“بابا اخبار کا کام چھوڑ دو”

“بابا اخبار کا کام چھوڑ دو”

اخلاق حسین جوکھیو، آج کل مدیر، ہفت روزہ ساہتی آواز، نوشہرو فیروز، سندھ ہیں۔ اس سے قبل اپنی طویل صحافتی زندگی میں کراچی میں بھی صحافت کرچکے ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کے کراچی ہب مینجر غلام مصطفی نے ان سے سندھ خصوصا اندرون سندھ صحافیوں کو درپیش سکیورٹی ۔۔۔۔۔مسائل پر بات کی

          سوال: اندرون سندھ صحافیوں کے تحفظ کی کیا صورتحال ہے؟ یہاں کے صحافیوں کو کس قسم کی دھمکیاں ملتی ہیں؟

اخلاق جوکھیو: تحفظ کے حوالے سے پاکستان کا غریب سے غریب اور امیر سے امیر تر طبقہ عدم تحفظ کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس ماحول میں صحافی کے تحفظ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جہاں خود “محافظ” عدم تحفظ کا شکار ہوں وہاں صحافیوں کے تحفظ کا کیا حال ہوگا ؟ اندرون سندھ کے صحافی دنیا کے غیر محفوظ ترین لوگ بن گئے ہیں جہاں ان کی جان ومال اور عزت کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں۔ اندرون سندھ میں انگریز کا پیدا کردہ جاگیردارانہ نظام تو ختم ہوچکا لیکن وہ سوچ ختم نہیں ہوسکی۔ اب پاکستان کے پیدا کردہ سیاسی جاگیردار اور نودولتیے پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور سندھ کو چھوٹی چھوٹی جغرافیائی حدبندیوں اور سیاسی جاگیروں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ملک اور عوام کا مستقبل ان کے موڈ اور مزاج کے رحم وکرم پر ہے۔ یہ نئے جاگیردار اور وڈیرے سماج کے مجموعی اقدار اور اخلاقیات پر زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہوتے اور قانون سے بالا تر بھی ہوتے ہیں۔ یہ سچ سننے کے کبھی عادی نہیں ہوتے۔ جو صحافی سچ لکھتے ہیں اُن کی خانگی غُنڈوں کے ہاتھوں عزت و آبرو محفوظ نہیں رہتی۔ سرکاری مشینری کے ذریعہ انتقامی کارروائیاں اور جھوٹے مقدمات میں ان صحافیوں کو پھنسایا جاتا ہے، جبکہ ان کے اعزاء واقربا پر جینا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس خطرناک صورتحال کے پیش نظر اندرون سندھ میں اندھیر نگری جوپٹ راج کا مصداق سچ نظر آتا ہے۔ میں نے 20سال کراچی اور حیدرآباد کے بڑے صحافتی اداروں میں کام کیا ہے وہاں بیٹھ کر ان زمینداروں اور وڈیروں کے خلاف لکھنا آسان کام تھا اور ہے جبکہ اندرون سندھ میں رہ کر ان کے خلاف لکھنا انتہائی مشکل بلکہ بعض حالات میں ناممکن بن جاتا ہے۔ میں تعمیر سندھ اخبار کا بانی مدیر سمیت کئی اخبارات وجرائد کا ایڈیٹر رہا۔ وہاں میں نے زمینداروں، جاگیرداروں اور سیاسی وڈیروں کے ظلم ناانصافیوں کے خلاف کھل کر لکھا۔ وہاں کبھی ششماہی طور پر کوئی قانونی نوٹس یا کیس کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مجھے محراب پور میں ہفت روزہ ساھتی آواز کے اجراء کے بعد صرف دو ھزار چودہ میں تیس سے زیادہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر گذشتہ چار سالوں میں مجھے اور میرے رفقاء کو 54 کیسز کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے کئی کیس اس وقت بھی مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو صورتحال اندرون سندھ میں ہے وہ شاید پاکستان کے دیگر صوبوں میں ہرگز نہ ہو۔

ہمارے اس معاشرے میں جہاں چھوٹی چھوٹی گوٹھیں (گاؤں) آباد ہیں وہاں پر اپنی وڈیرپ قائم رکھنے کے لیے چوریاں کروائی جاتی ہیں۔ دو سال قبل میرے چھ سالہ بیٹے کونصف گھنٹہ اغواء کرنے کے بعد یہ کہہ کر گھر پہنچایا گیا کہ اپنے ابو کو سلام کہہ دینا۔ گویا یہ مجھے ڈرانے کا معروف سندھ کا مقولہ اور حوالہ ہے۔ میری اور میرے خاندان کے لوگوں کی چوریاں بھی کروائی گئیں۔ ہمارے گھروں پر ہراساں کرنے کے لیے پولیس کے چھاپے لگوائے گئے اور ہمارے اخبار کو اشتہار دینے والوں کو ہراساں کرکے ہمارا معاشی قتل کیا گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہمارے لیے عدالتوں سے سزائیں لی گئیں۔ گویا ہر وہ حربہ اختیار کیا گیا جس کے نتیجہ میں خوف یا مالی نقصان کے لالچ میں مبتلاء ہوکر اپنے ضمیر کے خلاف لکھنے پر مجبور ہو جائیں۔ ہمارے ساتھ یہ حشر دیکھ کر صحافیوں کی اکثریت بہت دور ہوگئی کیونکہ اندرون سندھ میں پروفیشنل صحافی نہیں بلکہ یہاں صحافی آپشنل ہیں۔ یہاں اکثر صحافی سرکاری ملازمین ہیں جو زمینداروں، وڈیروں اورسیاسی پنڈتوں کے ساتھ مزاحمت کی پالیسی کو اختیار نہیں کرسکتے۔ لیکن جو مزاحمت کی جرات رکھتے ہیں انہیں اپنے صحافتی اداروں کی امداد و حمایت کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے یہاں حق اور سچ لکھنے والی قوت استعداد انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جو صحافی اپنی قلم کے ذریعے مزاحمت کا راستہ اختیار کر تا ہے اسے بیوقوف اور پاگل تصور کیا جا تا ہے۔

          سوال :  آپ نے چار ماہ کا عرصہ سکھر سینٹرل جیل میں گزارا، اُس دوران آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

          اخلاق جو کھیو: صحافت کے دورا ن جیل جانے کا میرا یہ تیسرا تجربہ تھا۔ پہلی مرتبہ جون 2001 میں مجھے قتل کے جھوٹے مقدمہ میں سینٹرل جیل حیدرآباد بھیجا گیا جہاں میں نے 23 ماہ تک قید وبند کی صعوبتیں برادشت کیں۔ دوسری بار 2005 میں حیدرآباد میں ہی نارا ڈسٹرکٹ جیل میں بھیجا گیا اُس وقت مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ میں نے شراب پی کر تیزرفتاری سے گاڑی چلائی اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کی۔ جبکہ مجھے تادم تحریر ڈرائیونگ نہیں آتی۔ اس الزام میں تین ماہ تک نارا جیل میں رہا۔ تیسری بار رواں سال جنوری 2017میں بھتہ لینے کے جھوٹے الزام میں سینٹرل جیل سکھر میں چار ماہ تک قید وبندکی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے مجھ پر بھتہ لینے کا الزام عدالتی فیصلہ کے مطابق ثابت نہیں ہوا تاہم مجھے اور میرے ساتھی کو سات سال کی مجموعی سزا سُنائی گئی۔ اس کے علاوہ جو شخص جیل جاتا ہے وہ اکیلا سزا نہیں کاٹتا بلکہ اُس کا پورا خاندان اور عزیز واقربا بھی نہ صرف سزا سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورا خاندان غیرمحفوظ زندگی گزارتا ہے۔ میرے ساتھ ایک واقعہ سکھر جیل میں روہ نما ہوا جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جب میں جیل میں تھا تو میرا آٹھ سالہ بیٹا سندھیاچ اور چھ سالہ بیٹی بھگتی حسین مجھ سے ملنے آئے تو اُن کے چہروں پر عدم تحفظ او ر خوف کا احساس نمایاں تھا۔ میں نے اپنے بیٹے کو پیار کیا اور پوچھا کہ کیسے ہو تو اُس نے مجھے بےساختہ جواب دیا کہ بابا یہ کام چھوڑ دو تو میں نے پوچھا کہ کونسا کام ؟تو میرے بیٹے نے بے ساختہ کہا کہ اخبار کا کام چھوڑ دو! تو میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ آپ کو یہ بات کس نے سکھائی اور پڑھائی ہے؟ تو اُس بچے نے بے ساختہ اپنی چھوٹی بہن بھگتی حسین کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے دوبارہ اپنے بیٹے سے پوچھا اب میں کیا کام کروں؟ اُس سے کہا کہ میں بھلا بندوق اُٹھا لوں؟ تو میرا یہ جواب سن کر میرے معصوم بیٹے کے چہر ے پر خوف اور عدم تحفظ کے احساسات و تاثرات فوراً ختم ہوگئے اور اُس نے بےساختہ یہ کہا ہاں بابا یہ کام کرلو۔ یہ بات آج بھی مجھے یاد آتی ہے تو میں رنجیدہ ہو جاتا ہوں اور بوجھل دل کے ساتھ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ ایک قلم کار/صحافی کی اولاد عدم تحفظ کی بنیاد پر کن سوچ کی حامل بن رہی ہے۔

          سوال:  کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں پر حکومتی ردِعمل مناسب ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ کے خیال میں حکومت سندھ اور مقامی انتظامیہ خطرات کم کرنے کے لیے کیا اقدامات اُٹھا سکتی ہے؟

          اخلاق جو کھیو: صحافیوں کو دھمکیاں دینے یا انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے والے لوگ خود ہر دور میں حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی وڈیرا سیاسی پنڈت سرکاری ملازم (آفیسر) ناراض ہوجاتے ہیں تو سرکاری مشینری ان کے ہاتھوں اس حد تک مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ ان سب کے علاوہ عدالتوں اور بار تک کو بھی اپنے اثر رسوخ میں لے کر حصول انصاف کے سارے راستے بظاہر بند کردیتے ہیں۔ اس بناء پر فوری طور پر کہیں سے بھی انصاف نہیں ملتا جس کے لیے لازم ہے کہ حکومت، حکومتی ادارے اور مقامی انتظامیہ کو ان وڈیروں اور سیاسی پنڈتوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں ایک ایسا خود مختاراور غیر جانب دار اداراہ تشکیل دیا جائے جو صحافیوں کے خلاف ہونے والی ذیادتیوں کی تفتیش، تحقیق اور داد رسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا پورا ریکارڈ بھی مرتب کرے اور صحافیوں کو بھی اس میں نمائندگی دی جائے۔

          سوال: صحافی اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پریس کلب اور صحافتی یونین کیا کردار ادا کرسکتی ہیں؟ کیا وہ یہ ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو اس بارے میں پریس کلب اور یونین کی کیا اہم کمزوریاں ہیں؟

          اخلاق جوکھیو: اندرون سندھ میں پریس کلب کا کوئی موثر کردار نہیں۔ میں اپنے 25سالہ صحافتی زندگی میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوشہرو فیروز یا محراب پور کہیں بھی پریس کلب کا ممبر نہیں رہا۔ صحافیوں میں ایک مُراعات یافتہ طبقہ پریس کلبوں پر قابض ہے۔ اسی طرح صحافیوں کے گروہ اور ٹولے ہیں جو صرف اور صرف اپنی ذاتی مفاد ات کے لیے صحافت کے پیشہ کو اختیار کرتے ہیں جبکہ صحافت اور صحافی کے اجتماعی مفادات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بڑے اداروں میں کام کرنے والے صحافی بیگار کیمپوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ صحافتی دنیا میں صحافی وہ مظلوم مخلوق ہے جو دوسروں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف تو زوردار آواز اُٹھاتا ہے لیکن اپنے اداروں کے مالکان اور صحافیوں کی جانب سے خود اپنے اوپر روا رکھی جانے والی ناانصافی، زیادتی اور کبھی کبھار ظالمانہ رویہ کے خلاف کہیں اور کسی فورم پر احتجاج نہیں کرسکتا۔ میں اسے صحافیوں کے ساتھ امتیازی سلوک قراردوں گا۔ بدقسمتی سے یہاں کوئی صحافتی اصول وضوابط پر کام کرنے کے لیے تیا ر نہیں۔ اگر کوئی صحافی اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے تو مالکان کی جانب سے کھڑے کھڑے بے روزگاری کا پروانہ ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے۔ اس خطر ناک صورتحال کی بناء پر آج تک جتنے بھی ویج بورڈایوارڈز کا حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا اُن پر اخباری مالکان نے کبھی عمل نہیں کیا۔ یہ صورتحال بڑے اداروں میں کام کرنے والے پروفیشنل صحافیوں کی ہے تو اندرون سندھ میں آپشنل صحافیوں کی حالت کیا ہوگی۔ جن کو اُن کے ادارے خدمات کے عوض کچھ بھی اعزازیہ نہیں دیتے بلکہ اُلٹا اداروں میں بیٹھے ہوئے سینئرز مختلف قیمتی فرمائیشیں اُن پر مسلط کرکے نمائندگی سے بھاگنے پر مجبور کردیتے ہیں یا غلط کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس خطرناک صورتحال کی بنیاد پر اندرون سندھ میں کام کرنے والے صحافیوں/نمائندوں میں اخلاقی اقدار، اصول یا اجتماعی سوچ کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟ اس صورتحال میں انفرادی ذاتی اور مفادات پر مبنی سوچ کا پیدا ہونا اور پروان چڑھنا ہی ممکن ہے۔ میرے خیال کے مطابق ایک شہر میں کئی پریس کلبوں کا قائم ہونا بھی اسی بیماری کی نشاندہی کرتا ہے۔ میرے خیال میں مستقبل قریب میں بھی پریس کلب کوئی معیاری اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکتے جبکہ صحافتی تنظیمیں کچھ بہتر کام کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور انہوں نے کئی اچھے، مثبت اور صحافیوں میں نئی جان پھونکنے والے اقدامات اور فیصلے کیے ہیں جس کے نتیجہ میں ہمیں اپنی توانائیاں صحافتی تنظیموں کو موئثر اور مضبوط بنانے کی جانب مرکوز کرنی چاہیئیں۔ خود میرے کیس میں پہلی مرتبہ لالا اسد پٹھان اور PFUJاورProtect to  جرنلسٹ سیفٹی ہب کے غلام مصطفی نے موئثر کردار ادا کیا اور انہوں نے میری ضمانت کرانے یا جیل میں سہولیات فراہم کرنے کے حوالہ سے قابل قدر کاوشیں اور کوششیں بھی کیں۔ میری مالی معاونت بھی کی گئی۔ میرے کیس کو ایمنیسٹی انٹرنیشنل تک بھی پہنچایا گیا۔ اہم حکومتی اداروں تک بھی میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کو اُجاگر کیا گیا جس پر میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔

          سوال: صحافی اور اُن کی نمائندہ تنظیمیں وہ کونسے اہم اقدامات ہیں جو وہ اُٹھا کر جو خطرات کم یا ختم کر سکتے ہیں؟

           اخلاق جوکھیو: صحافتی تنظیمیں جو کچھ کر رہی ہیں وہ کافی نہ سہی لیکن بہتری کی جانب اچھے اقدامات کی جانب گامزن ضرور ہیں۔ ان صحافی تنظیموں کو مزید بہتر اور موئثر بنانے کی جانب پوری توجہ دینی چاہیے۔ انہیں صحافیوں کا پورا ریکارڈ بھی جمع کرنا چاہیے۔  ان تنظیمات کو وٹس ایپ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے گروپس بنانے چاہیے تاکہ فوری طور پر مسائل سے آگاہی مل سکے اور مدد کے لیے بھی رابطہ آسان ہوجائے۔ اسی طرح ہر مقام پر صحافتی تنظیموں کو بہتر اور موئثر بنانے کے لیے تنظیم سازی کے لیے فوری توجہ دینی چاہیے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی کام فنڈز  کرنے ہے۔ جو تنظیمیں اس وقت تک کام کر رہی ہیں میں اُن کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

          سوال: جرنلسٹ سیفٹی ہب سندھ، صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کو رپورٹ کرنے اور ریکارڈ رکھنے اور مدد کرنے کی ذمہ داریاں کیسے پوری کر رہا ہے تاکہ مناسب ردِ عمل تیار کیا جاسکے؟ سیفٹی ہب اس بابت مزید کیا کرسکتے ہیں؟

اخلاق جوکھیو: سیفٹی ہب سندھ میں خطرات سے دوچار صحافیوں کے لیے انتہائی اہم خدمات  انجام دے رہا ہے۔ میں جب سکھر جیل میں تھا، تو سیفٹی ہب کے نمائندے مجھ سے جیل میں ملنے آئے،   جیل انتطامیہ سے مل کر جیل میں میرے مسائل کم کرنے میں مدد کی اور پھر ضمانت کے بعد میرے مقدمات میں مجھے قانونی امداد مہیا کی۔ یہ مصیبت میں پھنسے ایک صحافی کے لیے بہت بڑا سہارا  ہے۔ خاص طور پر زندگیوں کو خطرات والے صحافیوں کے لیے اس کا ریلوکیشن پروگرام، لیگل ایڈ، میڈیکل ایڈ اور لائن آف ڈیوٹی میں  اپنی زندگیوں  کو گنوانے والے صحافیوں کی بیوہ اور بچوں  کے لیے مالی امداد کا پیکیج بہت اہم ہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر ماہانہ بنیاد پر ڈیٹا ریکارڈنگ کا کام ہے۔ صحافیوں کو خطرات کے حوالے سے یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ دنیا بھر کا ڈیٹا اکھٹا کرنے والوں  کا اب تک اپنا کوئی ڈیٹا نہیں تھا۔ لیکن سیفٹی ہب نے یہ کام اپنے سر لے کر صحافیوں کے لیے ایک بہت بڑا حسان کیا ہے۔ اس کی اردو اور انگریزی  زبان کی ویب سائٹس صحافی برادی میں خطرات سے آگاہی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ تاہم ابھی اندورن سندھ کے صحافیوں کو اس کام سے مکمل آگاہی نہیں ہے۔ اس مقصد ک لیے مسلسل رابطے، تربیت اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -