قبائلی علاقے: سکیورٹی خدشات، پیشہ ورانہ رپورٹنگ میں رکاوٹیں

قبائلی علاقے: سکیورٹی خدشات، پیشہ ورانہ رپورٹنگ میں رکاوٹیں

خیال مت شاہ آفریدی

فاٹا میں بالعموم اور خیبر ایجنسی میں بالخصوص سکیورٹی مسائل کے باعث قبائلی صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے میں فاٹا میں رپورٹنگ کرنا اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالنا انتہائی پرخطر کام ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پر کسی حد تک قابو پایا جاسکا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کئی ایسے خطرات موجود ہیں جن کی وجہ سے فاٹا میں آزادانہ رپورٹنگ بہت مشکل ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں میڈیا کا کردار سب سے زیادہ ضروری ہونا چاہیے کیونکہ قبائلی عوام کو بھی میڈیا کی اہمیت کا احساس ہے۔ عوام حکومتی اداروں کے بعد میڈیا ہی کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔ اکثر مواقع پر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ میڈیا والے کیوں حقائق چھپاتے ہیں؟ لیکن ہم لاجواب اس لیے ہیں کہ بعض حقائق کو سامنے لانے سے ہمیں جان کا خطرہ ہے۔ فاٹا کے ایک سینئر اور تحقیقاتی صحافی اسلام گل آفریدی سے جب سوال کیا کہ قبائلی صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کیا مشکلات درپیش ہیں اور انہیں سکیورٹی کے حوالے سے کیا خدشات ہے تو ان کہنا تھا کہ جہاں فاٹا کے عوام کوبنیادی ضروریات اور مسائل کا سامنا ہے وہاں صحافیوں کی آذادانہ رپورٹنگ اور معلومات تک رسائی ناممکن ہے۔ ”یہاں خصوصی طور پر خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان کے دورافتادہ علاقے قابل ذکر ہیں جہاں حال ہی میں چودہ اگست کے جشن آزادی کے موقع پر بھی قبائلی مقامی صحافیوں کو میران شاہ اور دیگر دیہاتی علاقوں میں کوریج کی اجازت نہیں ملی اور انہیں روک کر متنبہ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے این او سی لینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں معلومات تک رسائی میں کتنی آذادی ہے اور ایک صحافی پر کتنی پابندیاں ہیں ان سوالات کے جوابات ان صحافیوں کو خود مل جائے گا جب وہ یہاں آکر خود ان حالات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے حال ہی میں پاڑہ چنار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش دھماکے نے صحافیوں کے لیے حالات مکمل طور پر تبدیل کر دیے ہیں۔ ”اس واقعے کی پاداش میں فاٹا سکریٹریٹ نے غیرمقامی صحافیوں کی وہاں جانے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنے کا نوٹفیکیشن بھی جاری کیا ہے۔ اب ملک بھر سے کوئی بھی صحافی این او سی کے بغیر پاڑہ چنار نہیں جا سکتا ہے۔

ایک رپورٹر کے لیے ریاستی ادارے ہی سب سے زیادہ مشکلات پیدا کر رہ ہیں۔ ”یہ لوگ میڈیا کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ فاٹا کے تمام حکومتی معاملات سے منسلک فاٹا سکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل میڈیا کا موجودہ حالات میں کیا کردار ہے؟ اس اہم پوسٹ پر کنٹریکٹ یا میڈیا سے بےخبر افسران کو تعینات کرنا ہی ریاستی اداروں کا غیر ذمہ درانہ اقدام ہے۔

فاٹا کے ایک اور سینئر صحافی اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شیر خان آفریدی نے کہا کہ فاٹا میں اس وقت 270 سے زائد قبائلی صحافی موجود ہیں جن میں سے 14 شہید ہو چکے ہیں جبکہ کئی زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جس طرح فاٹا کے لوگ اس جنگ میں متاثر ہوئے اسی طرح صحافی برادری کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ”ہمارے مکانات مسمار کئے گئے ہمارے ساتھی شہید کئے گئے لیکن ابھی تک نہ ریاستی اداروں نے قبائلی صحافیوں کا اذالہ کیا ہے اور نہ ملکی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے کوئی خاطر خواہ مدد کی ہے۔ شہید قبائلی صحافیوں کے بچے آج بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان کی تعلیم و صحت کا کوئی سبب نہیں بنا۔”

پشاور کے بندوبستی علاقے کے چند کلومیٹر فاصلے پر خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں بھی صحافیوں کو آزادنہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں مختلف سکیورٹی چیک پوسٹ پر صحافیوں کی سخت چھان بین اور چیکنگ ایک معمول بن گیا ہے۔ یہاں مقامی صحافیوں کی کی ہر خبر اور مقامی لوگوں کے ساتھ ان کی نقل و حرکت پر سکیورٹی ادارے کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مرضی کے بغیر کوئی بھی خبر نشر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

فاٹا میں بعض انتظامی اور ترقیاتی اداروں میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ یہی انتظامی ادارے رپورٹنگ کا راستہ روکنے کے لیے صحافیوں کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فاٹا میں منشیات کے کاروباری  لوگوں کے خلاف خبریں اور ممنوعہ سامان کی سمگلنگ جیسی خبروں کی اصل حقائق تک پہنچنے میں مقامی رپورٹرز آزادی سے رپورٹنگ نہیں کرسکتے ہیں۔

فاٹا میں حکومت آزادانہ رپورٹنگ کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرے۔ اس میں سکیورٹی اداروں اور دیگر انتظامی اور ترقیاتی اداروں کو پابند بنایا جائے کہ معلومات تک رسائی میں مذکورہ ادارے ایک رپورٹر کی راہ میں روکاوٹ نہ بنیں۔ فاٹا میں بندوبستی علاقوں کی طرح پمرا ایکٹ کی توسیع سے بھی شاید حالات بہتر ہونے کا امکان ہے۔

خیال مت شاہ آفریدی قبایلی صحافی ہیں خیبر ایجنسی کے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -