٹنگ کرتا ہے۔  اس وجہ سے رانا کے گھر کی دیواروں پر اسے ”دشمنِ اسلام” قرار دے دیا گیا۔

اقبال خٹک کا ماننا ہے کہ آج کل پریس کی آزادی کو دبوچنے کا ایک طریقہ صحافیوں کو ” اسلام مخالف” ٹھرا دینے سے ہے۔  ان کا یہ کہنا تھا کہ اب سے سیفٹی ہب سائبر جرم پر بھی کڑی نظر رکھے گا اور ان کا ماننا ہے کہ صحافی برادری کو انٹرنیٹ آزادی کو ایک سنجیدہ معاملہ قرار دے دینا چاہیے۔

 یہ فیچرسب سے پہلے سی پی جے  کے ویب سایٹ پر چھپا۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -